تمام مسلمانوں کے نام ایک اہم پیغام

            پیغام یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفات کا طالب ہے وہ قادیانیوں کے مقابلے میں کھڑاہوجائے ۔ یاد رکھو اس وقت دو جماعتیں بن گئی ہیں۔ ایک مسلمان اور دوسرے قادیانی اور ان دونوں جماعتوں کے درمیان لکیر کھنچ گئی ہے۔ ادھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے اور ادھر قادیانی ملعون کی جماعت ہے، ایک طرف اصلی محمد رسول اللہ ، حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں دوسری طرف قادیان کا  دھوکے باز ہے۔

            اب آپ درمیان میں نہیں رہ سکتے، مہربانی کر کے ایک طرف ہوجائیے، آپ کو اگر ان کی منطق پسند ہے، یہ بات پسند ہے کہ ظفر اللہ خاں بہت بڑا بیرسٹر وکیل اور قانون دان تھا، آپ کو اس پر ناز ہے کہ عبدالسلام قادیانی بہت بڑا سائنسدان ہے اور آپ کو یہ خیال ہے، ایم ایم احمد بڑا بیوروکریٹ قسم کا آدمی ہے، ٹھیک ہے، آپ کو حق پہنچتا ہے آپ اس سے متاثر ہیں، پھر لائن کے اس طرف ہوجائیے اور اگر نہیں تو اس طرف آجائیے۔

            یہ آپ نہیں کرسکتے کہ ہم ان دونوں جماعتوں کے درمیان غیر جانبدار رہیں گے، خدا کی قسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ مرزا قادیانی کے ساتھ ہو اور دو جماعتیں الگ الگ ہوجائیں تو آپ غیر جانبدار رہ کر مسلمان رہ سکتے ہیں۔ درمیان میں ہونے یا غیر جانبدار رہنے کاکیا مطلب؟ مقابلہ میرا اور مرزا طاہر کا نہیں ہے بلکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرزا غلام احمدکے ساتھ ہے، اگر آپ اس مقابلہ میں غیرجانبدار رہنا چاہتے ہیں تو رہئیے! لیکن میں یہ کہوں گا کہ آپ قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شمار نہیں ہوں گے، کیونکہ آپ نے ایمان اور کفر کے معاملہ میں غیر جانبدار ہو کر اپنی مسلمانی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ یہ الفاظ سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں، جذبات میں نہیں کہہ رہا، اب آپ کو ایک طرف آنا پڑے گا، لا الی ہولاء ولا الی ہولاء جس کو قرآن کریم نے کہا، وہ منافقین کے بارے میں کہا ہے، کسی مسلمان کی شان نہیں ہوسکتی کہ وہ نہ اسلام اور مسلمانوں کا طرفدار ہو ، اور نہ کفر اور کافروں کا، بلکہ غیر جانبدار ہو، جو شخص مرزائیوں کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طرفدار نہ ہو، بلکہ اپنے آپ کو غیرجانبدار ظاہر کرے وہ مسلمان کس طرح ہوسکتا ہے اور قیامت کے دن اس کا حشر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کس طرح ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

            پیغام میرا یہ ہے کہ اگر آپ قیامت کے دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت چاہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختم نبوت کا کام کرنا پڑے گا اور مرزا قادیانی کی امت اور جماعت کے مقابلے میں آنا پڑے گا کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟ سب نے کہا جی ہاں تیار ہیں اور ہاتھ کھڑے کئے۔

            اللہ تعالیٰ آپ میں اور ہم میں یہ صحیح جذبہ پیدا فرمائے۔ (آمین)