حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

ایک دفعہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا: ایک دن میں بیٹھا تھا کہ ایک پرانے دوست آئے، پاس بیٹھ گئے اور پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے کہا ہمارا حال کیا پوچھتے ہو؟ انھوں نے شاید میرے لہجے سے سمجھا کہ بہت دکھ یارا ہے اور بظاہر انھیں ایسی کوئی بات نظر نہ آئی تو کہنے لگے بڑھاپا آ گیا ہے اور کیا ہے؟ میں نے کہا: میرے بھائی اگر کوئی جنت میں کسی جنتی سے پوچھے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو اس کا کیا جواب ہوگا۔ یہی ناں کہ ہمارا حال کیا پوچھتے ہو؟ اللہ کی قسم! اللہ دنیا میں جنت کا مزہ دے رہا ہے۔ یہی ہے وہ مقام محبوبیت جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور کبھی اس انتخاب سے پیشتر بشارت دے کر حق تعالیٰ انسان کا رواں رواں نور سے منور فرما دیتے ہیں۔ راتوں کو جب لوگ محو خواب ہوتے ہیں تو حق تعالیٰ کسی کے دل پر دستک دے کر اپنائیت کا اک عجب احساس عطا فرماتے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ 1977ء میں دیکھا جانے والا خواب 1978ء میں معجزانہ طور پر یوں منکشف ہوگا کہ عالم خواب میں ایک بڑا، بہت بڑا اژدھا رنگت نسواری مائل ایک پہاڑ پر سر رکھے پڑا ہے اور چند لوگ اس کے گرد جمع ہیں اور پتھر اس کے سر پر مار رہے ہیں۔ فقیر بھی ان میں شامل ہے۔ زخمی حالت میں وہ اژدھا اپنا سر اٹھا کر دوسرے پہاڑ پر رکھ دیتا ہے اور وہ اژدھا نیم مردہ حالت میں جب اپنا سر دوسرے پہاڑ پر رکھ دیتا ہے، تب لوگ کہتے ہیں اب (اِن شاء اللہ) یہ نہ اٹھ سکے گا۔ 1978ء میں حق تعالیٰ کی نظر کرم اپنا مقام پا چکی، مجھے تحفظ ختم نبوت کا کام تفویض ہو چکا تو رحمت عالمصلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے سر پر دست شفقت پھیرا اور بے شمار دعائیں دیں۔ تب سے اب تک واقعتا دنیا جنت کا مزہ دے رہی ہے۔

؎    اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر