قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ

امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی امنگوں کے ترجمان، سرمایہ اہلسنّت والجماعت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوسرے امیر مرکزیہ، خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے فرمایا:

ہم مرزائیوں کو اسلام اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن خیال کرتے ہیں اور اس کے استیصال کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایک موقع پر فرمایا: جس طرح سورج کو حق ہے کہ وہ سیاہی اور تاریکی پر حملہ کرے، اسی طرح ہمیں بھی یہ حق ہے کہ فخر دو عالم حضرت محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تختِ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں۔

ایک اور موقع پر فرمایا: حق، باطل کی ریشہ دوانیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔

مزید فرمایا: آج کے دور میں عقلیت کا دور دورہ ہے، ہر شخص اپنی عقل کے بل بوتے پر ہر چیز کو پرکھنے کا قائل ہے، اگر وہ واقعی نبوت اور جھوٹے دعوائے نبوت، اسی طرح نبی اور جھوٹے مدعی نبوت کے درمیان فرق کو سمجھنا اور حق و باطل کو پرکھنا چاہے، تو اسلام اور قادیانیت کے تقابلی مطالعہ سے وہ بڑی آسانی سے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ حق و سچ کیا ہے؟ سچے نبی میں کیا خوبیاں ہوتی ہیں؟ اور جھوٹے مدعی نبوت ان خوبیوں سے کس طرح عاری ہوتے ہیں؟ اخلاق و کردار کی کن بلندیوں پر انبیائے کرام علیہم السلام فائز ہوتے ہیں جبکہ جھوٹے مدعی نبوت بشمول مرزا قادیانی اخلاقی اعتبار سے پستی کے اسفل درجہ میں پڑے ہوئے ہیں۔

            ختم نبوت کے شیدائی و فدائی قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی زندگی کے آخری ایام کا واقعہ پڑھیے اور ختم نبوت کا کام کرنے کی اہمیت و افادیت دیکھیے!

شیخ عبدالمجید صاحب سابق میونسپل کمشنر شجاع آباد، جو قاضی صاحبؒ کے ساتھ کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے ابتدائی ایام میں قاضی صاحبؒ نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرئوف کے زیر علاج تھے۔ دوپہر کا وقت تھا، میں جاگ رہا تھا، قاضی صاحب کو نیند آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد کیا سنتا ہوں کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کی ختم نبوت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں، میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوںکو قادیانی فتنہ سے آگاہ کیا ہے، حضور! یہ سب کچھ میں نے آپ کی خاطر کیا ہے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد درود شریف پڑھنے لگے، میں یہ سمجھا شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے مگر کچھ دیر بعد وہ خود بخود بیدار ہو گئے۔ ہشاش بشاش تھے، درود شریف پڑھ رہے تھے۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے فرمایا کہ میرے متعلق تحریک ختم نبوت 1953ء کی تحقیقاتی رپورٹ میں ججوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد مرزائیت کی تردید اور ان کی بیخ کنی کرنا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے متعلقین سے کہہ دیا ہے کہ جب میں مروں تو یہ الفاظ کاٹ کر میرے کفن میں رکھ دینا، کیا عجب کہ یہی بات میری بخشش کا سبب بن جائے۔

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے غیر متزلزل عزم و ہمت کا ایک واقعہ 1954ء میں پیش آیا۔ مولانا تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ملتان جیل میں نظر بند تھے، اسی دوران ان کے والد ماجد انتقال کر گئے۔ جیل کے حکام نے مولانا سے کہا:

اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ لیں تو آپ کو رہا کیا جا سکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں۔ مولانا نے خشمگیں انداز میں کہا کہ میں نے یہ جیل رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے۔ آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کو بھول جائوں اور والد کی محبت سے متاثر ہو کر آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے جائوں۔ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے غلاموں کا غلام ہوں، مجھ پر اس جیسی ایک ہزار مصیبتیں بھی اگر نازل ہو جائیں تو بھی میں اُف نہ کروں گا۔ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔