حضرت مولانا محمد عارفؒ

حضرت مولانا محمد عارفؒ ایک درویش صفت عالم دین اور سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ ایک عرصہ تک کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی مسجد میں بطور خطیب اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی قناعت اور غربت میں گزاری۔ ہمیشہ حرام سے بچتے ہوئے محنت کی کمائی سے بمشکل گزارا کرتے۔ بعض اوقات فاقوں تک بھی نوبت پہنچ جاتی مگر کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائے بلکہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے۔ آخری دنوں کینسر کے موذی مرض کا شکار ہو گئے۔ اس بیماری کا بڑی استقامت اور دلیری سے مقابلہ کیا۔ اُن کے صاحبزادے جناب حافظ قاری محمد عمران خان بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے بی اے کا امتحان پاس کیا تو والد صاحب نے حکم دیا کہ تم قانون کا امتحان پاس کرو۔ میری خواہش ہے کہ تم عدالت کے ایوانوں میں ختم نبوت کا تحفظ کرو اور گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم قادیانیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کا مقابلہ کرو۔ میں نے جواب میں عرض کیا کہ لاء کالج میں داخلہ کے لیے میرے پاس رقم نہیں ہے۔ اس پر والد محترم نقاہت کے باوجود فوراً بستر سے اُٹھے اور کہا، میرے پاس کچھ رقم ہے، وہ داخلہ کے لیے جمع کروا دو۔ میں نے عرض کیا کہ وہ تو آپ نے اپنی ادویات کے لیے جمع کر رکھی ہے۔ اس پر والد محترم نے فرمایا: بیٹا! موت تو پھر بھی آ جانی ہے۔ تم لاء کر کے عدالت کے ایوانوں میں حضور شافع محشرصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تحفظ کرو گے تو یہ صدقہ جاریہ قبر اور حشر میں میری بخشش کے لیے کافی ہو گا۔ حضرت مولانا محمد عارفؒ 12مارچ 2004ء کو قضائے الٰہی سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ حافظ محمد عمران ایڈووکیٹ آج کل سیشن کورٹ لاہور میں وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ ختم نبوت لائرز فورم پاکستان کے جنرل سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

؎    تیرے دیوے دی رشنائی جاوے وچ زمیناں