علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
ترجمانِ حقیقت حضرت علامہ محمد اقبالؒ بیسویں صدی کے شہرۂ آفاق دانشور، عظیم روحانی شاعر، اعلیٰ درجہ کے مفکر اور بلند پایہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عہد ساز انسان بھی تھے۔ ایسی زندۂ جاوید ہستیاں صدیوں میں کہیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا دل ملت اسلامیہ کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ وہ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کے وارث تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے انحطاط اور تنزل کی گھاٹی کی طرف تیزی سے گرتے عالم اسلام کے تن مضمحل میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے انقلاب کی راہ دکھائی۔
علامہ اقبالؒ کے حوالے سے یہ خاص پہلو بھی پیش نظر رہے کہ وہ انسانی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ، راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ جہاں تک قادیانیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تو وہ محرم رازِ درون خانہ تھے۔ انھوں نے جب بنظرِ غائر دیکھ لیا کہ مرزائی خود تو مرتد اور کافر ہیں ہی، لیکن عامتہ المسلمین کو بھی مرتد بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کے مصداق اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انھیں گمراہ کر رہے ہیں تو وہ اپنی اسلامی غیرت و حمیت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے برداشت نہ کر سکے۔ انھوں نے انتہائی زیرکی اور ژرف نگاہی سے اس اہم مسئلے کا جائزہ لیا اور اپنے معروضی تاثرات امت مسلمہ کے سامنے واضح انداز میں پیش کر دیے۔ علامہ اقبالؒ کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ ملت اسلامیہ کو جن فتنوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، ان میں سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت کا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کی ملت اسلامیہ کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے خطبات، مضامین، توضیحات اور خطوط کے ذریعے قادیانیت کی سرکوبی کی اور اس تحریک کے عالم اسلام پر دینی، معاشی اور تمدنی اثرات اور ان کے منفی نتائج سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا۔ علامہ اقبالؒ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے حکومت کے سامنے سب سے پہلے یہ مطالبہ پیش کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے اندر رہ کر ایک نئی امت تشکیل دے رہے ہیں۔
ایک دفعہ اپنے خط بنام پنڈت جواہر لعل نہرو مورخہ 21 جون 1936ء میں انھوں نے قادیانیوں کے سیاسی رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے تحریر کیا، میرے ذہن میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ ایک جگہ انھوں نے فرمایا: ذاتی طور پر مجھے اس تحریک کے متعلق اس وقت شبہات پیدا ہوئے جب ایک نئی نبوت کی برتری کا دعویٰ کیا گیا اور تمام عالم اسلام کے کافر ہونے کا اعلان کیا گیا۔ بعدازاں میرے شبہات نے اس وقت مکمل بغاوت کی صورت اختیار کر لی، جب میں نے اپنے کانوں سے اس تحریک کے ایک رکن کو پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہایت نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے سنا۔ ایک اور موقع پر انھوں نے قادیانی عقائد و عزائم کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیت، یہودیت کا چربہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے انجمن حمایت اسلام میں سے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ سمیت تمام قادیانیوں کو نکال باہر کیا تھا جس کا دکھ قادیانی اب تک نہیں بھولے۔
تازہ مرے ضمیر میں معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، عقل تمام بولہب
q حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی کتابِ زندگی کا ورق ورق حضور خاتم النبیینصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت و احترام کے مبارک عنوان سے سجا ہوا ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ السلام کا ذکر مبارک آتے ہی علامہ اقبالؒ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے۔ حالت غیر ہو جاتی، سرد آہیں بھرتے، رنگ زرد پڑ جاتا اور ماہی بے آب کی طرح تڑپتے۔ آپ کے خادم خاص، علی بخش کہتے ہیں کہ حضرت علامہ کے احوال سحر خیزی کا بیان کیا کریں، خوف و خشیت الٰہی اور غلبہ محبت رسولصلی اللہ علیہ وسلم میں آنسوئوں کا نہ تھمنے والا سیل ہوتا۔ بسا اوقات قرآن مجید کے اوراق دھوپ میں خشک کرنا پڑتے۔ ڈاکٹر طاہر فاروقی اپنی کتاب اقبالؒ اورعشق رسولصلی اللہ علیہ وسلم میں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی نے آپ کی مجلس میں آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلمکا اسم مبارک ذرا بے تکلفی سے لے لیا۔ بس کیا تھا۔ تلملا اٹھے! آنکھیں سرخ ہو گئیں کہ میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک بے تکلف کیوں لیا ہے؟ اس کم بخت کو اپنی مجلس سے اٹھا دیا۔ پھر پہروں روتے رہے۔
q مظاہر العلوم سہارنپور کے استاد حضرت مولانا محمد اسعد شاہ فرماتے ہیں کہ سہارنپور محلہ میر کوٹ میں مشہور شیعہ خاندان اور سادات امروہہ کے ایک ممتاز و نمایاں فرد جناب سیّد جعفر عباس تھے، انہوں نے یہ واقعہ میرے والد ماجد حضرت مولانا الشاہ محمد اسعد اللہؒ ناظمِ اعلیٰ مظاہر العلوم کو حضرتِ موصوف کے حجرے میں سنایا کہ: ہمارے چچا سیّد آغا حیدر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کے عمائد اور مشاہیر کو کھانے پر بلایا، حضرت علامہ محمد اقبالؒ بھی مدعو تھے، اتفاق سے بلا دعوت حکیم نور الدین قادیانی بھی آ گیا، کچھ دیر کے بعد حضرت علامہؒ پہنچے تو حکیم نور الدین قادیانی کو دیکھ کر حضرت علامہ مرحوم اتنے سخت برہم ہوئے اور یہ بھول گئے کہ یہ کسی دُوسرے کا مکان ہے، اور داعی کو حق ہے کہ جس کو

چاہے، اپنے ہاں مدعو کرے، چنانچہ حضرت علامہؒ نے فرمایا: آغا صاحب! یہ کیا غضب ہے کہ آپ نے ختم نبوت کا انکار کرنے والے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نئے نبی کو ماننے والے کافر کو بھی مدعو کیا ہے؟ اور فرمایا کہ: میں جاتا ہوں، میں ایسی مجلس میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پر حکیم نور الدین خود ہی فوراً سخت نادم ہو کر چلا گیا، پھر آغا صاحب نے معذرت کے ساتھ فرمایا: میں نے حکیم نورالدین کو مدعو نہیں کیا تھا، بلکہ وہ بن بلائے آ گیا تھا، اس کے بعد ہی حضرت علامہ مرحوم وہاں بیٹھے۔
q علامہ اقبال نور اللہ مرقدہٗ نے مرزائیوں کی دونوں شاخوں کو خارج اَز اِسلام قرار دے کر انجمن حمایتِ اسلام کے دروازے ان پر بند کر دئیے تھے، مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی، انجمن کا ممبر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیلات انجمن کے تحریری ریکارڈ میں موجود ہیں۔ ایک دفعہ علامہ اقبالؒ جنرل کونسل کے اجلاسِ عام کی صدارت فرمانے لگے تو آپ نے سب سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا: مسلمانوں کی اس انجمن کا کوئی مرزائی (لاہوری یا قادیانی) ممبر نہیں ہو سکتا، مرزا قادیانی کے متبعین کی یہ دونوں جماعتیں خارج اَز اِسلام ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ قادیانی کرسیٔ صدارت کے عین سامنے بیٹھے تھے، ان کے ساتھ ہی میاں امیر الدین فروکش تھے، حضرت علامہؒ نے ڈاکٹر یعقوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو نکال دو! ڈاکٹر مرزا یعقوب لاہوری جماعت کے پیرو تھے، حضرت علامہؒ کے اس اعلان سے تھرا گئے، کانپ اُٹھے، جزبز ہوئے، کچھ کہنا چاہا، حتیٰ کہ ان کا رنگ فق ہو گیا، حضرت علامہؒ مصر رہے کہ اس شخص کو یہاں سے جانا ہو گا۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ بیک بینی و دوگوش نکال دئیے گئے، ان کی طبیعت پر اس اِخراج کا یہ اثر ہوا کہ بدحواس ہو گئے، دو چار دن ہی میں مرض الموت نے آ لیا اور اس صدمے کی تاب نہ لا کر جہنم واصل ہوئے۔