نواب محمد صادق والیٔ ریاست بہاولپور

مشہور مقدمہ بہاولپور میں فاضل جج محمد اکبر فریقین کے دلائل اور علما کے بیانات سُن کر ایک حتمی نتیجے پر پہنچ گئے تھے اور اس فتنہ سیئہ کی حقیقت ان پر آشکار اور روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی تھی، مگر فیصلے کا اعلان کرنے میں اس خیال سے متردد اور تذبذب کا شکار تھے، مبادا بقول علامہ شورش کاشمیری، انگریز کے ایجنٹ اور خود ساختہ پودے کو غیر مسلم قرار دینے پر انگریزی حکومت ریاست بہاولپور کو نقصان نہ پہنچائے۔ جب یہ خبر والیٔ ریاست بہاولپور نواب محمد صادق صاحب تک پہنچی تو انہوں نے جج صاحب سے بغیر کسی خوف و خطر کے ببانگ دہل یہ فرمایا: آپ قادیانیوں کو علی الاعلان غیر مسلم قرار دیں، اگر صادق کی ایک کیا، ہزار ریاستیں بھی سرکار محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ میں قربان میں ہو جائیں تو یہ میرے لیے سب سے بڑی سعادت کی بات ہو گی اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ پھر وہ تاریخی فیصلہ سامنے آیا، جس کے نتیجے میں انگریز کے خود کاشتہ پودے، قادیانیت کو پوری دنیا میں خائب و خاسر ہونا پڑا اور آخر کار 7 ستمبر 1974ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ اور تاریخ ساز فیصلے کی رو سے قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را