حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری

            امیر ملت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہؒ ان عظیم بزرگوں میں شامل ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف تحفظ ناموس رسالتصلی اللہ علیہ وسلم تھا اور اس مشن کی تکمیل کے لیے انھوں نے شب و روز ایک کر دیے۔ تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں آپ کی خدماتِ جلیلہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

6 مئی 1908ء کو مرزا قادیانی لاہور آیا، ارتدادی مہم کے مقابلے کے لیے لاہور کے مسلمانوں نے پیر جماعت علی شاہ کو بلوایا، آپ نے موچی دروازہ اور دیگر مقامات پر مرزا قادیانی کو للکارا، مرزا قادیانی کو پانچ ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا کہ وہ آ کر مناظرہ کرے اور انعام پائے، جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ پیر صاحب! مجھے بھگانے کے لیے آئے ہیں، یہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں، مگر میں ایسا نہیں جو بھاگ جائوں، اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو میرا قدم نہ ہلے گا! اس کے جواب میں پیر جماعت علی شاہؒ نے 22 مئی 1908ء کے جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ بارہ برس تو اپنی جگہ رہے، مرزا قادیانی جلد ہی لاہور نہیں، بلکہ دنیا سے ذلیل و خوار ہو کر جائے گا۔

آپ نے مرزا قادیانی کو ہر طرح سے للکارا۔ اسے دعوت دی کہ وہ میدان میں آ کر اپنے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت کرے۔ مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے۔ پانچ ہزار روپیہ کا انعام وصول کر لے۔ اگر مرزا قادیانی میدان میں نہیں آ سکتا تو ہم ان کے پاس جانے کو تیار ہیں مگر مرزے کو کوئی بھی بات ماننے کی جرأت نہ ہو سکی۔

آخرکار 25 مئی 1908ء بروز پیر رات کے جلسہ میں لاہور و بیرون لاہور کے ہزاروں مسلمانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے بیان کیا:

ہم نے مرزا قادیانی کا بہت انتظار کیا ہے لیکن وہ سامنے نہیں آیا، پیشگوئی کرنا میری عادت نہیں لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا کا خدائی فیصلہ ہو چکا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ میرے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ میرا نبیصلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے اور میں صدقِ دل سے اس سچے نبی کا غلام ہوں۔ آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اپنے حبیب پاکصلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہمیں اس جھوٹے نبی سے نجات عطا فرمائے گا۔

جب آپ نے یہ پیش گوئی فرمائی تو ہزاروں مسلمانوں نے یک زبان ہو کر آمین کی صدائیں بلند کیں۔ یہ پیش گوئی آپ نے رات دس بجے فرمائی اور 26 مئی کو صبح دس بج کر دس منٹ پر مرزا قادیانی آنجہانی ہو گیا۔ مولانا رومؒ نے سچ فرمایا ہے:

 ۱؎                   گفتۂ او گفتۂ اللہ بود

گرچہ از حلقومِ عبداللہ بود

  ۱؎     اس کا کہا ہوا اللہ کا کہا ہوا ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ (بات) کسی اللہ کے بندے کے حلق سے نکل رہی ہو۔

مرزا قادیانی نے ایک بار کہا تھا جو کوئی ہیضے کی موت مرے گا، وہ ذِلّت کی موت مرے گا۔ آسمان کا تھوکا منہ پر آیا۔ جس رات حضرت امیر ملت قدس سرہٗ نے پیش گوئی فرمائی تھی، اسی رات تھوڑی دیر بعد مرزاقادیانی کو ہیضہ ہوا۔ نصف شب گزرنے تک مرض نے شدت اختیار کر لی۔ مرنے سے چھ گھنٹے قبل زبان بند ہو گئی۔ ڈاکٹر نے ایسی دوا دے دی کہ نجاست کا رخ جو نیچے کی طرف تھا، اوپر کو ہو گیا۔ یوں نجاست منہ سے نکلتی رہی اور اسی حالت میں (26 مئی 1908ء) (صبح دس بج کر دس منٹ پر) بیت الخلا میں خاتمہ ہو گیا۔ مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ہے لقد دخل فی قعرجھنم۔ (1326ھ)جس وقت حضرت امیر ملت قدس سرہ نے مرزا قادیانی کی ہلاکت کی پیش گوئی فرمائی تھی، تو لوگوں نے اسے پوری اہمیت نہ دی مگر جب پوری ہو گئی تو حد درجہ حیران ہوئے۔ اس پیش گوئی کا مرزائیوں نے آج تک ذکر نہیں کیا۔ مفتی محمد عبداللہ ٹونکیؒ، پروفیسر اورنٹیل کالج لاہور نے فرمایا کہ ہم پہلے تو اس پیش گوئی کو معمولی سمجھتے تھے لیکن وہ سب سے بڑھ کر نکلی۔

حضرت امیر ملت قدس سرہٗ نے جب مرزا قادیانی کی ہلاکت کی خبر سنی تو فوراً سجدۂ شکر بجا لائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مسلمانوں کے ایمانوں کو محفوظ رکھا۔ اپنے حبیب پاکصلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ظاہر فرمائی اور مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھا۔

آپؒ کی ردِّ قادیانیت پر گرانقدر خدمات ہیں، مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر آپؒ نے پانچ نکاتی بیان جاری کیا۔

-1         سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا، اس کا علم لدنی ہوتا ہے، وہ رُوح القدس سے تعلیم پاتا ہے، بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدوس سے ہوتا ہے، (جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے)۔

-2         ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم بحکم رب العالمین مخلوق کے رو برو دعویٰ نبوت کر دیتا ہے، بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجۂ نبوت نہیں ملتا، کہ پہلے وہ محدث، پھر مجدد اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کرے۔

-3         حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور سرورِ کائناتصلی اللہ علیہ وسلم تک تمام کے تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نام مفرد تھے، کسی سچے نبی کا نام مرکب نہیں تھا، (اس کے برعکس جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا)۔

-4         سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا، (جبکہ مرزا قادیانی ترکہ چھوڑ کر مرا اور کچھ اولاد کو محروم الارث کیا)۔

-5         سچا نبی جہاں فوت ہوتا ہے، وہیں دفن ہوتا ہے جبکہ جھوٹا مدعی نبوت مرزا قادیانی احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ لاہور کی لیٹرین میں عبرتناک موت مرا اور قادیان (بھارت) میں دفن ہوا۔

آپؒ کا یہ پانچ نکاتی اعلان و چیلنج آج تک مرزائی اُمت کے لیے سوہانِ رُوح ہے، کوئی مرزائی اس کا جواب نہ دے پایا۔

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں