حضرت میاں عبدالہادیؒ

            قطبِ عالم حضرت میاں عبدالہادیؒ سجادہ نشین دین پور شریف اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھے مگر تحریک ختم نبوت 1974ء سے آپ کی قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں آپ کی چارپائی کو خان پور جلوس میں لایا گیا۔ ویگن پر چارپائی رکھی گئی۔ ان حالات میں آپ نے جلوس کی قیادت کی۔ خان پور کے اس جلوس میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی (دیوبندی) اور حضرت حافظ سراج احمد صاحب (بریلوی) آپ کے دائیں بائیں ہمراہ تھے۔ شرکا جب ختم نبوت کا نعرہ لگاتے تو حضرت میاں عبدالہادی صاحبؒ اپنی تمام تر توانائیوں کو جمع کر کے زندہ باد سے جواب دیتے۔ مرزائیت مردہ باد کہتے تو آپ پر جلال کی کیفیت طاری ہوتی۔ رفقا کو اشارہ سے بلا کر فرماتے کہ میاں دیکھو، گواہ رہنا۔ کل قیامت کے دن رحمت عالمصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ شفاعت میں گواہی دینا کہ یہ عاجز عبدالہادی محض اس عمل کے صدقہ سے نجات و شفاعت کی بھیک مانگتا تھا۔ یاد رکھنا عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ ہی سے نجات ہوگی۔ نجات اور شفاعت حاصل کرنے کا یہ شارٹ کٹ راستہ ہے۔ اسے کبھی نہ چھوڑنا۔