حضرت پیر فیض الحسن تنویرؒ

            حضرت پیر فیض الحسن تنویرؒ المعروف شاہ جی ایک بلند پایہ شخصیت کے مالک تھے۔ حضور سرورِ کائناتصلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت اور فتنۂ قادیانیت سے نفرت آپ کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں انھوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ جامع مسجد ہارون آباد کے عظیم اجتماع میں خطاب اور رضاکاروں کی تربیت سے فارغ ہو کر اپنی گرفتاری کے لیے سب سے پہلے شاہ جیؒ ہی مسجد سے باہر آئے۔ پولیس کی بھاری اور مسلح گارد آپ کی گرفتاری کے لیے موجود تھی۔ سب انسپکٹر پولیس نے آپ کو دروازے پر روک کر گرفتار کرنے کے لیے حوالدار کو ہتھکڑی لگانے کا حکم دیا۔ حوالدار نے چابی لگائی۔ شاہ جی نے ہاتھ نیچے کیے تو ہتھکڑی کھل گئی۔ سب انسپکٹر پولیس نے حوالدار کو گھورا کہ بیوقوف تجھے ابھی تک ہتھکڑی لگانے کا طریقہ ہی نہیں آیا۔ کیا ملازمت کر رہے ہو۔ حوالدار نے تیزی سے شاہ جی کی طرف پھر ہاتھ بڑھایا اور بڑی احتیاط سے چابی گھمائی جب ہتھکڑی لگ گئی اور اس نے تسلی کر لی تو شاہ جی کو لے کر چلنے ہی والا تھا کہ شاہ جی نے ہاتھ نیچے کیے تو حسب سابق ہتھکڑی پھر کھل گئی۔ اس پر سب انسپکٹر خود آگے بڑھا، دوسری ہتھکڑی لائی گئی اور اس نے اپنے ہاتھوں سے ہتھکڑی لگائی مگر جب لے کر چلے تو ہتھکڑی ایک بار پھر کھل کر نیچے گر پڑی۔ پولیس میں افراتفری مچ گئی۔ بالآخر موقع پر موجود ڈی ایس پی نے کہا، شاہ جی کو بغیر ہتھکڑی کے لے جائو۔ یہ بھاگنے والے لوگوں میں نہیں ہیں اور پھر بغیر ہتھکڑی کے ہی شاہ صاحب کو جیل لے جایا گیا۔ شاہ جی نے اس تحریک میں بہاولنگر، ساہیوال اور ہارون آباد کی جیلوں میں صعوبت کے دن گزارے اور اُف تک نہ کی۔