قادیانیت کے کرتوت

ڈاکٹر وحید عشرت

            امت مسلمہ سے جذبہ جہاد کو ختم کرنے اور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے انگریز استعماریت سے برصغیر بالخصوص پنجاب میں قادیانیت کا شرمناک پودا کاشت کیا جو مسلمانوں کے لئے برگ حشیش سے بھی زیادہ زہرناک اور افسوس ناک ثابت ہوا ہے۔ یہ مسلمانوں کے سینے کا ناسور ہے جو گزشتہ ایک صدی سے فتنہ درفتنہ پھیل رہا ہے۔ انگریز کی غلامی کو مرغوب بنانے کی رومانیت اس کا بنیادی وظیفہ رہا ہے۔ ختم نبوت کے چورجسے اقبال نے شرک فی النبوت قرار دیا، ایک ایسے بدبخت ، ہذیان گو، جنس پرست اور غلیظ انسان کو نبی، مجدد  اور مسیح موعود کے طور پر پیش کرتے رہے جو اپنی اخلاق باختگی کے سبب انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں تھا۔ انگریز کی ٹوہ چاٹنے والا یہ شخص اور اس کی کافر امت شروع سے ہی مسلمانوں کو کافر قرار دیتی اور ان کے خلاف سازشیں بنتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے اقبال نے اسے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اعلان کیا تاکہ عام مسلمان ان سے دھوکہ نہ کھائیں اور یہ مسلمانوں کے اندر نقب نہ لگاسکیں۔

مرزابشیرالدین محمود جو قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا، ایک بہت بڑا سازشی ذہن تھا۔ اس نے کشمیر کمیٹی کی آڑ میں اور کشمیری اور مسلمانوں کی آزادی کے پردے میں کشمیر میں قادیانی مبلغ بھیجے اور انگریز کی ملی بھگت سے کشمیر کو قادیانی ریاست میں تبدیل کرنے کا کھیل کھیلتا رہا۔ وہ کشمیر کمیٹی کی کاروائیوں کا مخبر تھا اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہونے والی کوششوں سے انگریزوں کو آگاہ رکھتا۔ علامہ اقبال اور کچھ دوسرے لوگوں نے اسی لیے اس کشمیر کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس بدبخت کو اس کی صدارت سے مستعفیٰ ہونا پڑا۔ قادیانیوں کی فرمانبرداری کے صلے میں چودھری ظفراللہ کے ذریعے پنجاب میں قادیانیت کو منظم کیا۔ ظفراللہ نے اور دوسرے بااثر قادیانیوں نے مسلمان نوجوانوں کو نوکریوں، عورتوں اور دولت کے لالچ دے کر قادیانیت کی طرف راغب کیا۔ خود شیخ اعجاز احمد جو علامہ اقبال کے سگے بھتیجے تھے، ظفراللہ کی طرف سے سب ججی کے لالچ میں آکر قادیانی ہوگئے۔ خاندان اقبال میں یہ واحد روسیا تھا جس نے اپنے مقدر میں قادیانیت کی ذلت لکھی۔ جبکہ اس کے باپ،بیٹوں اور بیٹیوں نے قادیانیت کو دھتکار دیا۔

قادیانیت نے سرفضل حسین اور چودھری ظفراللہ کے توسط سے یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ میں گھس کر 1935ء کے دستور کے تحت ہونے والے انتخاب میں مسلم نشستوں پر قادیانی اُمیدوار کھڑے کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ یہ قادیانی مسلم نشستوں پر منتخب ہو کر اور مسلم عوام کے نمائندے بن کر قیام پاکستان کے مطالبے کو سبوتاژ کرسکیں اور انگریز کی غلامی کو رحمت قرار دے کر برصغیر کی تقسیم کو ناکام بنادیں۔ علامہ اقبال نے 1935ء سے جب شدومد سے قادیانیوں کے کافر اور غیر مسلم اور ملت اسلامیہ سے اخراج کا جو مطالبہ کیا، اس کے پیچھے ان کی تحریک پاکستان کو ناکام بنانے کی سازش کو توڑنا تھا۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد جب انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تو یہ بھی اقبال کے ہی خواب کی تعبیر تھی کیونکہ برصغیر کے تمام علماء متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم اور کافر قرار دے چکے تھے۔ خود قادیانی بھی اپنی تحریروں میں مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ صرف وہ مسلمانوں میں نقب لگانے کیلئے چولے پر چولا بدلتے رہتے ہیں۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ وہ تومسلمانوں کو کافر سمجھیں۔ مسلم قائدین اور عوام کے جنازوں میں شرکت نہ کریں۔ (چودھری ظفراللہ نے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بھی قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی) مگر چاہیں کہ انہیں مسلمانوں سے الگ نہ کیا جائے۔ ختم نبوت کی ان کی بھونڈی اور ناکارہ تاویلات جھوٹ اور فریب کاری کا پلندہ ہیں۔ اقبال کے بقول

اے کہ بعد از نبوت شد بہ ہر مفہوم شرک

نبی پاکؐ کے بعد نبوت کا خفی، جلی، بروزی، ظلی، مہدویت، مسیح موعودیت اور مجددیت کا دعویٰ کفروزندقہ کے سوا کچھ معنی نہیں رکھتا جبکہ اس کا مدعی قادیانی کذاب جیسا جھوٹا،جنس پرست، انگریز کے تلوے چاٹنے والا، اخلاق باختہ انسان ہو۔ یہ امت مسلمہ میں نفاق کا فتنہ تھا جو ذلیل و رسوا ہوا۔

غلام قادیانی کی امت کاذبہ نے بلوچستان میں بھی اپنی مرکزیت قائم کرنے کی کوشش کی مگر کشمیر اور پنجاب کی طرح یہاں بھی وہ ذلیل و خوار ہوئی۔ ان کی پاکستان دشمنی یوں تو ان کے ہر اقدام سے واضح ہے تاہم ان کے چند بیانات ملاحظہ ہوں:

 میں قبل ازیں بتاچکا ہوں کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہوجائیں۔ (الفضل16مئی1947ء خطبہ مرزا محمود)

ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پاکستان کا بننا اصولاً غلط ہے۔ (الفضل،12-13اپریل 1947ئ)

ممکن ہے عارضی طور پر کچھ افتراق (علیحدگی) ہوا اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں (ہندوومسلم) جداجدارہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہوجائے۔بہرحال ہم چاہتے ہیں ، اکھنڈہندوستان بنے۔ (الفضل17مئی1947ئ)

قادیانی خودمسلمانوں کوکافر سمجھتے ہیں۔مرزا محمود لکھتا ہے:  کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ (آئینہ صداقت ، صفحہ35قادیانیوں کی کتاب)

قادیانیوں سے بیزاری کے بارے میں علامہ اقبال لکھتے ہیں۔ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت۔بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت۔۔ کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرتؐ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ (اقبال اور احمدیت، صفحہ59 بی۔اے ڈار)

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہے کہ یہ گستاخان نبوت کافر اور پاکستان دشمن ہیں اور اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر عمل کررہے ہیں لہٰذا ان کا وجود پاکستان میں ناقابلِ برداشت ہے اور وہ پاکستان میں بیٹھ کر اور پاکستان سے باہر آئین پاکستان کو اس لیے ختم کرنے کے درپے ہیں کہ اس میں انہیں کافر اور غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور یہ آئین پاکستان میں ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں رکھتا۔ مرزا طاہر نے موجودہ عدلیہ، انتظامیہ اور صدر لغاری کے تنازعے میں قادیانیت کے اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح یہ بحران شدید ہو، آئین معطل ہوجائے اور قادیانیوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل جائے۔ مگر خدا نے انہیں ننگا کر کے ان کے مقاصد ناکام بنا دیے ہیں۔ مشہور قادیانی سائنسدان عبدالسلام نے بھی پاکستان دشمنی میں پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کے راز حکومت امریکہ کو پہنچائے جس پر جنرل ضیاء نے کہا کہ اس کتیا کے بچے کو کبھی میرے سامنے نہ لانا۔ یہ امریکہ، برطانیہ اور یہودیوں کا گماشتہ ہے۔ اور اس لیے اسے نوبل انعام دے دیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہید اسلام صدر جنرل محمد ضیاء الحق امریکہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کہا کہ پاکستان کوئی ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ ہم تو پر امن مقاصد کے لیے ایٹمی پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں تو امریکیوں نے غصے میں آکر جنرل ضیاء کو ایک کمرے میں جانے کو کہا جہاں کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا۔ جب جنرل ضیاء اس کمرے میں داخل ہورہے تھے تو دوسرے دروازے سے نکلتے ہوئے جنرل ضیاء نے ڈاکٹر عبدالسلام کو دیکھ لیا تھا۔

عالمی تحریک تحفظ ختم نبوت کے ممتاز راہنما حضرت مولانا حافظ محمد یوسف لدھیانوی نے بھی15جون1998ء کے روزنامہ جنگ لاہور میں ایک بیان میں کہا کہ صدر ایوب خان مرحوم کی بڑی خواہش تھی کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے وفاقی وزیرِ قانون شیخ خورشید کے بھائی منیر احمد خان کی سربراہی میں ا یٹمی کمیشن تشکیل دیا مگر ڈاکٹر عبدالسلام یہ شاگرد تھے اور حلقہ اثر میں تھے۔ چنانچہ ان دونوں کی وجہ سے اس سمت میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ یہ دونوں امریکہ اور برطانیہ کو پاکستان کی ان سرگرمیوں میں باخبر رکھتے رہے۔1971ء کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار پر آئے تو انہوں نے ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو اس منصوبے پر کام سونپا گیا۔ ان کے خلاف بھی ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر منیر احمد خان سازشیں کرتے رہے جنہیں جنرل ضیاء الحق نے ناکام بنایا۔ جب تک ڈاکٹر عبدالسلام زندہ رہا، پاکستان ایٹمی طاقت نہ بن سکا۔ اس مردود کے واصل جہنم ہونے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر کی سربراہی میں پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ یوں قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف یہ سازش بھی ناکام ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ایٹمی توانائی کا آغاز کیا اور انہوں نے ہی قادیانیوں کو سیاسی مصلحت کے تحت ہی سہی، اقلیت قرار دے کر اس فتنے کا گھیرا تنگ کردیا۔

ہر قادیانی جہاں بھی بیٹھا ہے، وہ کافر اور غدار ہے۔ پاکستان اور اسلام کا دشمن ہے۔ رسول پاکؐ کا گستاخ ہے لہٰذا انہیں تمام اہم اور کلیدی مناصب سے فوراً الگ کردیا جائے۔ ان پرکڑی نظر رکھی جائے تاکہ ان کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے اور اگر ممکن ہو تو انہیں آہستہ آہستہ پاکستان سے نکال دیا جائے۔ اس لیے کہ ہمارے ایمان اور پاکستان کی سلامتی کا یہ تقاضا ہے۔ پاکستان کے خلاف سازشوں میں عیسائیوں، ہندوئوں اور یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ان کو پالنا اور ان سے صرف نظر خود کشی کا راستہ ہے۔ حکومت پاکستان کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ ان کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا چلا جائے۔ یہ ہمارے ایمان اور ملک کی سلامتی کا تقاضا ہے۔ ان سے ہررعایت خود سے دشمنی کے مترادف ہے۔

غلامان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی چورا چکے کو تاج ختم نبوت چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کاش مسلمان فرقہ پرستیوں کے حصار سے نکل کر ایک دوسرے کے خلاف الجھنے کی بجائے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ان گستاخوں کو لگام ڈالیں اور آپس کی فرقہ بندیوں میں توانائی ضائع کرنے کی بجائے متحد ہو کر اسلام اور پاکستان کے ان غداروں کا محاصرہ کریں۔