مولانا سیّد شمس الدین شہیدؒ

            مولانا سید شمس الدین شہیدؒ ممتاز جید عالم دین اور ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی تھے۔ وہ فتنہ قادیانیت کے خلاف شمشیر بے نیام تھے۔ موصوف تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک سپاہی کی طرح کام کرتے تھے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کا قلع قمع ایک ایسا کام ہے کہ دور حاضر میں ایمان کے بعد اس کا مقام ہے۔ ایمان کے بعد مقبول ترین عمل تحفظ ختم نبوت کا کام ہے جو ہر شخص کی نجات کے لیے روز محشر کام آئے گا۔

            آپ نے تحریک ختم نبوت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قادیانیوں کے خلاف جو تحریک اٹھائی گئی، وہ آپ نے ضلع ژوب ہی سے اٹھائی۔ قادیانی بدبختوں نے فورٹ سنڈیمن میں تحریف شدہ قرآن مجید تقسیم کیے جس کا نوٹس لیتے ہوئے مولانا صاحب اور علاقہ کے عوام نے ایک مہینے تک ژوب شہر کا محاصرہ کیے رکھا۔ جس کے نتیجے میں حکومت کو مجبوراً گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مجبوراً پاکستان کے قانون میں یہ لکھنا پڑا کہ کوئی شخص بھی خود کو قادیانی ظاہر کر کے ضلع ژوب میں داخل نہیں ہو سکتا اور آج بھی یہ قانون موجود ہے کہ کوئی مرزائی یا قادیانی ژوب میں داخل نہیں ہو سکتا۔

            مولانا شمس الدین شہیدؒ کو ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا۔ مولانا سید امام شاہ اور خان محمد زمان خان نے بتایا کہ مولانا شہیدؒ کے خون مقدس سے ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں دیکھی حتیٰ کہ بعض افراد نے جن کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تھا، سارا دن اُن سے خوشبو آتی رہی۔ یہ خوشبو لوگوں نے عام طور پر محسوس کی۔ جب لوگ مولانا شہیدؒ کے مزار پر دعا میں مصروف تھے، اس وقت مزار پر سفید رنگ کے پھول برس رہے تھے جو کئی لوگوں نے اٹھائے۔ بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید ہوا کے ساتھ قریبی باغ سے بادام کے درختوںکے پھول اڑ کر آ رہے ہیں، لیکن جب ان پھولوں سے موازنہ کیا گیا تو یہ پھول بادام کے پھولوں سے قطعی مختلف تھے۔ لوگوں نے بجا طور پر اسے شہید ختم نبوت کی کرامت سمجھا۔