حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی بھر فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔ وہ بیک وقت عیسائیوں، آریوں اور بالخصوص قادیانیوں سے مناظرے کرتے اور انھیں شکست فاش سے دوچار کرتے۔ انھوں نے قادیانیت کی تردید میں درجنوں کتابیں تحریر کیں جنھیں ہر مکتبہ فکر نے سراہا۔ ان کا اپنا پرچہ ہفت روزہ اہل حدیث امرتسر سے نکلتا تھا جس کے ابتدائی صفحات قادیانیت کی تردید کے لیے وقف تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ملک بھر میں قادیانی کفریہ عقائد پر بے شمار تقریریں کیں اور مباحثے کیے۔ اس سے عاجز آ کر آنجہانی مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا:

اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جائوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاخدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے، حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر! مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔

(مجموعہ اشتہارات ج 3 ص 578 از مرزا قادیانی)

اس چیلنج اور دعا کے نتیجہ میں مرزا قادیانی اپنی دعا کے 13 ماہ اور بارہ دن بعد 26 مئی 1908ء کو ہیضہ کی بیماری سے نہایت عبرتناک حالت میں آنجہانی ہو گیا جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اس دعا کے تقریباً 40 سال بعد 15 مارچ 1948ء میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ کسی نے کیا خوب کہا:

؎ لکھا تھا کاذب مرے گا بیشتر

کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا