قادیانیوں کا مذہب

مرزا قادیانی کس مذہب کا پیغام لایا تھا اس کی اپنی تحریروں سے ملاحظہ فر مائیں 

اسلام کے دو حصے

(1)        سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔ 

 (شہادت القرآن صفحہ84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ380، 381 از مرزا قادیانی)

ہمارا فرض ہے

(2)        بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیار ہوں۔                                                                (البلاغ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 400 از مرزا قادیانی)

انگریز کی اطاعت فرض ہے

(3)        بیس برس کی مدت سے مَیں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیرخواہ اور دلی جان نثار ہوجائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتے، دست بردار ہوجائیں۔                                                                      (مجموعہ اشتہارات جلد دوم، صفحہ 355 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

ہم اور ہماری اولاد پر فرض

(4)        ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔

(ازالہ اوہام صفحہ 132 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 166 از مرزا قادیانی)

ملکہ وکٹوریہ کا شکر ہر زبان میں

(5)        وہ تقریر جو دُعا اور شکر گزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سُنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے، وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں، اُن تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پنجابی میں اس لیے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شُکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لیے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔

اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گزاری جناب قیصرہ ہند کے لیے تالیف کر کے اور چھاپ کر اُس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے اُن میں سے ایک حضرت قیصرہ کے حضور میں بھیجنے کے لیے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر  جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔                                                                             (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 115,114 طبع جدید از مرزا قادیانی)

خدا تعالیٰ سے عہد

(6)        پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگرچہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اُٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔              

(نورالحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 39 از مرزا قادیانی)

 فرض ہے

(7)        مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔                                                               (ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)

لازم ہے کہ

(8)        مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل پر بدارادوں سے رُکیں بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلاویں۔                             (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 459، طبع جدید، از مرزا قادیانی)

  تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے

(9)        بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے، اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے، اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے، نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔

(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)

ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ خدا کا

(10)      ہمارے نظام بدنی اور امور دُنیوی میں خدا تعالیٰ نے اِس قوم میں سے ہمارے لیے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں۔ اس لیے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیرخواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجُز دُعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اِس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطورِ نعمت کے عطا کرے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسری کا چھوڑنا لازم آجاتا ہے۔                                                                 (شہادۃ القرآن صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)

22 برس سے اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے

(11)      میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ 152 میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 533 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے

(12)      بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکارآدمی کا کام ہے۔

(شہادت القرآن صفحہ84، مندرجہ روحانی خزائن جلد6صفحہ380 از مرزا قادیانی)

گورنمنٹ کی وفاداری

(13)      ایک اور خاص بات ہے جس کا بیان کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب نے بار بار تاکید فرمائی ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ پر اس کے متعلق بیان کیا تھا۔ اور وہ گورنمنٹ کی وفاداری ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہمیں دل و جان سے کرنی چاہیے۔ میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے۔  

   (انوار خلافت صفحہ 65، 66 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 152، 153 از مرزا بشیرالدین محمود)  

 ایسے مذہب کے پیروکار کہ جس مذہب کا مدار ہی نصاریٰ کی اطاعت ہو، اس کے مذہبی پیشوا نصاریٰ کی خوشنودی کو اﷲ کی رضا حاصل کر نے کا ذریعہ بتاتاہو ،نصاریٰ سے بے وفائی کو نمک حرامی قرار دیں، وہ نصاریٰ کی مدد کیلئے جان تک قربان کر دینے کا درس دیتے ہوں تو ایسے مذہب کو ماننے والے کیوں کر کسی بھی مسلمان حکومت کے ساتھ مخلص ہو سکتے ہیں۔ اور بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے یہ لوگ مسلمان ممالک کے حساس اداروں اور کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر کس کے مقاصد کے حصول کے لئے کام کر رہے ہوں گے ۔اس بات کا اندازہ لگا نا مشکل نہیں ۔

 اس گروہ کو نظر انداز کر نے کے بھیانک  نتائج مسلمان آج تک دیکھ چکے ہیں اورمستقبل میں بھی اگرمسلمان حکومتوں کی جانب سے کوئی واضح حکمت نہ اپنائی گئی تو یہ گروہ مستقل مسلمانوں کے لئے خطرناک حالات پیدا کر تا رہے گا ۔