مولانا حافظ نواب الدین شکوہیؒ

مولانا نواب الدین شکوہیؒ معروف نعت گو شاعر حافظ مظہرالدینؒ کے والد محترم تھے۔ رام داس ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے۔ جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے تعاقب کے شوق میں قادیان سے تھوڑے فاصلہ پر شکوہ میں ڈیرے ڈال لیے جو بٹالہ سے قادیان جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں سے کئی ایک مناظرے کیے۔ چنانچہ حافظ مظہرالدینؒ لکھتے ہیں۔

جب مرزا قادیانی ایک مقدمہ میں ماخوذ ہو کر کچہری میں آیا تو والد صاحب بھاگم بھاگ کچہری پہنچ گئے اور مرزا کے گرد لوگوں کا حلقہ توڑ کر اس کا بازو پکڑ کر اسے شدید جھٹکا دے کر کہا: مردود! اگر نبوت جاری ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس علاقہ میں کسی کو نبی بنا کر بھیجتا تو بتا کہ مجھ جیسے وجیہہ انسان کو بھیجتا یا تجھ جیسے بجو کو؟ حاضرین کھلکھلا کر ہنس پڑے اور مرزا قادیانی پر سکتے کا عالم طاری ہو گیا۔

حافظ مظہرالدینؒ لکھتے ہیں کہ میری عمر بہت چھوٹی تھی کہ ہماری ایک رشتہ دار خاتون کا نکاح ایک مرزائی سے ہو گیا تو مولانا شکوہی نے کہا کہ مسلمان کا مرزائی سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ لیکن میرے ماموں محمد ابراہیم تحصیل دار تھے جو مشہور ناول نگار نسیم حجازی کے والد محترم تھے۔ اگرچہ مرزا قادیانی کے بہت خلاف تھے اور مرزائیت کے رد میں بالعموم یہ دلیل دیا کرتے تھے کہ میں نے اور مرزا قادیانی نے پٹوار کا امتحان دیا۔ وہ فیل ہو گیا اور میں پاس ہو گیا۔ جو شخص پٹواری نہ بن سکے، وہ خدا کا رسول کیسے بن سکتا ہے؟ ماموں تحصیل دار کی منشا یہ تھی کہ ہمارے خاندان کی لڑکی عدالت میں نہ جائے۔ چنانچہ والد صاحب نے یہ کہہ کر لڑکی سے نکاح کر لیا کہ عدالت کا معاملہ میں خود نمٹ لوں گا۔ مرزائیوں کو جب اس نکاح کی اطلاع ملی تو انھوں نے گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ سات سال تک چلتا رہا بلکہ مولانا کے حق میں فیصلہ ہوا۔ کیس کے دوران جب مرزا محمود عدالت میں پیش ہوا تو مولانا شکوہیؒ نے فرمایا کہ برخوردار! تیرے باپ کو حیض آتا تھا اور جسے حیض آئے وہ اللہ کا نبی نہیں ہو سکتا۔ اس جملہ سے ظفر اللہ خان سٹپٹا گیا۔ یہ تنسیخ نکاح کا پہلا مقدمہ تھا۔

محمدی بیگم سے نکاح آسمانی کا مرزا قادیانی نے شور و غوغا کیا تو مولانا شکوہی، محمدی بیگم کے قصبہ پٹی پہنچ گئے اور اپنی سحربیانی سے پٹی کے لوگوں کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کر لیا اور محمدی بیگم کا خاندان مولانا کا مرید ہو گیا۔ یوں مرزا قادیانی کا نکاح آسمانی زمین پر نہ ہو سکا۔