مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور صوفی برکت علیؒ سالار والے

 

فاتحِ ربوہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اپنی کتاب جب پنجاب اسمبلی نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھا میں ایک واقعہ لکھتے ہیں:

ملک نصیرالدین صاحب کا اور میرا رشتۂ باہمی جنون ربوہ نام کی تبدیلی کا بھی تھا۔ انھوں نے تجویز دی کہ ربوہ سٹیشن کا نام اگر بدل جائے تو پھر ربوہ شہر کا نام بھی بدل جائے گا۔ حالانکہ یہ بات بالکل غیر معقول تھی کیونکہ سٹیشنوں کے نام تو شہروں کے نام کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ جب تک شہر کا نام نہ بدلے، سٹیشن وغیرہ کا نام تبدیل نہیں ہو سکتا مگر شوق جنون میں بغیر سوچے سمجھے ان کی تجویز پر سٹیشن کا نام تبدیل کرانے کی تدبیر سوچی کہ اس وقت ریلوے کے وزیر عبدالحفیظ چیمہ صاحب ہیں اور وہ صوفی برکت علیؒ صاحب سالار والے کے مرید ہیں۔ صوفی برکت علیؒ صاحب کے پاس چلتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ اپنے مرید وزیر موصوف سے سٹیشن کا نام تبدیل کرنے کے لیے کہیں۔ چنانچہ ہم دونوں صوفی صاحب کے پاس سالار والا پہنچے۔ صوفی صاحب کا نام تو کافی سنا ہوا تھا مگر ان سے ملاقات کا شرف اس سے قبل حاصل نہ تھا۔ یہ پہلی ملاقات اپنے خاص جنون کی وجہ سے تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ صوفی صاحب کو حضور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  سے سچی محبت ہے اور ختم نبوت کے عاشق ہیں۔ میرا تعارف جب ان سے ہوا تو جس گدی پر تشریف فرما تھے، فوراً چھوڑ دی اور مجھ ناچیز کو زبردستی اپنی گدی پر بٹھا دیا جبکہ خود میرے سامنے دو زانو اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی مرید اپنے پیر کے سامنے بیٹھتا ہے۔ آپ فرمانے لگے اصل کام تو آپ کر رہے ہیں، ہم تو بے کار لوگ ہیں۔ فرمایا جب بڑا بادشاہ آ جاتا ہے تو نائبین گدی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ اس گدی کے زیادہ مستحق ہیں۔ میں صوفی صاحب کے انکسار اور تواضع سے بہت متاثر ہوا۔ ان کی یہ عقیدت میرے بارے میں شاید اس وجہ سے تھی کہ میں ختم نبوت کے لیے عملی کام جنون کی حد تک شوق سے کر رہا تھا۔ اس کے بعد آپ نے دودھ سے ہماری تواضع فرمائی اور ایک سبز چادر منگوا کر میرے اوپر ڈال دی۔ آخر ہم نے آنے کا مدعا بیان کیا تو انھوں نے فرمایا میں وزیر موصوف سے کوئی کام کہتا تو نہیں لیکن یہ بات ان سے ضرور کروں گا۔ مجھے امید واثق ہے کہ صوفی صاحب نے چیمہ صاحب سے ضرور بات کی ہوگی۔