مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ

سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک نادرۂ روزگار مفکر، ایک زمانہ ساز مدبر اور ایک حیات آفریں شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں ان کی کوششیں قابل صد ستائش ہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر تفہیم القرآن ان کی بہترین کاوش ہے جسے پوری دنیا میں بے حد پذیرائی ملی۔ مولانا مودودیؒ کو 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانی مسئلہ نامی کتاب لکھنے کی پاداش میں فوجی عدالت سے سزائے موت کی سزا سنائی گئی۔ اس موقع پر انھوں نے فرمایا: دلائل کا جواب دینے کے لیے دلائل موجود نہ ہوں تو پھر طاقت کے زور پر حق کو دبانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ مولانا سے کہا گیا کہ آپ اپنی سزائے موت کے خلاف حکام سے اپیل کر سکتے ہیں تو مولانا نے ایمان اور عزم کی شان کے ساتھ فرمایا:

میں کسی سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا اور اپنا معاملہ اپنے خدا کے حوالے کرتا ہوں۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔

بعدازاں مولانا کی سزائے موت، عمر قید میں تبدیل کر دی گئی، پھر تقریباً تین سال قید کے بعد مولانا کو رہا کر دیا گیا۔

؎  گر مدعی حسد سے نہ دے داد، تو نہ دے

  آتش غزل یہ تُو نے کہی عاشقانہ کیا