حضرت علامہ سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ

            حضرت علامہ محمد انور شاہ محدث کشمیریؒ بہت بڑے عالم، زاہد و عابد اور سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ 1926ء میں احمدپور شرقیہ بہاولپور کی ایک مسلمان عورت نے بہاولپور کی ایک عدالت میں دعویٰ کیا کہ اس کا شوہر مرزائی ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس کا نکاح فسخ کیا جائے۔ اس مقدمہ میں تمام مشاہیر علما کو شہادت کے لیے عدالت میں بلایا گیا۔ جب یہ مقدمہ آخری مراحل میں پہنچا تو شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ، حضرت مفتی صادق صاحبؒ اور تمام علما نے استدعا کی کہ حضرت شاہ صاحبؒ کا ایک علمی بیان عدالت میں ہونا چاہیے۔ شاہ صاحبؒ ان دنوں خونی بواسیر کے سخت مریض تھے۔ ڈاکٹروں حکیموں نے سفر سے بالکل روک دیا تھا۔ اسی سال حج کا بھی ارادہ تھا۔ کمزوری بہت ہو چکی تھی، لیکن جونہی شاہ صاحبؒ کو دعوت پہنچی، آپ سفر کے لیے تیار ہو گئے۔ بہاولپور سے مفتی صادق صاحب بھی خود انھیں لینے کے لیے دیوبند پہنچ گئے۔ حکیموں نے آپ کو بیماری کے پیش نظر سفر کرنے سے منع کیا۔ لیکن حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: اگر قیامت کے روز حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال کر لیا کہ میری ختم نبوت کا مقدمہ پیش تھا، تجھے طلب کیا گیا اور تُو نہیں گیا تو میں کیا جواب دوں گا؟ موت تو آنی ہی ہے، اگر اسی راستہ میں آ گئی تو اس سے بہتر اور کیا ہوگا۔ لہٰذا حکیموں کے روکنے کے باوجود آپ تاریخ مقدمہ سے کئی روز پیشتر بہاولپور تشریف لے آئے، اور تقریباً 25 روز بہاولپور میں قیام فرمایا۔ بہاولپور کی جامع مسجد میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا

            حضرات! میں نے ڈابھیل جانے کے لیے سامان سفر باندھ لیا تھا کہ یکایک مولانا غلام محمد گھوٹوی شیخ الجامعہ کا ٹیلی گرام موصول ہوا کہ شہادت دینے کے لیے بہاولپور آئیے۔ ایک مسلمان بچی کے تنسیخ نکاح کا مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے ارتداد و کفر کا مسئلہ ہے اور ختم نبوت کے اعتقاد کا مسئلہ ہے۔ ٹیلی گرام پڑھ کر، میں نے پچھلی زندگی کے اعمال پر سوچا کہ اگر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھ لے کہ کون سا عمل لائے ہو، پچھلی زندگی میں کوئی عمل رکھتے ہو تو پیش کرو؟ تو سوچنے کے بعد میرے دماغ میں کوئی ایسا عمل تازہ نہیں ہوا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر سکوں۔ چنانچہ اس عاجز نے ڈابھیل اور حج کا سفر ملتوی کر دیا اور بہاولپور کا سفر کیا۔ تاکہ قیامت کے دن حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ختم نبوت کے تحفظ کرنے والوں میں شمار کیا جائوں اور سمجھا جائوں اور اس عمل کے صدقے میں میری بخشش ہو جائے۔ دل میں یہ خیال بھی آیا کہ جا تو رہا ہوں حج کے لیے اور آگے سفر کروں گا مدینہ منورہ کا تو اللہ تعالیٰ کی رضا بھی چاہیے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بھی چاہیے۔ قیامت کے دن اگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیں کہ ضرورت وہاں تھی، آ یہاں گیا۔ ضرورت تو تیری بہاول پور میں تھی اور تُو یہاں آ گیا تو میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختمِ نبوت اور منصب ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے بہاولپور جائوں گا۔ بہت ضعیف اور علیل ہوں۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہمارا نامۂ اعمال تو سیاہ ہے ہی، شاید یہی بات میری نجات کا باعث بن جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وکیل بن کر عدالت میں پیش ہوں۔ ممکن ہے یہ نیکی میرے لیے توشۂ آخرت بن جائے۔

            اس پر لوگ دھاڑیں مارتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے پھر فرمانے لگے:

            ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے۔ ہم اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ وہ اپنی گلی و محلے کا حقِ نمک خوب ادا کرتا ہے جبکہ ہم حق غلامی و امتی ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور ایک کتے سے بھی بدتر کہلوائیں گے۔

صوفی بزرگ بُلّھے شاہ نے کہا تھا:

راتیں جاگیں، کریں عبادت                            راتیں جاگن کُتے، تیتھوں اُتّے

بھونکنوں بند مُول نہ ہوندے                         جا رڑی تے سُتے، تیتھوں اُتے

خصم اپنے دا در نہ چھڈ دے                         بھانویں وجن جُتے، تیتھوں اُتے

بُلھے شاہ! کوئی رَخت وِہاج لَے                      نئیں تے بازی لے گئے کُتے تیتھوں اُتّے

جج صاحب جن کا نام محمد اکبر تھا، وہ شاہ صاحب کا بہت احترام کرتا تھا۔ آپ کو عدالت میں کرسی مہیا کی گئی اور حضرت شاہ صاحبؒ کا آخری معرکہ آرا بیان ہوا اور قادیانیوں کی طرف سے ان پر جرح ہوتی رہی اور شاہ صاحبؒ جواب دیتے رہے۔

آپ کے مدمقابل قادیانیوں کی طرف سے مشہور مرزائی مبلغ و مناظر جلال الدین شمس تھا۔ آپ نے اس پر خوب جرح کی مگر وہ کمال ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا رہا اور ہر بات پر میں نہ مانوں کی رٹ لگاتا رہا۔ اس پر شاہ صاحب نہایت جلال میں آ گئے اور ان پر ایک عجیب و غریب وجد طاری ہو گیا۔ آپ نے مرزائی مبلغ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

جلال الدین! اگر اب بھی تمھیں مرزا قادیانی کے کفر میں کوئی شک ہے تو آ! میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے۔ میں تمھیں بھری عدالت میں کھڑے کھڑے مرزا قادیانی جہنم میں جلتا ہوا دکھا سکتا ہوں۔

اس پر جلال الدین شمس پر سکتہ طاری ہو گیا اور وہ کچھ نہ بول سکا۔ بعدازاں عدالت سے فراغت کے بعد ایک مرید نے حضرت شاہ صاحب سے پوچھا: حضرت! آج آپ نے عدالت میں بہت بڑی بات کہہ دی۔ اگر مرزائی مبلغ آپ سے مرزا قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھانے کا کہہ دیتا تو آپ کیا کرتے؟ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا:

بالکل دکھا دیتا، کیونکہ مجھے ہزار فیصد یقین کامل ہے کہ جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے، اللہ اسے دوسروں کے سامنے کبھی رسوا نہیں کرتا۔ شرط یہ ہے کہ یہ مقدس کام اخلاص و محبت سے کیا جائے۔ تب دنیا و جہان کی تمام کامیابیاں اس کے قدم چومیں گی۔

            ایک دفعہ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ نے دارالعلوم دیوبند کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی بلاشبہ مردودِ ازلی ہے۔ اس کو شیطان سے زیادہ لعین سمجھنا جزو ایمان ہے۔ شیطان نے ایک ہی نبی کا مقابلہ کیا تھا۔ اس خبیث اور بدباطن نے جمیع انبیاء علیہم السلام پر افترا پردازی کی۔

            حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے پیش نظر قادیانی فتنہ کے قلع قمع کے لیے چند اہم اقدامات تھے:

-1         اس فتنہ کی ملعونیت و خباثت اس طرح اجاگر کی جائے کہ قادیانیت و مرزائیت کا لفظ بجائے خود گالی بن جائے، حتیٰ کہ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مرزائی، یا قادیانی کہلانا عار اور شرم کا موجب سمجھیں۔

-2         اہل علم کی ایک باتوفیق جماعت تیار کی جائے جو قادیانیوں کی تلبیسات کا پردہ چاک کرے اور ان تمام علمی مباحث کو نہایت صاف اور واضح کر دے جو اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث آئے ہیں۔

-3         دعوت و تبلیغ اور مباحثہ و مناظرہ کے میدان میں ایسی پیش قدمی کی جائے کہ حریف پسپا ہونے پر مجبور ہو جائے اور اسے ہر گلی کوچے میں مسلمانوں کو للکارنے کی جرأت نہ ہو۔

-4         ردّ قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کا ایک مستقل مشن بن جائے تاکہ جہاں کہیں قادیانیت کے طاغوتی جراثیم پائے جائیں وہاں ختم نبوت کا تریاق مہیا کیا جا سکے۔

            حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی چارپائی دیوبند کی جامع مسجد کے صحن میں لائے۔ تمام طالب علموں اور اساتذۂ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا:

آپ سب حضرات اور جنھوں نے مجھ سے حدیث پڑھی، ان کی تعداد 2 ہزار کے قریب ہوگی۔ تاریخِ اسلام کا میں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے، اس کی بنیاد پر پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں، قادیانی فتنہ سے بڑا خطرناک اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔ میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ اگر نجات اخروی اور حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت چاہتے ہو تو تحفظ ختم نبوت کا کام کرو کیونکہ یہ کام آپصلی اللہ علیہ وسلمکی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ مرزا قادیانی سے تمھیں جتنی نفرت ہوگی، اتنا ہی تمھیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قرب نصیب ہوگا۔ اس لیے کہ دوست کا دشمن، دشمن ہوتا ہے اور دوست کا دوست، دوست ہوتا ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلمکو بے حد خوشی اس شخص سے ہوتی ہے جو اس فتنہ کے استیصال کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے۔ رسولِ اکرمصلی اللہ علیہ وسلم اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اس کے اس عمل سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو وقف دے گا، اس کی جنت کا میں ضامن ہوں۔ سبحان اللہ! دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آخری وقت ہے۔ اگر فکر ہے تو اس فتنہ کی۔ پھر آپ نے اس وقت اپنی فراست ایمانی سے دیکھ کر جو کچھ فرمایا، آج واقعات اس کی کس قدر تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ قارئین سے مخفی نہیں۔

            حضرت علامہ سیّد محمد انور شاہ کاشمیریؒ اپنے حلقہ علمی میں بیٹھ کر فرمایا کرتے تھے:

            میں یہ بات علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ حدیث کی خدمت بھی اللہ کی دین ہے۔ قرآن کی خدمت بھی بہت اہم خدمت ہے۔ تفسیر کی خدمت بھی بہت بڑی سعادت ہے۔ فقہ کی خدمت بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ تبلیغ کرنا بھی بہت اچھا کام ہے لیکن تحفظ ختم نبوت، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا تحفظ ہے۔ باقی چیزیں اقوال کا تحفظ ہیں، اعمال کا تحفظ ہیں، افعال کا تحفظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تحفظ ہیں۔ لیکن ذات کا تحفظ ان سب سے اولی اور افضل ہے۔ جس شخص نے بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ایک گھنٹہ بھی کام کر لیا، اسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ضرور نصیب ہوگی۔

(بروایت مولانا محمد مکی حجازی (مدرس حرم مکی) بیت اللہ کے سائے میں ہفت روزہ ضرب مومن 2 تا 8 نومبر 2007ء)

            حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے قلبِ صافی پر فتنۂ قادیانیت کی شدت کا جو اثر تھا، وہ ان کی گفتگو اور خطبات سے نمایاں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس فتنہ کے استیصال کے لیے مامور من اللہ تھے اور ان کی تمام صلاحیتیں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ قادیانیت کے قصرالحاد کو پھونک ڈالیں۔ حضرت امام العصرؒ نے قادیانی الحاد پر تابڑ توڑ حملے کیے اور ان کے کفر و ارتداد کو عالم آشکارا کرنے کے لیے اپنی تمام سرگرمیاں صرف کر دیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے حضور خاتم النبییّن صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا ہے ،اس سے ایک باغیرت و باحمیت مسلمان کا خون کھول جاتا ہے اور جو شخص اس کے بعد بھی قادیانیوں کے بارے میں کسی نرمی یا مصالحت کا رویہ رکھتا ہے، اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ یا تو دین و ایمان سے محروم ہے یا پھر اس کی غیرت و حمیت کو مصلحت کی دیمک چاٹ چکی ہے۔

حضرت انور شاہ کاشمیریؒ کو قادیانی فتنہ نے کس قدر بے قرار کر رکھا تھا؟ بہتر ہوگا کہ ہم یہ روداد غم حضرت بنوریؒ سے سنیں:

امت کے جن اکابر نے اس فتنہ کے استیصال کے لیے محنت کی ہے، ان میں سب سے امتیازی شان حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ کو حاصل تھی۔ قادیانیوں کے شیطانی وساوس اور زندیقانہ دسائس کا امام العصرؒ نے جس طرح تجزیہ کر کے ان پر تنقید کی، اس کی نظیر عالم اسلام میں نہیں ملتی۔ حضرت مرحوم نے خود بھی گرانقدر علوم و حقائق سے لبریز تصانیف رقم فرمائیں اور اپنے تلامذہ مدرسین دیوبند سے بھی کتابیں لکھوائیں اور ان کی پوری نگرانی و اعانت فرماتے رہے۔ میں نے خود حضرت رحمہ اللہ سے سنا ہے کہ جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمد ی(علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے۔ فرمایا چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ انشاء اللہ دین باقی رہے گا اور یہ فتنہ مضمحل ہو جائے گا۔

میں نے اپنی زندگی میں کسی بزرگ اور عالم کو اتنا دردمند نہیں دیکھا جتنا کہ حضرت امام العصر کو، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل میں ایک زخم ہو گیا ہے جس سے ہر وقت خون ٹپکتا رہتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا نام لیتے تو فرمایا کرتے تھے لعین ابن لعین ابن لعین قادیاں اور آواز میں ایک عجیب درد کی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ فرماتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ گالیاں دیتا ہے، فرمایا کہ ہم اپنی نسل کے سامنے اپنے اندرونی دردِ دل کا اظہار کیسے کریں؟ ہم اس طرح قلبی نفرت اور غیظ و غضب کے اظہار پر مجبور ہیں۔

            حضرت مولانا سید انور شاہ کاشمیریؒ کے فرزند امجد اور ممتاز عالم دین مولانا انظر شاہ کشمیری کا کہنا ہے: ایک مرتبہ والد مرحوم نے فرمایا کہ فتنہ قادیانیت کی وجہ سے تین ماہ تک نہیں سویا۔ اس غم اور فکر میں کہ کہیں قادیانیت کا فتنہ یونہی خود رو جھاڑیوں کی طرح پھیلتا پھولتا گیا تو دین اسلام کا کیا بنے گا؟ تین ماہ کے بعد میرے قلب پر القا ہوا کہ خداوند تعالیٰ اس دین کی حفاظت فرمائے گا۔

درس میں ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ تیس سال کے عرصہ میں دس دس سال کے وقفہ سے میں نے تین مرتبہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ ہر مرتبہ توجہ دلاتے تھے کہ:

ختم نبوت کی حفاظت کرو اور قادیانی فتنہ کو نیست و نابود کرنے کی ہرممکن سعی کی جائے۔

والد صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولانا حسین علی صاحب نقشبندیؒ، (جن کے متعلق والد مکرم فرمایا کرتے تھے کہ یہ نقشبندیت کے امام ہیں) دیوبند تشریف لے گئے اور والد صاحب کی قبر پر بہت دیر تک مراقب رہے۔ جب دفتر تشریف لائے تو اہتمام کے ذمہ دار حضرات نے پوچھا کہ آپ دیر تک مزار پر مراقب رہے۔ بتائیے، شاہ صاحب سے ملاقات بھی ہوئی؟ پہلے تو آپ نے بتلانے سے گریز کیا۔ بے حد اصرار کے بعد فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب سے میری لمبی گفتگو ہوئی۔ سب سے پہلے حضرت شاہ صاحب نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ تشریف لائے اور میرے بچوں کے سرپردست شفقت رکھا۔

میں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ فرمایا کہ نجات ہو گئی۔ میں نے دریافت کیا کہ کون سا عمل کام آیا؟

فرمایا: میں نے ختم نبوت کے لیے جو کام کیا تھا ،وہ میرے لیے وسیلۂ نجات بن گیا۔ اور فرمایا کہ عالم قبر میں آ کر مجھ پر بات کھلی کہ ختم نبوت کی حفاظت و صیانت کے لیے کام کیا جائے تو اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عمل مقبول نہیں۔

            حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ فرماتے ہیں:

قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوتا تھا اور مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال حسب معمول جلسے میں تشریف لائے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت میں حاضر ہوا تو دیکھا حضرت اندھیرے میں سر پکڑے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا حضرت! کیسے مزاج ہیں؟ کہا ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں، مزاج کیا پوچھتے ہو؟ عمر ضائع کر دی۔

میں نے عرض کیا، حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد، علما اور مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ فرمایا میں تم سے صحیح کہتا ہوں، عمر ضائع کر دی۔ میں نے عرض کیا حضرت، بات کیا ہے؟

فرمایا ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدو کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں، امام ابوحنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں اور دوسرے ائمہ پر آپ کے مسلک کی فوقیت ثابت کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔

اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی! کیا ابوحنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں؟ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے وہ لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا، وہ تو ہمارے محتاج نہیں۔ اور ہم امام شافعیؒ، مالکؒ اور احمدؒ بن حنبل اور دوسرے مسلک کے فقہا کے مقابلے میں جو ترجیح قائم کرتے ہیں، کیا حاصل ہے اس کا؟ ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا، لہٰذا اجتہادی مسائل کا صرف اس دنیا میں فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دنیا میں ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح ہے اور وہ بھی صحیح، یا یہ کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا بھی ہو اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ صواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی، قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی۔

اللہ تعالیٰ شافعیؒ کو رسوا کرے گا نہ ابوحنیفہؒ کو، مالکؒ کو رسوا کرے گا نہ احمد بن حنبلؒ کو۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے، جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے، جنھوں نے نور ہدایت چار سُو پھیلایا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں، اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا کہ وہاں میدان حشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے کہ ابوحنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے برعکس۔ تو جس چیز کو دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں اور نہ محشر میں، اسی کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی ضروریات جو سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیائے کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور جن منکرات کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ آج تحفظ ختم نبوت کا کام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہا ہے اور فتنہ قادیانیت جس کو مٹانے میں ہمیں جان قربان کرنا چاہیے، وہ پھیل رہا ہے، الحاد آ رہا ہے، شرک و بت پرستی چل رہی ہے اور حلال و حرام کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوتے ہیں ان فروعی بحثوں میں۔ حضرت شاہ صاحب نے آخر میں فرمایا یوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی۔

            حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ نے افغانستان میں نعمت اللہ قادیانی مرتد کے قتل کیے جانے پر حضرت امیر امان اللہ خاں غازی والیٔ افغانستان کی خدمت اقدس میں ایک فارسی مکتوب روانہ فرمایا۔ اس مکتوب کے آخر میں علامہ ممدوح نے چند نہایت ہی پرُتاثیر دعائیہ اشعار زیب رقم فرمائے۔ جو فی الواقعہ تمام مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان ہیں۔ یہاں تبرکاً و تیمناً درج کیے جاتے ہیں۔

باد ہمیشہ ہمہ فرِّ شہی

بندۂ درگاہِ امانُ اللّہی

شاہِ جگر دار و بِسالت پناہ

 

سایۂ حق غازی ظلِ اِلٰہ

رایت اقبال تُرا برجبیں

 

انا فتحنا لک فتح مبیں

ثبت لوایت ز قریبٌ مجیب

 

نصر من اللّٰہ و فتحٌ قریب

اشہب ایام بہ کام تو باد

 

سکۂ اِسلام بنامِ تو باد

دل کہ بہ تو بستہ چہ امیدہا

 

می طلبد رفعت جاوید ہا

دین نبی از سر تو زندہ باد

دولتِ تو دائم و پائندہ باد ۱؎

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان جون 1998ء ص 20)

 ۱؎       آپ کو ہمیشہ شہنشاہانہ شان و شوکت حاصل ہو۔ تیری درگاہ کا بندہ خدا کی امان میں ہو۔

۲؎        جرأت والے شاہ اور بہادری کو پناہ دینے والے۔ حق کا سایہ غازی اور خدا کا سایہ۔

۳؎        آپ کا مرتبہ آپ کی جبیں کے لائق ہے کہ ہم نے آپ کے فتح مبین (کا دروازہ) کھول دیا۔

۴؎        آپ کے جھنڈا کی پختگی کامیابی کے قریب ہے۔ اللہ کی طرف سے مدد اور فتح قریب ہے۔

۵؎        زمانے کا گھوڑا تیرے کام کا ہو اور اسلام کا سکہ تیرے نام سے ہو۔

۶؎        دل کہ جس نے آپ سے امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ آپ کے لیے ہمیشہ کی بلندی طلب کرتا ہے۔

۷؎        نبیصلی اللہ علیہ وسلم کا دین آپ کی وجہ سے زندہ ہو اور آپ کی حکومت ہمیشہ اور پختہ رہنے والی ہو۔