سلطان عبدالمجید خاںؒ

سلطان عبدالمجید خاںؒ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت و محبت کا تعلق تھا۔ سُلطان ایک منفرد حیثیت کا مالک تھا۔ پڑھے لِکھے لوگ جانتے ہیں کہ جب پیرس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک تھیٹریکل ڈرامہ اسٹیج کرنے کا منصوبہ زیرِ تجویز تھا تو سُلطان عبد المجید خان کِس قدر غضبناک ہوا تھا اور تلوار نیام سے نکال کر اعلان فرمایا تھا کہ جب تک عیسائی دُنیا حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اِس ناپاک عزم سے باز نہیں آئے گی، یہ تلوار باہر ہی رہے گی اور اِس مضمون کا ایک تار فرانسیسی حکومت کو بھی روانہ کیا تھا جس سے نہ صرف فرانس بلکہ تمام یورپ تھرّا اُٹھا تھا اور معذرت خواہی کے ساتھ اُس پروگرام کو ختم کر دیا گیا تھا۔ یُونانیوں کے ساتھ سُلطانِ موصوف کے مجاہدانہ کارناموں کا ذِکر کرتے ہوئے بیسیوں صدی کے مشہور مصری ادیب و شاعر احمد شوقی اپنی نظم صدی الحرب میں سُلطان سے خطاب کرتے ہیں:۔

بسیفک یعلو الحق و الحق اغلبٗ 

وینصر دین اللہ ایان تضربٗ ۱؎

  ۱؎      ترجمہ: تیری تلوار کے ذریعہ حق کو بلندی ملتی ہے اور حق ہمیشہ غلبہ پانے والا ہے۔ اور جہاں جہاں

تُو شمشِیر کے جوہر دکھاتا ہے، دین کو مدد ملتی ہے۔