مستری برکت علی مغلؒ

حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے: غیرت ایمان کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچا نبی اپنے امتیوں میں غیرت پیدا کرتا ہے اور جھوٹا مدعی نبوت اپنے امتیوں میں بے غیرتی اور دیوثی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال ملاحظہ فرمائیں۔

سندھ کے علاقہ عمر کوٹ کنری ضلع تھرپارکر کے مجاہد ختم نبوت بزرگ جناب مستری برکت علی مغلؒ لوہار کا کام کرتے تھے۔ دینی غیرت و حمیت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی لازوال دولت سے مالا مال تھے۔ ایک دفعہ ان کے پاس ایک قادیانی مبلغ آیا اور اپنے باطل مذہب کی ارتدادی گفتگو شروع کر دی۔ اس دوران مستری صاحب اپنے کام میں مگن، دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کر رہے تھے۔ قادیانی مبلغ اپنی گفتگو میں بار بار جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کا نام بڑے ادب و احترام اور مقدس القابات سے ادا کرتا۔ قادیانی مبلغ تقریر کرتا رہا۔ مستری برکت علی صاحب سنتے رہے۔ جب کلہاڑی کی دھار خوب تیز ہو گئی تو مستری برکت صاحب شیر کی طرح اٹھے اور کلہاڑی قادیانی مبلغ کی گردن پر رکھ کر کہا: او خبیث بتا! تم مرزا قادیانی کو کیا مانتے ہو؟ قادیانی مبلغ نے کہا: میں اسے نبی مانتا ہوں۔ مستری صاحب نے پورے جلال کے ساتھ کہا۔ کہو کہ مرزا قادیانی جھوٹا، بے ایمان اور بدکار تھا۔ مبلغ نے اپنی جان کی خیر مناتے ہوئے کہا مرزا قادیانی جھوٹا، بے ایمان اور بدکار تھا۔ مستری صاحب نے دوبارہ کہا، کہو کہ مرزا قادیانی مرتد، زندیق، مردود اور اُلّو کا پٹھا تھا۔ قادیانی مبلغ نے یہی الفاظ پھر دہرا دیے۔ الغرض مستری صاحب مرزا قادیانی کے متعلق جو بے نقط سناتے، قادیانی مبلغ اسے بار بار دہراتا۔ آخرکار مستری برکت علی صاحب، وہی کلہاڑی قادیانی مبلغ کے ہاتھ میں دے کر خود اس کے سامنے گردن جھکا کر بیٹھ گئے اور کہا: او بدبخت! اب تم یہ کلہاڑی میری گردن پر رکھ کر میرے سچے نبی، میرے آقا و مولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق میری زبان سے ایک جملہ بھی نکلوا کر دیکھو۔ میں تمھارے سامنے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائوں گا مگر میں اپنے پیارے نبیصلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ادنیٰ سی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہی میرے اور تمھارے سچے اور جھوٹے ہونے کی بین دلیل ہے۔

سچے نبیوں کا اقرار ضروری ہے

جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے

ختم نبوت کی نگری میں چور گھسے

نگری والے ہوں بیدار ضروری ہے