حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ

q          ختم نبوت 1974ء زوروں پر تھی۔ پاکستان کا ہر مسلمان کسی نہ کسی طور پر اس مقدس تحریک میں شریک تھا اور کاروانِ تحریک کے قائد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ تھے۔ اس وقت کا ایک واقعہ مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانویؒ نے یوں بیان فرمایا:

ان دنوں حضرتؒ پر سوز و گداز کی جو کیفیت طاری رہتی تھی، وہ الفاظ کے جامۂ تنگ میں نہیں سما سکتی۔ تحریک کے دنوں میں جو آخری سفر حضرتؒ نے کراچی سے ملتان، لاہور راولپنڈی، پشاور تک کا کیا، اس کی یاد کبھی نہ بھولے گی۔ کراچی سے روانہ ہوئے تو حضرتؒ پر بیحد رقت طاری تھی اور جناب مفتی ولی حسن سے فرما رہے تھے۔ مفتی صاحب! دعا کیجئے حق تعالیٰ کامیابی عطا فرمائیں۔ میں کفن ساتھ لیے جا رہا ہوں۔ مسئلہ حل ہو گیا تو الحمدللہ، ورنہ شاید بنوریؒ زندہ واپس نہ آئے گا۔ حق تعالیٰ نے آپ کے سوزِ دروں کی لاج رکھ لی اور قادیانی ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر جدا کر دیا گیا۔

مذکورہ تحریک کے دوران جب طلباء جلسہ و جلوس میں حصہ لینے لگے تو حضرت نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ضرورت پڑی تو پہلے بنوری اپنی گردن کٹوائے گا، پھر آپ کی باری آئے گی۔

q          شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ تحریک ختم نبوت 1974ء کے قائد تھے۔ آپ کی شب و روز کوششوں سے تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر آپ کو ایک اور انعام ملا۔ حضرت فرماتے تھے کہ تحریک کے بعد غالباً رمضان المبارک میں، میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطا کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف میں یہ آیت لکھی ہے۔ انہ من سلیمان وانہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت پر مجھے انعام دیا جا رہا ہے اور اس کی یہ تعبیر کی کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطا فرمائیں گے اور میں اس کا نام سلیمان رکھوں گا۔ چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطا فرمایا اور آپ نے اس کا نام سلیمان تجویز فرمایا۔