مولانا قاضی مظہر حسینؒ

جناب انجم نیازی اپنی کتاب ایک تنہا آدمی (خود نوشت) میں لکھتے ہیں:

ایک دن میں ایس ڈی ایم صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ پولیس والوں کے چہرے اترے ہوئے تھے اور گھبراہٹ میں ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ بار بار ایس ڈی ایم کے پاس آتے اور واپس چلے جاتے۔ پتہ چلا کہ چکوال میں آل پاکستان احمدیہ کانفرنس کا انعقاد ہونا ہے۔ اس کے لئے ساری انتظامی مشینری مصیبت میں پڑی ہوئی ہے۔ ان دنوں ایم ایم احمد، ایوب خان کا دست راست تھا اور اس کی وجہ سے مرزائی پورے عروج پر تھے۔ حکومت اور اس کی ساری مشینری ان کے اشارے پر چلتی تھی۔ میں نے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ قاضی مظہر حسین نے الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ یہ جلسہ اس کی لاش پر ہو گا۔ میں نے کہا کیا ایک مولوی کے خوف سے اس قدر سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے؟ مولوی کے لئے تو ایک اے ایس آئی ہی کافی ہوتا ہے۔ جواب ملا وہ ایسا مولوی نہیں ہے جس کے لئے ایک اے ایس آئی کافی ہو۔ اس کے لئے تو پاکستان بھر کی ساری انتظامی قوت بھی ناکافی ہے۔ اول تو وہ کوئی فیصلہ بلا سوچے سمجھے جلدی میں کرتا ہی نہیں۔ جب فیصلہ کر لے تو پھر کسی قیمت پر بدلتا نہیں۔ خوف اور لالچ کے الفاظ اس کے لغت میں ہیں ہی نہیں۔ وہ کئی بار آزمایا جا چکا ہے۔ ایک گولی کے لئے نہیں، کئی گولیاں کھانے کے لیے میدان میں آئے گا۔ اس کی پیش قدمی فوجی ٹینک بھی نہیں روک سکتے۔ ٹینک اسے کچل سکتے ہیں، اس کو روک نہیں سکتے۔ میں حیران تھا کہ چکوال میں ایسی شخصیت موجود ہے۔ جس سے ساری حکومتی مشینری خوف زدہ ہے۔

کانفرنس کا دن آنا تھا، آ گیا۔ قادیانیوں نے لائوڈ سپیکر پر اپنی تقریریں شروع کر دیں۔ ان کی عبادت گاہ کو چاروں طرف سے پولیس نے گھیر رکھا تھا۔ مگر وہ چند منٹ ہی تقریریں کر سکے۔ اس کے بعد لائوڈ سپیکر کی آواز بند ہو گئی۔ قادیانی صحن سے بھاگ کر عبادت گاہ کے کمرے کے اندر خوف سے ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر ہو گئے۔ پتہ چلا کہ جس مولوی کا خطرہ تھا، وہ مولوی آ پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم نوجوان تھے جو گولیوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ پہلے تو پولیس نے اپنا دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ رائفلیں لوڈ کر لی گئیں۔ سپاہیوں نے گولی چلانے کی پوزیشن سنبھال لی۔ ڈی ایس پی نے ایک لکیر کھینچی اور کہا کہ جو اس لکیر سے آگے آئے گا، ہم گولی چلا دیں گے۔ اس لائن کو سب سے پہلے کراس کرنے والا وہی مولوی تھا جس نے الٹی میٹم دے رکھا تھا۔

بہادری اور شجاعت بھی اپنے اندر کمال کا حسن رکھتی ہیں، بشرطیکہ یہ صداقت کے لئے ہو۔ اب ڈی ایس پی کی ساری شوخی ، رعب اور دبدبہ کی مصنوعی عمارت زمین بوس ہو گئی۔ اس کو نوکری خطرے میں گھری ہوئی محسوس ہونے لگی یا اس کے اندر ایمان کی کسی کرن نے کروٹ لی۔ اس نے قاضی مظہر حسین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور کہا کہ آپ ہمارے حال پر مہربانی کریں۔ کوئی ایسا حل بتائیں جس پر ہم عمل کر سکیں۔ قاضی مظہر حسین نے کہا: لائوڈ سپیکر اتار لو جو کچھ انہوں نے کہنا ہے، بند کمرے میں کہتے رہیں۔ ہم جھوٹے نبی کی کھلے عام تبلیغ برداشت نہیں کر سکتے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا