علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ

            علامہ احسان الٰہی ظہیر ایک جید عالم، خطیب اور ادیب تھے۔ انھوں نے فتنہ قادیانیت کے خلاف عربی زبان میں ایک کتاب القادیانیہ تحریر فرمائی۔ بعدازاں اس کا اردو ترجمہ مرزائیت اور اسلام کے نام سے کیا۔ مولانا کی یہ تصنیف ردقادیانیت کی کتب میں نہایت اہم اضافہ ہے۔ مولانا مرحوم اپنی اس کتاب کی قبولیت کے سلسلہ میں ایک ایمان افروز واقعہ لکھتے ہیں:

جب 1967ء کے رمضان المباک کی ستائیسویں شب مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں اپنی کتاب القادیانیۃ کو مکمل کر کے سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سحرگاہ دعائے نیم شبی لبوں پر لیے بابِ جبرئیل کے راستے (کہ جب دیارِ حبیب علیہ السلام میں میرا مکان اسی جانب تھا) مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر داخل ہوتا ہوں، لیکن روضۂ اطہر کے سامنے پہنچ کر ٹھٹک جاتا ہوں کہ آج خلاف معمول روضۂ معلی کے دروازے وا ہیں اور پہرے دار خندہ رُو استقبالیہ انداز میں منتظر ہیں۔ میں اندر بڑھا جاتا ہوں کہ سامنے سرور کونین رحمت عالم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم رعنائیوں اور زیبائیوں کے جھرمٹ میں صدیق اکبرؓ، فاروق اعظمؓ کی معیت میں نماز ادا کررہے ہیں۔ دل خوشیوں سے معمور اور دماغ مسرتوں سے لبریز ہو جاتا ہے اور جب میں دیر گئے باہر نکلتا ہوں تو دربان سے سوال کرتا ہوں۔ یہ دروازے تم روزانہ کیوں نہیں کھولتے؟ جواب ملا یہ دروازے روزانہ نہیں کھلا کرتے! آنکھ کھلی تو مسجد نبوی کے میناروں سے یہ دلکش ترانے گونج رہے تھے۔

اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہ

اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہ

اور صبح جب میں نے مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر کو ماجرا سنایا تو انھوں نے فرمایا: تمھیں مبارک ہو! ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے تمہاری کاوش کو پسند فرمایا ہے۔