حضرت پیر محمد کرم شاہ الازھریؒ

ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نابغۂ روزگار تھے۔ علم و عرفان کا ایک سمندر آپ کے سینہ میں موجود تھا۔ قرآن مجید کی تفسیر ضیاء القرآن علم و ادب کی دنیا میں ایک شہ پارہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا مطالعہ دل و دماغ کو ایمان کی ایک نئی جلا بخشتا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں پیر صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ تحاریک ختم نبوت میں ان کے گرانقدر کارنامے سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت بیان کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ نے فرمایا:

اس عقیدہ پر ہماری زندگی اور موت، ہماری فنا و بقا کا دار و مدار ہے۔ جس طرح عقیدۂ توحید کو نظر انداز کر کے ہم بحیثیت امت مسلمہ زندہ نہیں رہ سکتے، اسی طرح اگر خدانخواستہ ہم عقیدہ ختم نبوت سے دستبردار ہو جائیں تو ہماری تعداد اگرچہ ایک ارب کے قریب ہے، تعداد کی اس کثرت کے باوجود بحیثیت امت ہم چشم زدن میں نیست و نابود ہو جائیں گے۔ بحیثیت ملت ابراہیمی ؑ ہمارا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ امت مسلمہ کا یہ قصر رفیع صرف دو بنیادوں پر استوار ہے، عقیدۂ توحید اور عقیدۂ ختم نبوت۔

جب یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عقیدہ توحید کی طرح عقیدہ ختم نبوت پر ہماری زندگی اور بقا کا انحصار ہے تو ہم اپنے عقیدہ ختم نبوت کو نظر انداز کر کے اپنی شہ رگ کاٹ ڈالیں۔ ہم کسی کو خوش کرنے کے لیے خودکشی کے مرتکب ہوں؟ یہ کیونکر ممکن ہے؟؟ حالانکہ نوعِ انسانی کی فلاح اور بقا کے لیے ہمارا زندہ و سلامت رہنا ضروری ہے۔ درحقیقت دفاعِ ختم نبوت کا جذبہ ہی ملت اسلامیہ کی زندگی کی علامت ہے جب تک یہ جذبہ زندہ و سلامت اور قوی و توانا رہے گا، ابلیسی نظام کا کوئی فتنہ، کوئی سازش اس نورِ ہدایت کو بجھا نہ سکے گی جس کو بڑھانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ بہرحال جس شخص نے امت کو انگریز کی ابدی غلامی کے لیے تیار کرنے میں ساری عمر کھپا دی ہو، ہم مجبور ہیں کہ اسے ملت کا بدخواہ اور غدار قرار دیں۔ جس طرح ہم خارش زدہ کتے کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیتے، اسی طرح ایسے غداروں کو ہم حرم ملت کے پاس نہیں پھٹکنے دیں گے۔