سیّد ذاکر حسین شاہ

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف اسلامی سکالر اور دانشور جناب سیّد ذاکر حسین شاہ صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ 1974ء کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے تاریخی اجلاس میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ وہ جید علمائے کرام کی اس اہم ٹیم میں شامل تھے جو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پر کیے جانے والے سوالات اور جرح میں معاونت کرتی تھی۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب اس سلسلہ میں محترم شاہ صاحب کے بے حد معترف تھے کیونکہ قادیانی خلیفہ دوران جرح شاہ صاحب کے تیار کردہ کئی سوالات کے کوئی جواب نہ دے سکا۔

سیّد ذاکر حسین شاہ صاحب نے ایک دفعہ اپنا ایمان افروز واقعہ سنایا کہ ایک رات وہ اٹارنی جنرل کے لیے قادیانی کتب سے حوالہ جات تلاش کر رہے تھے کہ حالت بیداری میں اچانک دیکھا کہ دو بزرگ تشریف لائے جن کے چہروں سے نور ٹپک رہا تھا۔ ان میں ایک حضرت امام ابو حنیفہؒ اور دوسرے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ تھے۔ ان بزرگوں نے قادیانیوں کے خلاف تیاری کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مجھے شاباش دی اور فرمایا، گھبرانا نہیں۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے رہو، فتح مسلمانوں کی ہی ہوگی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے مجھے تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کا مزید حوصلہ اور جذبہ نصیب ہوا۔