مولانا سیّد محمد علی مونگیریؒ

            مولانا سید محمد علی مونگیریؒ بانی و ناظم اوّل ندوۃ العلما ایک جلیل القدر عالم، عظیم المرتبت مبلغ، شیخ طریقت، ایک عالی مقام عارف و سالک اور صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انھوں نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زائد کتب اور رسائل تصنیف کیے ہیں۔ انھوں نے تحفظ ختم نبوت کے کام کو وقت کا افضل ترین جہاد قرار دیا۔ اس کام کے لیے لوگوں کو ہر قسم کی کوشش اور قربانی پر آمادہ کیا، بڑی دلسوزی کے ساتھ لوگوں کو اس کام کی اہمیت سمجھائی۔

آپؒ کا زیادہ تر وقت وظائف، عبادات و مجاہدات میں گزرتا تھا، انھوں نے متعدد بار ذکر کیا کہ میں عالم رویا میں حضور سرورِ کائنات، فخر موجودات، خاتم الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کے دربارِ عالی میں پیش ہوا، نہایت ادب و احترام سے صلوٰۃ و سلام عرض کیا، حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:

محمد علی! تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو، اور قادیانی میری ختم نبوت کی تخریب کر رہے ہیں، تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو۔

حضرت مولانا رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس مبارک خواب کے بعد نمازِ فرض، تہجد اور درود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کر دیے، دن رات ختم نبوت کے کام میں منہمک ہو گیا۔

اسی درمیان یہ واقعہ بھی پیش آیا، مراقبے میں مولاناؒ کو یہ القا ہوا کہ یہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تُو ساکت ہے، اگر قیامت کے دن باز پرس ہوئی تو کیا جواب دو گے؟ (سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ص 297)

 مولانا مونگیریؒ کو فتنۂ قادیانیت کی سنگینی کا پوری شدت سے احساس تھا اور اکثر کہا کرتے تھے:

اتنا لکھو اور اس قدر طبع کرائو اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے ردِقادیانیت کی کتاب پائے۔

مولانا کا معمول تھا کہ رات کے پچھلے پہر 3 بجے تہجد کے لیے اٹھ جاتے تھے۔ بعدازاں تہجد کا وقت بھی مولانا نے ردِقادیانیت کے لیے وقف کر دیا۔ اکثر یہ وقت تصنیف و تالیف میں گزرتا۔ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ مولانا تہجد چھوڑ کر فتنہ قادیانیت کی تردید پر کتابیں لکھا کرتے تھے۔

مولوی نظیر احسن صاحب بہاری جن کا خط پاکیزہ تھا، صرف اس کام پر مامور تھے کہ وہ مولانا مونگیریؒ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودات صاف خوشخط کر کے دوبارہ لکھیں۔ وہ دونوں پیروں سے مفلوج تھے۔ اگر کبھی مسودات صاف کرنے میں تاخیر ہو جاتی تو مولانا ان سے فرماتے: محنت سے کام کرو، تمھیں جہاد کا ثواب ملے گا۔ ایک مرتبہ مولوی صاحب نے پوچھا کہ: کیا مجھ کو جہاد بالسیف کا ثواب ہوگا؟

فرمایا: بے شک! فتنہ قادیانیت کا استیصال جہادبالسیف سے کم نہیں۔

اور کون نہیں جانتا کہ جہاد بالسیف کا اجر جنت ہے۔

ہندوستان بھر میں اس وقت حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے لاکھوں مرید تھے۔ ایک دفعہ آپ نے یہ اعلان فرمایا:

میرا ہر مرید اپنے اپنے علاقہ میں ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے دن رات کام کرے۔ دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے یہ کام سب سے بڑا مقبول اور مجرب وظیفہ ہے۔ میرا جو مرید تحفظ ختم نبوت کے کام میں سستی یا غفلت برتے گا، وہ میری بیعت سے خارج سمجھا جائے گا۔