مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ

            حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ علمی اور روحانی طور پر وہ اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی۔ 1952ء میں آپ حج پر تشریف لے گئے۔ مدینہ منورہ جا کر روضہ اقدس پر حاضر ہو کر مراقب ہوئے اور حضوری میں رہنے کی اجازت چاہی۔ رات کو حضور سرور کائناتصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: عبداللہ! تم یہاں  آ گئے ہو؟ پاکستان واپس چلے جائو (کیونکہ حضرت کا ارادہ تھا کہ بقایا عمر دیارِ حبیب ہی میں گزار دیں) کیونکہ وہاں میری ختم نبوت پر کتے حملہ آور ہو رہے ہیں، تم میری ختم نبوت کی حفاظت کرو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ختم نبوت کے محاذ پر تمھارے کام سے میں گنبد خضرا میں بہت خوش ہوں۔ ڈٹے رہو! اس کام کو خوب کرو، میں تمھارے لیے دعا کرتا ہوں۔

حضرت درخواستی حج سے واپسی پر سیدھے ملتان آئے۔ شاہ جی چارپائی پر تھے۔ خواب سنایا، شاہ جی تڑپ کر نیچے گر گئے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ بار بار پوچھتے درخواستی صاحب میرے آقا و مولیٰ نے میرا نام بھی لیا تھا۔ حضرت درخواستی صاحب کے اثبات میں جواب دینے پر پھر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔

کچھ عرصہ کے بعد دہلی دروازہ لاہور میں شاہ جیؒ کی ختم نبوت کے موضوع پر تقریر ہوئی۔ تقریر کے دوران میں ایک بار والہانہ جھوم کر فرمایا میں تو پہلے ہی اللہ کے فضل سے باز آنے والا نہیں تھا مگر اب تو سوہنے یعنی محبوب کا پیغام آ گیا ہے۔ ہاں ہاں میرا سب کچھ ختم نبوت کی حفاظت پر قربان ہو جائے تو کچھ پروا نہیں۔

q          ختم نبوت کانفرنس میں ایک دفعہ خطاب کرتے ہوئے حضرت درخواستی  ؒ نے فرمایا: میرے محترم بزرگو! اور بھائیو! خاتم الانبیا کی تفسیر کا پتہ میدانِ محشر میں چلے گا! جب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفیصلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی پیغمبر سے شفاعت کا حاصل ہونا ناممکن ہوگا۔ ختم نبوت کی حفاظت اسلام کی حفاظت ہے، اور اسلام کی حفاظت جہاد اکبر ہے، اور جو اس راستے میں جدوجہد کرے، وہ غازی اور جو تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں جدوجہد کرتا ہوا مر جائے، وہ شہید ہے۔ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت نبویصلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کا قریب ترین راستہ ہے۔

q          1974ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران میں جب یہ مطالبہ شدت پکڑ گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک نے اس سلسلہ میں اپنی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا اور سخت لہجے میں پیغام بھیجا کہ حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے باز رہے۔ ورنہ اس کا حشر عبرتناک ہوگا۔ جناب بھٹو اس پر بے حد پریشان ہوئے۔ تحریک کے قائد حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ سے ایک ملاقات میں جناب بھٹو نے دبے لفظوں میں اپنی اس پریشانی کا اظہار بھی کیا جس پر حضرت بنوریؒ نے بھٹو صاحب کو یقین دلایا کہ وہ اس کے توڑ کے لیے عرب ممالک سے درخواست کریں گے۔ چنانچہ اس ساری صورتِ حال کو واضح کرنے کے لیے آپ کے حکم پر ایک وفد اسلامی سربراہان سے ملاقات کے لیے عرب ممالک بھیجا گیا جس کی قیادت حضرت مولانا عبداللہ درخواستی کر رہے تھے۔

وفد جب سعودی عرب پہنچا تو اس نے شاہ فیصلؒ سے ملاقات کی اور انھیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ جناب شاہ فیصلؒ نے اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ بعدازاں وفد نے عمرہ کی سعادت حاصل کی اور مدینہ طیبہ میں حضور خاتم النبییّنصلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر حاضری دی اور تحریک کی پوری رپورٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت مولانا درخواستی فرماتے ہیں کہ اسی دن رات کو پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے تحریک کی کامیابی کی خوشخبری دی اور فرمایا عبداللہ! پاکستان جا کر اعلان کرو کہ جس شخص نے بھی میری ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دامے، درمے، قدمے سخنے حتیٰ کہ کسی بھی طریقے سے تھوڑا یا زیادہ کام کیا، اللہ تعالیٰ نے سب کی بخشش فرما دی ہے۔

مولانا عبداللہ درخواستی واپس پاکستان تشریف لائے اور بادشاہی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنا یہ سارا خواب من و عن بیان کیا تو لوگ خوشی و مسرت سے تشکر کے آنسوئوں کے ساتھ رونے لگے۔