ارتداد کا مقابلہ اور اس دور میں اس کا مصداق

    حضرت مولانا محمد یوسف لد ھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، ذَالِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (المائدہ:54)
ترجمہ:۔۔۔ اے ایمان والو ! جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے تو اﷲ تعا لیٰ بہت جلد ایسی قوم پیدا کر دے گا جس سے اﷲ تعا لیٰ کو محبت ہو گی اور ان کو اﷲ تعا لیٰ سے محبت ہو گی۔مہربان ہونگے وہ مسلمانوں پر اور تیز ہونگے کافروں پر ۔ جہاد کر تے ہوں گے اﷲ کی راہ میں اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے ۔یہ اﷲ تعا لیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیںعطا ء فر مائیں اور اﷲ تعا لیٰ بڑے وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں ۔
یہ آیت شریفہ سورۃ المائدہ کی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیش گوئی فرمائی ہے اس اُمت میں فتنۂ ارتداد کے ظاہر ہونے کی صرف پیش گوئی ہی نہیں فرمائی بلکہ حق تعالیٰ شانہ نے ان مرتدین کے مقابلہ میں ایک جماعت کو لانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔گویا ایک پیش گوئی ہے کہ اس اُمت میں مرتدین ظاہر ہوں گے، اور دوسری پیش گوئی اور وعدہ ہے کہ ان مرتدین کی سرکوبی اور ان کے مقابلے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو کھڑا کرے گا۔ پھر حق تعالیٰ شانہ نے مرتدین کا مقابلہ کرنے والی اس جماعت کی چھ صفتیں ذکر فرمائی ہیں:
مرتدین کا مقابلہ کرنے والی جماعت کے اوصاف:
1 ...........ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ: یُحِبُّھُمْ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرماتے ہوں گے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوں گے۔
2 ...........ان کی دوسری صفت یہ ذکر فرمائی کہ: وَیُحِبُّوْنَہٗ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے محب اور عاشق ہوں گے۔
3 ........... ان کی تیسری صفت ہوگی کہ: اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، مؤمنوں کے مقابلے میں اپنا سر نیچا کرکے رہیں گے۔ یعنی مؤمنوں کے مقابلے میں ذلیل بن کر رہیں گے۔
4 ........... ان کی چوتھی صفت یہ ہوگی کہ: اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِـرِیْنَ، کافروں کے مقابلے میں معزز اور سربلند ہوکر رہیں گے۔ یعنی ان کا سر نیچے کریں گے۔
5 ...........ان کی پانچویں صفت یہ ہوگی کہ: یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔
6 ........... ان کی چھٹی صفت یہ ہے کہ: وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
سب سے آخر میں فرمایا: ذَالِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔، یہ اللہ کا فضل ہے، وہ یہ فضل عطا فرمادیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا ہے کہ اس کے لئے عطا کرنا مشکل نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ علیم ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کو کون سی چیز دی جائے؟ یہ خلاصہ ہے اس آیت کا۔
یہاں پہلے ایک بات اور بھی سمجھ لیجئے! وہ یہ کہ جنگ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر قلعہ کو فتح کرے گا(مشکوٰۃ ص:563، باب مناقب علی بن ابی طالب)۔
صحابیؓ فرماتے ہیں کہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی اور کل آئی تو اس توقع پر تمام حضرات گردن اُونچی کرکے اپنے آپ کو نمایاں کر رہے تھے کہ یہ فضیلت مجھے ملے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے امیر بننے کو کبھی پسند نہیں کیا، سوائے اس دن کے۔امیر بننا مقصود نہیں تھا، بلکہ بارگاہِ نبوت سے جو خطاب ملا تھا، کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے، اس خطاب کو حاصل کرنا مقصود تھا۔اب صحابہ کرامؓ میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ آج یہ تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟ اور یہ تمغۂ فضیلت کس کو عطا کیا جائے گا؟ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یکایک فرمایا: علیؓ کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے خیمے میں ہیں، ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ فر مایا کہ ان کو لائو ۔حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر لایا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بٹھادیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ مبارک ان کی آنکھوں پر لگایا، تو اسی وقت ان کی ساری تکلیف دور ہوگئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: جاؤ اللہ کے نام سے جہاد کرو! اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے مقابلہ کرو۔ تو جس طرح حضرت علیؓ کے ہاتھوں میں جب تک جھنڈا نہیں دے دیا گیا، اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس ارشادِ نبویؐ: یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ (وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں) کے مصداق کا اعزاز و فضیلت کس کے حصے میں آتی ہے؟ ٹھیک اسی طرح جس وقت آیتِ شریفہ: یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ نازل ہوئی، تو اس وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ فضیلت اور یہ سعادت کس کے حصے میں آنے والی ہے؟ یہ تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟ اور محبت اور محبوبیت کا تمغہ کس کو عطا کیا جائے گا؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتنۂ ارتداد پھیلا، لوگ مرتد ہوئے اور انہی مرتدوں میں جھوٹے مدعیانِ نبوت بھی تھے، جن میں سرِ فہرست مسیلمہ کذاب تھاجس نے دعویٔ نبوت تو کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، مگر اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، نجد اور یمامہ پورا علاقہ مسیلمہ کذاب کے قبضے میں تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سب سے پہلے جو لشکر بھیجا گیا، وہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اللہ کی تلواروں میں سے ایک) اس لشکر کے سپہ سالار تھے، جب مسیلمہ سے مقابلہ ہوا تو بڑے بڑے قرأ صحابہ کرامؓ اس جہاد میں شہید ہوئے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ بھی شہید ہوئے۔
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بھیجے ہوئے لشکر نے ان مرتدین سے مقابلہ کیا تب پتہ چلا کہ یہ جھنڈا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا جانا تھا، اور ارشادِ الٰہی: یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ میں جو چھ صفات ذکر کی گئی تھیں، اس کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ہیں۔ اسی طرح یہ تمغہ جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، یہ بھی انہیں کے حصہ میں آیا۔
حضرت علیؓ کے بارے میں غزوۂ خیبر کی حدیث ذکر کی تھی، اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ: یُحِبُّ اﷲَوَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ یعنی جس شخص کو میں جھنڈا دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مگر یہاں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یُحِبُّھُمْ و َیُحِبُّوْنَہٗ اللہ ان سے محبت رکھے گا اور وہ اللہ سے محبت رکھیں گے۔ حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ: یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔
دوسری طرف مرتدوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو لانے کا وعدہ فرمایا، اس کے بارے میں فرمایا: یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ یعنی اللہ کو ان سے محبت ہے، اور ان کو اللہ سے محبت ہے۔ یہاں رسول اللہؐ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اللہ ہی کی محبت ہے، اور جس کو اللہ سے محبت ہوگی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت ہوگی، یہ لازم و ملزوم ہیں۔دوسرا فرق یہ ہے کہ حدیث میں حضرت علیؓ کی اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو پہلے ذکر فرمایا اور فرمایا کہ: وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اس کے بعد فرمایا گیا کہ: وَیُحِبُّہُ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ لیکن یہاں ترتیب الٹی ہے، یہاں اللہ کا ان سے محبت رکھنا پہلے ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے، گویا یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں: وَیُحِبُّوْنَہٗ اور وہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عاشق اور محبِ صادق بھی ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ایک ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں محبوب ہونا اور ایک ہے اللہ کا محب ہونا، حضرت علیؓ کے بارہ میں فرمایا کہ وہ محب پہلے ہیں اور محبوب بعد میں ہیں، اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارہ میں فرمایا کہ: وہ محبوب پہلے ہیں، اور محب بعد میں ہیں، کیا خیال ہے؟ دونوں کے درمیان میں فرق سمجھ میں آیا؟یہ تو ظاہر ہے جو اللہ کا محب ہوگا وہ حق تعالیٰ کا محبوب بھی ہوگا، اور جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوگا وہ محب بھی ہوگا، یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں لیکن زہے سعادت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقأ کی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبوبیت کا تمغہ پہلے دیا اور محب ہونے کا تمغہ بعد میںد یا، محبوب پہلے نمبر پر اور محب بعد میں۔
مرتدین کے مقابلہ میں آنے والی جماعت کی تیسری اور چوتھی صفت یہ ذکر فرمائی گئی تھی کہ: اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ اہل علم اور اربابِ مدارس علمأ جانتے ہیں کہ عزیز کا لفظ اُوپر کے لئے آتا ہے اور ذلیل کا لفظ نیچے کے لئے آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ اُوپر ہونے کے باوجود مؤمنوں کے سامنے سر جھکا کر رہیں گے، یعنی ان کی تواضع کا یہ عالم ہوگا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود، علم و فضل کے باوجود، اپنی محبوبیت اور محبت کے باوجود وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے ساتھ بھی نیچا ہوکر یعنی تواضع کرکے رہیں گے۔سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلیفۂ رسولؐ بننے کے بعد جو پہلا خطبہ دیا تھا، اس میں انہوں نے فرمایا تھا: لوگو! مجھے تمہارے معاملات کا والی بنادیا گیا ہے، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، اگر میں سیدھا چلوں تو میری مدد کرو اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کرو۔حضرت صدیق اکبرؓ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بعض بڑی بوڑھیوں کا پانی بھرکے دیا کرتے تھے، جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنادئیے گئے تو انہوں نے کہا کہ اب ہمارا پانی کون بھرا کرے گا؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: میں بھر دیا کروں گا، اب بھی بھر دوں گا! یہ تھی آپؓ کی تواضع، انکساری، عاجزی، نیازمندی اور مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو نیچا کرنا۔
یاد رکھو! جہاد تین قسم کا ہوتا ہے اول مال کے ساتھ جہاد ، دوم زبان و قلم سے جہاد ، سوم اگر ضرورت ہو تو بارگاہِ الٰہی میں جان کی قربانی پیش کردینا۔
اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے بندے تینوں قسم کے جہاد کے لئے تیارہیں، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگرچہ انہیں کوئی: سر پھرا کہے، کوئی: مذہبی جنونی کہے، اور کوئی: سیاسی اغراض و مقاصد کا طعنہ دے، کوئی کچھ کہے، کوئی کچھ کہے، بلکہ جس کے منہ میں جو آئے کہے، مگر وہ: وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ کے مصداق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور یہ ان کا کمال نہیں بلکہ: ذَالِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ یہ اللہ کا فضل ہے دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں۔ ہاں! یہ ہر ایک کو نہیں ملتا، یہ دولتِ عظمیٰ ہر ایک کو تھوڑی دیتے ہیں؟ وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ اللہ بڑی وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔
اس آیت کریمہ کے سب سے پہلے مصداق حضرت ابوبکرصدیقؓ اور ان کی جماعت کے حضرات تھے اور وہ چھ کی چھ صفات اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی ذات میں جمع کردی تھیں۔اس کے بعد بھی مختلف زمانوں میں ارتداد کے فتنے ظاہر ہوتے رہے، اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدے اور پیش گوئی کے مطابق ان مرتدین کے مقابلے میں بھی ایک ایک قوم کو لاتا رہا، مگر ان سب کے پہلے قائد، پیشوا اور امام حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے، بعد میں آنے والے سب کے سب ان کے پیچھے نیت باندھ کرکے کھڑے نظر آتے ہیں۔
زندگی کے دومیدان: آدمی اپنی زندگی میں جو محنت کرتا ہے، اس کے دومیدان ہیں۔
اول: ۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں دنیا کے لئے محنت کرنا، مثلاً: کسی کی پچاس، ساٹھ سال کی عمر تھی یا جتنی بھی مقدر تھی، وہ اس پوری کی پوری عمر میں دنیا کے لئے محنت کرتا رہا، لیکن جب وہ اس دنیا سے گیا تو سب کچھ یہاں چھوڑ گیا، اور خود خالی ہاتھ چلاگیا، ملازمتیں حاصل کیں، بڑے بڑے عہدے حاصل کئے، اُونچے اُونچے منصب حاصل کئے، اور اُونچی اُونچی پروازیں کیں، لیکن جاتے ہوئے کوئی چیز بھی ساتھ نہیں گئی، یہ ہے دنیا کی محنت ۔
دوم: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری محنت کا میدان یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کے لئے محنت کی جائے، پھر آخرت میں بہت سی چیزیں ہیں، لیکن سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ: یُحَبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ کا اعزازا حاصل ہوجائے، یعنی اللہ راضی ہوجائے اور ہم اللہ سے راضی ہوجائیں، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے بارہ میں فرمایا: رَضِیَ اﷲُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اللہ ان سے راضی، اور وہ اللہ سے راضی۔
ختم نبوت کے کام کا اجرو ثواب
ختم نبوت کا کام کرنا، قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے ان چھ انعامات کے ملنے کی سند اور ضمانت ہے، جو شخص چاہے وہ سرکاری افسر ہو یا عام آدمی، تاجر ہو یا مزدور، وکیل ہو یا جج، مُلَّا مولوی ہو یا مسٹر، غرض جو شخص بھی یہ چاہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بن جائے یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی معیت اور ان کی اقتدأ میں اس آیتِ شریفہ کی بشارت کا مستحق بن جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس زمانے میں غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کی ذریت خبیثہ کا مقابلہ کرے۔