سر عمر حیات ٹوانہ

حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب فرماتے ہیں کہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے ایک دفعہ مجھے بتایا خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ مرحوم لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم، سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز حکومت کا مجھ پر دبائو ہے کہ ریاست بہاولپور سے قادیانی مقدمہ کو ختم کرا دیں، تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآبصلی اللہ علیہ وسلم کا تو ان سے سودا نہیں کیا۔ آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے، میں حق و انصاف کے سلسلہ میں اس پر دبائو نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں حضرات کی نجات کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے۔ آج کے روشن خیال اور ترقی پسند حکمران اگر چاہیں تو اس واقعہ کی تقلید کر کے اپنی آخرت بہتر بنا سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی نیت ٹھیک ہو۔