حضرت مولانا سیّد ابوالحسنات شاہ قادریؒ

            حضرت مولانا سیّد ابوالحسنات شاہ قادریؒ بڑے بلند پایہ عالم دین تھے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت تھا۔ چنانچہ اس تحریک میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ آپ تحریکِ تحفظ ختم نبوت 1953ء کے امیر تھے۔ آپ نے مرزائیت کی تردید میں پورے ملک کا دورہ کیا اور ختم نبوت کے سلسلہ میں لاکھوں مسلمانوں سے خطاب کیا۔ مرزائیت کی تردید کی پاداش میں حکومت نے حضرت مولانا کی قیادت میں ان کے رفقا کو گرفتار کر لیا اور کراچی سنٹرل جیل میں بھیج دیا۔ اس گرفتاری کے بعد پورے ملک میں تحریک نے زور پکڑا۔ پنجاب سے روح فرسا خبریں پہنچنا شروع ہوئیں۔ آپ کو اچانک ایک دن اطلاع ملی کہ حضرت مولانا خلیل احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان کو مارشل لاء حکومت نے پھانسی کی سزا سنا دی ہے۔ مولانا اپنے اکلوتے فرزند کے متعلق یہ المناک خبر سن کر سجدے میں گر گئے اور عرض کیا، الٰہی! میرے بچے کی قربانی کو منظور فرما۔ ڈیڑھ ماہ تک کراچی میں قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار رہنے کے بعد سکھر سنٹرل جیل میں نظربند کر دیے گئے۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، آٹھ مربع فٹ کوٹھڑی میں علامہ ابوالحسنات، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور سید مظفر علی شمسی بند تھے۔ حیدر آباد جیل میں بھی قید رہے۔ چھ ماہ سی کلاس میں گزارنے کے بعد اے کلاس ملی۔ بعدازاں لاہور منتقل کر دیے گئے جہاں تحقیقاتی عدالت میں پیش ہوئے۔ جناب مظفر علی شمسی بیان کرتے ہیں:

جس ہمت اور اولوالعزمی سے علامہ ابوالحسنات نے قید میں دن گزارے، اس کی مثال ملنی بہت مشکل ہے۔ ناز و نعم میں پلا ہوا انسان، لاکھوں انسانوں کے دلوں کا بادشاہ، علم و عمل کا شہنشاہ، مگر محبت رسولؐ نے امتحان چاہا تو بے دریغ قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس شان سے قید کاٹی کہ مثال بن گیا۔ کیا مجال، جو کسی سے شکایت کی یا کسی سے شکوہ کیا ہو یا اپنے مشن سے دستبرداری کا ارادہ کیا ہو۔ جیل میں آپ کا بہترین شغل قرآنِ کریم کی تفسیر لکھنا تھا، کئی برس قید کاٹی اور بہت شدت کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

خدا جب حشر میں پوچھے گا تو میں کہہ دوں گا

کہ آقا تیری خاطر جیل میں، میں نے چکی پیسی