حضرت مولانا سیّد خلیل احمد قادریؒ

            حضرت علامہ ابوالحسنات شاہؒ کے صاحبزادے، حضرت مولانا خلیل احمد قادریؒ بڑے عابد و زاہد اور مجاہدِ ختم نبوت تھے۔ مسجد وزیر خاں لاہور میں تحریک کو سرگرم رکھنے میں دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے آپ گرفتار ہوئے۔ اس سلسلہ میں اپنا احوال بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا خلیل احمد قادریؒ فرماتے ہیں:

تحریک ختم نبوت 1953ء میں مجھے گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا اور مجھ پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے۔  دوران تفتیش گالیوں سے نوازا گیا۔ رات کو سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک رات صبح سے عشاء تک کھڑا رکھا اور ان کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ میں معافی مانگ لوں۔ مگر میں نے معافی نہ مانگی، چونکہ یہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا مسئلہ تھا ۔ اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر اس میں جان بھی دینا پڑے تو گریز نہیں کروں گا۔ جس دن ہمیں پھانسی کا حکم دیا جانے والا تھا۔ اس دن ہمارے ساتھیوں میں سے ایک صاحب آئے اور بتایا کہ پھانسی کا حکم دیا جانے والا ہے۔ میں نے سوچا کہ حبیب پاکصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی خاطر اگر میری جان جاتی ہے تو ایک جان کیا، ایسی ہزار جانیں قربان۔ یقین جانیے! اس وقت میرے سامنے جنت کا نقشہ آ گیا اور میں سوچتا تھا کہ یہ دیر بھی کیوں ہو رہی ہے۔ ایک وقت تو یہ تھا کہ فوج نے مسجد وزیر خاں کو گھیر لیا تھا اور ہماری گرفتاری ہونے والی تھی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اب زندہ نہیں رہنا اور حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر قربان ہونا ہے۔ چنانچہ میں نے اعلان کیا کہ جن لوگوں کو یہاں رہنا ہے، وہ اپنی موت کا فیصلہ کر لیں اور جو ذرا بھی خوف محسوس کریں، وہ یہاں سے جا سکتے ہیں۔ ساتھیوں میں قطعی کوئی کمزوری نہیں تھی۔ فوج ہمیں گرفتار کر کے تھانہ کوتوالی لے گئی۔ پھر ہمیں پرانی کوتوالی سے دہلی دروازے تک پیدل ہی لایا گیا۔ ہمیں زیر حراست دیکھ کر لوگ مکانوں کی چھتوں سے نعرے لگانے لگے۔ دہلی دروازے سے جیپ میں بٹھا کر شاہی قلعہ کی طرف لے جایا گیا۔ مارشل لاء حکام کو ہماری گرفتاری کی اطلاع تو ہو ہی چکی تھی۔ شاہی قلعہ میں داخل ہوئے تو خاص دربار کے بالائی حصے میں تین چار لمبے لمبے قد والے فوجی افسران کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پھر وہ نیچے آئے۔ میز اور کرسیاں بچھائی گئیں اور وہ فوجی افسران کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ (غالباً ایک فوجی افسر کا نام سرفراز تھا) مجھے بھی کرسی پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ قدوائی صاحب میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ایک فوجی افسر نے سب سے پہلا سوال مجھ پر یہ کیا کیا آپ غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور یہ تحریک کسی ملک کے ایما پر چلائی جا رہی ہے؟ میں نے جواباً کہا 1947ء میں تحریک پاکستان کی حمایت میں خضر وزارت کے خلاف جو ایجی ٹیشن ہوا تھا، کیا وہ بھی غیر ملکی سازش تھی؟ جن لوگوں نے اس تحریک میں گرفتاریاں پیش کیں، کیا وہ بھی غیر ملکی ایجنٹ تھے؟ ہماری تحریک تو ان لوگوں کے خلاف ہے جو غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور مذہبی اور سیاسی لحاظ سے پاکستان کے دشمن ہیں۔ ان لوگوں نے بانی پاکستان قائداعظم کی نماز جنازہ تک پڑھنے سے گریز کیا، آج یہ لوگ ملک کے کلیدی عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں۔ ہم نے یہ تحریک ان کو کلیدی عہدوں سے علیحدہ کرنے کے لیے چلائی ہے۔

پھر اس فوجی افسر نے دوسرا سوال کیا کیا آپ قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ اس نے پوچھا کیوں؟ میں نے جواب دیا سرکار دوجہاںصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور قادیانیوں نے ایک بناسپتی نبی پیدا کر لیا ہے اور ان کا فقہ بھی مسلمانوں سے علیحدہ ہے۔ ضابطہ اخلاق بھی جدا ہے اور سیاسی نظام بھی مختلف ہے۔ اس نے پوچھا فقہ کیسے علیحدہ ہے؟ میں نے جواباً کہا زانی کو ہم مسلمان حکم قرآنی کے مطابق کوڑوں کی سزا کا حقدار سمجھتے ہیں جبکہ قادیانیوں نے زنا کی سزا دس جوتے مقرر کی ہے جو زانی اور زانیہ کو لگائے جاتے ہیں، اس طرح قادیانیوں نے زنا کا بھی دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ جواب سن کر قادیانی فوجی افسر آگ بگولا ہو گیا اور اس نے مجھے انگریزی میں گالیاں دینا شروع کر دیں۔

قدوائی صاحب نے اسے ٹوکا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔ فوجی افسر نے قدوائی صاحب کو کہا اب تم بھی اپنے آپ کو گرفتار سمجھو، میں تمھارے ساتھ نپٹ لوں گا۔ قدوائی صاحب نے اس سے پوچھا کیا آپ قادیانی ہیں؟ اس نے جواب دیا پورا ملک قادیانیوں کا ہے! اور یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ تقریباً ایک بج چکا تھا اور ہمیں سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔ پھر کرسیاں اٹھا لی گئیں اور ہم نیچے فرش پر بیٹھ گئے۔ چاروں طرف پٹھان فوجی ہماری نگرانی کر رہے تھے۔ اسی دوران ظہر کا وقت ہو گیا اور ہم نے وضو کے لیے پانی مانگا۔ ہمیں شمالی حصے میں لایا گیا جہاں نلکا لگا ہوا تھا۔ وہاں سے وضو کرنے کے بعد میں نے اذان دی۔ اذان کی آواز سن کر کچھ فوجی اور چند کارکنان ختم نبوت جو پہلے ہی گرفتار ہو کر آئے ہوئے تھے، نماز پڑھنے کے لیے آ گئے۔ چنانچہ میں نے امامت کروائی اور سب نے باجماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دعا کی۔ دعا کے بعد فوجی میرے گرد جمع ہو گئے اور انھوں نے مجھ سے گرفتاری کی وجوہات پوچھیں۔ میں نے قادیانیت کا پول کھولا اور تحریک کا پس منظر بیان کیا۔ میری باتیں سن کر فوجیوں نے اپنی چادریں بچھا دیں اور نہایت محبت کے ساتھ پیش آئے۔ ایک فوجی میس میں گیا اور ہمارے لیے کھانا لے آیا۔ پھر ہم نے نمازِ عصر بھی اسی طرح باجماعت ادا کی۔ نمازِ عصر کے بعد پہلے فوجیوں کی ڈیوٹیاں تبدیل کر دی گئیں اور نئے فوجی آ گئے۔ انھوں نے پھر ہمیں نیچے بٹھا دیا اور نہایت سختی کا مظاہرہ کیا۔ ہلنے تک کی ممانعت تھی۔ نماز مغرب کا وقت ہوا تو میں نے پھر اسی طرح اذان دی اور باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد دعا میں مشغول ہو گیا۔ یہ نئے فوجی بھی دعا سے بڑے متاثر ہوئے۔ انھوں نے بھی ہم سے سوالات کیے۔ ہم نے تفصیلات بتائیں تو ان کا رویہ فوراً بدل گیا اور وہ بڑے اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔ نماز مغرب کے بعد مجھے اور قدوائی صاحب کو جیپ میں بٹھا کر مغربی حصے میں واقع سی آئی اے کے دفتر میں لایا گیا۔ جہاں ہمارا نہایت فحش اور غلیظ گالیوں سے استقبال ہوا۔ قدوائی صاحب کو مجھ سے علیحدہ کر دیا گیا اور مجھے اوپر کے حصے میں لے جا کر ایک چھوٹی سی حوالات میں بند کر دیا گیا جس میں پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ رات کو مجھے کھانا بھی نہیں دیا گیا اور میں بھوکا ہی سو گیا۔

دن کے وقت مجھے قید تنہائی میں رکھا جاتا اور رات کو تقریباً دس گیارہ بجے تیز روشنی میں بٹھا کر نہایت بدتمیزی سے سوالات کیے جاتے۔ اس کے بعد مجھے پریشان کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا گیا۔ حوالات کی پچھلی طرف ایک کھائی تھی۔ اس میں رائفل سے فائر کیے جاتے اور پھر ایک افسر سپاہیوں سے پوچھتا آج کتنے اُتارے؟ سپاہی جواب میں چار یا چھ کہتا اور پھر مجھے کہا جاتا اب آپ کی باری بھی آنے والی ہے۔ پھر پوچھ گچھ کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ مجھے ہتھکڑی لگا کر ایک تہہ خانے میں لے جایا جاتا اور وہاں اوٹ پٹانگ سوالات کر کے پریشان کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اسی دوران ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک روز مجھے تہہ خانے میں اتارا جا رہا تھا، جب تین چار سیڑھیاں باقی رہ گئیں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً ڈیڑھ گز لمبا سانپ پھن پھیلائے فرش پر پڑا ہے۔ میرے ساتھ آنے والے افسر نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے معافی نہ مانگی تو مجھے اس سانپ کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔ میں نے اپنے حوصلے کو قائم رکھا اور معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نے مجھے دھکا دینے کی کوشش کی تو میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ چنانچہ اتفاق یہ ہوا کہ وہ اپنے ہی زور سے نیچے کی طرف لڑھک گیا اور پھر بدحواسی کے عالم میں اوپر کی طرف بھاگا۔ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی، جب مجھے حوالات میں بند کرنے کے لیے پولیس کی بارک کے سامنے سے گزارا گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اُوپر اُٹھائے اور پھر ہتھکڑی کو چوم کر آنکھوں سے لگا لیا۔ میرے ساتھ چلنے والے سپاہیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے انھیں کہا خدا کا شکر ہے کہ میں نے یہ ہتھکڑیاں کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں نہیں پہنیں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے آج اللہ کے پیارے حبیب شافع محشرصلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر یہ زیور پہنا ہے۔ یہ سن کر وہ سپاہی خاصے متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا دل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم کر کچھ نہیں سکتے، ملازمت کا معاملہ ہے۔ میں نے ان سے کہا یزیدی فوج بھی یہی کہتی تھی۔ اگر تم مجھے حق پر سمجھتے ہو تو اسوۂ حُر پر عمل کرو۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہو گئے۔

چند دنوں بعد ڈی ایس پی، سی آئی اے نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور کاغذ اور قلم میرے سامنے رکھ دیا اور مجھے کہا کہ میں جو کچھ بھی چاہتا ہوں، کاغذ پر لکھ دوں۔ میں نے اسے پوچھا کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آ گئی تو اس نے جواب میں مغلظات سنانا شروع کر دیں۔ میں یہ گالیاں برداشت نہ کر سکا اور میں نے اسے کہا آپ میرے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں لیکن میرے بزرگوں کو گالی نہ دیں ورنہ آپ کو اس کی بڑی سخت سزا ملے گی کیونکہ میرے بزرگوں کا تعلق اہل بیت سے ہے۔ یہ باتیں سن کر وہ مرعوب سا ہو گیا۔ اس کے بعد فائرنگ کی آواز آئی اور پھر دو سپاہی دفتر میں داخل ہوئے۔ ڈی ایس پی نے ان سے پوچھا آج کتنے اُتارے؟ انھوں نے جواب دیا دو سپاہی واپس چلے گئے اور پھر فائرنگ کی آواز آنے لگی۔ ڈی ایس پی نے فون اٹھایا اور پھر وہی سوال دہرایا اب کتنے اتارے؟ اور پھر اس نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا اب مزید چار افراد کو گولی مار دی گئی ہے۔ حکومت کے باغیوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ اور پھر اس نے بڑی لجاجت سے کہا آپ تو شریف آدمی ہیں، اس کاغذ پر معافی نامہ لکھ دیجیے، ہم آپ کو ابھی رہا کروا دیں گے۔ میں نے اسے جواب دیا جو حکومت ختم نبوت کی منکر ہو اور محمد مصطفیٰصلی اللہ علیہ وسلم کی باغی ہو، میں اس سے ہرگز معافی نہیں مانگ سکتا۔ میراجواب سن کر اس نے کہا کہ میں اپنے یہی الفاظ کاغذ پر لکھ دوں۔ چنانچہ میں نے یہ الفاظ کاغذ پر لکھ دیے۔ ڈی ایس پی نے یہ عبارت پڑھی تو غصے سے پاگل ہو گیا۔ اس نے قلم زور سے زمین پر مارا اور کاغذ پھاڑ دیا پھر وہ مجھے مارنے کے لیے کرسی سے اچھلا۔ میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور جلدی میں کرسی کا تکیہ ہی پکڑ سکا۔ لیکن اس پر اللہ کے فضل سے ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مجھے کچھ کہے بغیر دفتر سے باہر چلا گیا۔ پھر ایک سپاہی آیا اور اس نے مجھے قلعے کے دروازے کے پاس حوالات میں لے جا کر بند کر دیا۔ اس روز دوپہر کو مجھے نہ تو کھانا دیا گیا اور نہ پانی مل سکا۔ ظہر اور عصر کی نماز میں نے تیمم سے ادا کی۔ مغرب کے وقت مجھے وضو کے لیے پانی دے دیا گیا۔ تقریباً نو بجے مجھے ہتھکڑی لگا کر ایک بڑے کمرے میں لایا گیا یہاں میری ہتھکڑی کھول دی گئی اور پھر مجھے سیدھا کھڑا رہنے کا حکم دیا گیا، تھوڑی دیر کے بعد ایک سپاہی نے میرے بازو پکڑ کر اوپر کر دیے اور ٹانگیں کھولنے کرنے کو کہا، اسی عالم میں دو تین گھنٹے گزر گئے پھر وہ سپاہی چلا گیا اور اس کی جگہ دوسرا آ گیا۔ اس طرح تین تین گھنٹے کے بعد ڈیوٹیاں بدلتی رہیں، جونہی میں ہاتھ ذرا نیچے کرتا، ڈیوٹی پر موجود سپاہی فوراً میرا بازو پکڑ کر ہاتھ اوپر کر دیتا! یہ اذیت ناک سلسلہ ساری رات جاری رہا۔ فجر سے تقریباً دو گھنٹے قبل میرے پیٹ اور سینے میں شدید درد اُٹھا اور میں کراہنے لگا۔ لیکن ان لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر میں نے تہجد کے نفل ادا کرنے کی اجازت مانگی لیکن اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔ درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں نے درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ چند ہی لمحے بعد کافی افاقہ ہو گیا۔ نماز فجر ادا کرنے کی اجازت بھی مجھے نہ مل سکی۔ رات کے نو بجے سے صبح گیارہ بجے تک یہی عالم رہا۔ طبیعت نہایت مضمحل تھی اور تھکاوٹ سے بدن چور چور ہو رہا تھا۔

اتنے میں ایک پولیس افسر آیا اور مجھے ہتھکڑی لگا کر حوالات میں لے گیا۔ یہاں ایک سپاہی کی ڈیوٹی لگا دی گئی کہ وہ مجھے سونے نہ دے۔ پانی کا گھڑا تو لا کر رکھ دیا گیا مگر کھانا نہ ملا۔ عصر کے بعد وہ سپاہی چلا گیا اور میری آنکھ لگ گئی۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ بہت بڑا کمرہ ہے جس میں سبز رنگ کی روشنی ہے، اس کمرے کی سیڑھیاں ہیں جس پر والد محترم حضرت علامہ ابوالحسنات (جو اس وقت سکھر جیل میں تھے) کھڑے ہیں، مجھے دیکھ کر انھوں نے سینے سے لگا لیا۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کا کیا حال ہے؟تو انھوں نے جواباً فرمایا مجھے بھی انھوں نے رات بھر کھڑا رکھا ہے۔ اس گفتگو کے بعد میں ان سیڑھیوں سے نیچے کمرے میں اترا تو میں نے دیکھا کہ شمالی جانب ایک دروازہ ہے جو کہ کھلا ہوا ہے۔ میں اس کمرے میں دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک بزرگ سپید نورانی چہرہ، کشادہ پیشانی، درمیانہ قد، سفید داڑھی، کھلی آستینوں کا سبز کرتہ زیب تن کیے میری طرف تشریف لائے اور پیچھے سے ایک آواز آئی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے دست بستہ حضرت سے عرض کی حضور! ان کتوں نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔ سرکار غوث اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے میری داہنی طرف پشت پر تھپکی دی اور فرمایا شاباش! بیٹا گھبرائو نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے دوبارہ عرض کی حضور! انھوں نے بہت پریشان کر رکھا ہے۔ رُخِ انور پر مسلسل شگفتگی تھی، فرمایا کچھ نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اور یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے گئے، اس واقعہ کے بعد میرا حوصلہ بہت بلند ہو گیا ورنہ اس رات کی اذیت سے ممکن تھا کہ میں ڈگمگا جاتا لیکن غوثِ پاک کے روحانی کرم نے مجھے ذہنی اور قلبی سکون سے مالا مال کر دیا۔ مغرب کے بعد مجھے کھانا دیا گیا اور پھر رات کو کسی نے مجھے پریشان نہیں کیا۔ نماز کے بعد میں بیٹھا ہوا تھا کہ معاً دل میں خیال آیا کہ یہاں خشک روٹی اور چنے کی دال کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ اگر اپنے گھر میںہوتے تو حسب منشا کھانا کھاتے لیکن دوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ میں نے سربسجود ہو کر توبہ کی اور اس وسوسے کا ازالہ چاہا، لیکن خدا کی قدرت دیکھیے کہ چند لمحے بعد اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی شاہ جی! یہ لے لو اور پھر ایک لفافہ مجھے دے دیا گیا جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا لیکن میرے دل کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ غیبی دعوت قاسم عالمصلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ملی ہے۔ وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا۔

مجھے سات سال قید بامشقت کی سزا ہوئے تقریباً ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ فوجی عدالت نے مقدمہ بغاوت کی سماعت شروع کر دی اور سرسری کارروائی کے بعد مجھے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ فوجی عدالت کے سربراہ نے فیصلہ پڑھا ملزم کو گلے سے اس وقت تک پھانسی پر لٹکایا جائے جب تک کہ وہ مر نہ جائے! سزائے موت کا فیصلہ سننے کے بعد ایک لمحے کے لیے تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا لیکن معاً بعد آیت کریمہ بل احیاء ولکن لاتشعرون زبان پر آ گئی اور پھر حوصلے کا یہ عالم تھا کہ جام شہادت نوش کرنے کے لیے طبیعت مچلنے لگی اور جنت کے لہلہاتے ہوئے باغات آنکھوں میں گھومنے لگے۔ مجھے سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص پکی کوٹھی میں لا کر بند کر دیا۔ میں اپنے بخت رسا پر ناز کرنے لگا کہ ختم نبوتصلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر جان کی قربانی پیش کرنے کی سعادت حاصل ہونے والی ہے۔ تین روز کے بعد مجھے دوبارہ فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اس نے میری سزائے موت چودہ سال قید میں تبدیل کر دی حالانکہ میں نے سزا میں تخفیف کے لیے کوئی اپیل تک نہ کی تھی۔

ایک روز میں نے سکھر جیل کے ایڈریس پر والد محترم کو اپنی خیریت کا خط لکھا جس کا جواب مجھے پندرہ روز کے بعد موصول ہو گیا، والد صاحب نے اپنے خط میں لکھا کہ مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ تم رتبہ شہادت حاصل نہیں کر سکے، لیکن بہرحال یہ جان کر دل کو اطمینان ہوا کہ تم تحفظ ختم نبوتصلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر لڑ رہے ہو۔ خط کے آخر میں لکھا تھا: کاش اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا۔