قادیانی خشوع وخضوع
مرزا قادیانی ایک گھٹیا سوچ کا حامل انسان تھا۔ قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس طرح ظاہری طور پر بد صورت تھا، اسی طرح باطنی طور پر بھی بد سیرت تھا۔ قادیانی اسے ''سلطان القلم'' کہتے نہیں تھکتے۔ اس کی تحریرات کو ملاحظہ کیا جائے تو جا بجا بد کلامی و بد گوئی کی نجاست و غلاظت بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ ذیل میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے نمونہ کے طور پر ''سلطان القلم'' کی تحریروں کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں، و گرنہ مرزا قادیانی کی ساری کتابیں ایسی ہی تحریروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان فحش، مخرب اخلاق ، حیا سوز، گندی اور بازاری تحریروں سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیا یہ کسی شریف انسان کی تحریریں ہو سکتی ہیں۔ مرزا قادیانی کی سوچ کی پستی ، حیا باختگی اور اوباش پن کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو جس میں اس نے خشوع و خضوع کو کس انداز میں سمجھا یا ہے ملاحظہ ہو
(1) مرزا قادیانی سورة المومنون کی ابتدائی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
''جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے: قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون۔ یعنی وہ مومن مراد پا گئے جو اپنی نمازوں میں اور ہر ایک طور کی یادِ الٰہی میں فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو قرآن شریف میں غور کرتے ہیں سمجھ لیں کہ نماز میں خشوع کی حالت روحانی وجود کے لیے ایک نطفہ ہے اور نطفہ کی طرح روحانی طور پر انسان کامل کے تمام قویٰ اور صفات اور تمام نقش و نگار اس میں مخفی ہیں اور جیسا کہ نطفہ اس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کہ رحم سے تعلق نہ پکڑے یہی سنت اللہ بنی آدم کے لیے جاری ہے پس جبکہ انسان نماز اور یاد الٰہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے، تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لیے مستعد بناتا ہے۔ سو نطفہ میں اور روحانی وجود کے پہلے مرتبہ میں جو حالت خشوع ہے، صرف فرق یہ ہے کہ نطفہ رحم کی کشش کا محتاج ہوتا ہے اور یہ رحیم کی کشش کی طرف احتیاج رکھتا ہے اور جیسا کہ نطفہ کے لیے ممکن ہے کہ وہ رحم کی کشش سے پہلے ہی ضائع ہو جائے۔ ایسا ہی روحانی وجود کے پہلے مرتبہ کے لیے یعنی حالت خشوع کے لیے ممکن ہے کہ وہ رحیم کی کشش اور تعلق سے پہلے ہی برباد ہو جائے۔ جیسا کہ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور طرح طرح کی عاشقانہ حالت دکھلاتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذوالفضل سے جس کا نام رحیم ہے، کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کی خاص تجلی کے جذبہ سے اس کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کا وہ تمام سوز و گداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔''
 

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 تا 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 188 تا 190 از مرزا قادیانی)


(2) ''یاد رکھنا چاہیے کہ نماز اور یاد الہیٰ میں جو کبھی انسان کو حالت خشوع میسر آتی ہے اور وجد اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے یا لذت محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس انسان کو رحیم خدا سے حقیقی تعلق ہے جیسا کہ اگر نطفہ اندام نہانی کے اندر داخل ہو جائے اور لذت بھی محسوس ہو تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس نطفہ کو رحم سے تعلق ہو گیا ہے بلکہ تعلق کے لیے علیحدہ آثار اور علامات ہیں۔ پس یاد الہیٰ میں ذوق شوق جس کو دوسرے لفظوں میں حالت خشوع کہتے ہیں نطفہ کی اس حالت سے مشابہ ہے جب و ہ ایک صورت انزال پکڑ کر اندام نہانی کے اندر گرجاتا ہے۔ ''

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 192از مرزا قادیانی)


(3) ''جیسا کہ نطفہ کبھی حرام کاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تو اس میںبھی وہی لذت، نطفہ ڈالنے والے کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ۔ پس ایسا ہی بت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع و خضوع او ر حالت ذوق و شوق، رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور ان لوگوں کا جو محض اغراضِ دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرام کار عورتوں کے اندام نہانی میں جا کر باعث لذت ہوتا ہے بہر حال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہے، حالت خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے مگر صر ف حالت خشوع اور رقت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل پر ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عوت کے اندام نہانی میں داخل ہو جائے اور اس کو فعل سے کمال لذت حاصل ہو تو یہ لذت اس بات پر دلالت نہیں کرے گی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے۔ پس ایسا ہی خشوع او ر سوز و گداز کی حالت گو وہ کیسی ہی لذت اور سرور کےساتھ ہو ، خدا سے تعلق پکڑنے کے لیے کوئی لازمی علامت نہیں ہے۔ ''

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 193از مرزا قادیانی)


(4) ''اور پھر ایک اور مشابہت خشوع او ر نطفہ میں ہے اور وہ یہ کہ جب ایک شخص کا نطفہ اس کی بیوی یا کسی اور عورت کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس نطفہ کا اندام نہانی کے اندر داخل ہونا اور انزال کی صورت پکڑ کر رواں ہو جانا بعینہ رونے کی صورت میں ہوتا ہے جیسا کہ خشوع کی حالت کا نتیجہ بھی رونا ہی ہوتا ہے، اور جیسے بے اختیار نطفہ اچھل کر صورت انزال اختیار کر تا ہے، یہی صورت کمال خشوع کے وقت رونے کی ہوتی ہے کہ رونا آنکھوں سے اچھلتا ہے اور جیسی انزال کی لذت کبھی حلال طور پر ہوتی ہے جبکہ اپنی بیوی سے انسان صحبت کرتا ہے اور کبھی حرام طور پر جبکہ انسان کسی حرام کار عورت سے صحبت کرتا ہے۔ یہی صورت خشوع او ر سوز و گداز اور گریہ و زاری کی ہے یعنی کبھی خشوع اور سوزو گداز محض خدائے واحد لا شریک کے لیے ہوتا ہے جس کے ساتھ کسی بد عت اور شرک کا رنگ نہیں ہوتا۔ پس وہ لذت سوز و گداز کی ایک لذت حلال ہوتی ہے مگر کبھی خشوع اور سوزو گداز اور اس کی لذت بدعات کی آمیزش سے یا مخلوق کی پرستش اور بتوں اور دیویوں کی پوجا میںبھی حاصل ہوتی ہے مگر وہ لذت حرامکاری کے جماع سے مشابہ ہوتی ہے۔ ''
 

(ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم صفحہ 196مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 196از مرزا قادیانی)