سیّد نورالحسن شاہؒ

            حضرت سید نورالحسن شاہؒ فرماتے ہیں کہ لاہور میں ایک خوش نصیب لڑکا رہتا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی اس کو کثرت سے درود شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ اس عمل صالح کے نتیجہ میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر زیارت نصیب ہوتی۔ ہمارے احباب کو اس کے متعلق علم ہوا تو چونکہ اُن دنوں مرزائی تحریک زوروں پر تھی، اس لیے برادرم محمد اسحاق، مہر جلال الدین، بابا الہ دین اور شیخ مظفر الدین وغیرہ کو خیال آیا کہ اس لڑکے سے کہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کر کے دریافت کرے کہ مرزا قادیانی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان مبارک ہے؟ چنانچہ یہ تمام صاحبان اس لڑکے کے پاس اسلامیہ پریس میں گئے جہاں وہ کام کرتا تھا اور عرض کیا کہ ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری حاصل ہے۔ آپ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں عرض کریں کہ مرزا قادیانی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ کسی وقت تو جب زیارت نصیب ہوتی ہے تو جس بات کے دریافت کرنے کا خیال ہو، یاد رہتی ہے اور کبھی یاد نہیں رہتی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی جس بات کا جواب دینا منظور ہوتا ہے، دے دیتے ہیں ورنہ ادب کی وجہ سے از خود میں عرض نہیں کر سکتا۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو کسی وقت فرما دیں گے۔ چنانچہ ایک دو دفعہ اس لڑکے کو ملے تو اس نے یہی جواب دیا کہ زیارت تو نصیب ہوئی لیکن اس کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ کے بعد ایک دن اتفاقاً ایک جگہ اس نیک بخت لڑکے سے ملاقات ہو گئی تو کہنے لگا کہ وہ آپ کی بات ہو گئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مرزا قادیانی کے متعلق جس کو اتنا بھی خیال ہو کہ شاید سچا ہے یا جھوٹا، میں اس کی بھی شفاعت نہیں کروں گا۔ بلاشبہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔