محمد سرور مجاہد

کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس کے کارکنوں کے اوصاف پر ہوتا ہے۔ اگر کارکنان کے دل خشیت الٰہی سے معمور اور سینے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے منور ہوں، وہ بہترین اخلاق و عادات، مضبوط کردار کے مالک، بے لوث خدمت و قربانی کے جذبہ سے سرشار، شہرت کی خواہش سے کوسوں دور، آزمائش و مشکلات کی گھڑیوں میں ثابت قدم اور نامساعد گھریلو حالات پر صابر و شاکر ہوں تو تحریک کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے نوجوان جناب محمد سرور مجاہد کا شمار ایسے ہی مثالی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ وہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں دن رات مگن رہتے ہیں۔ جلسے جلوسوں کے پوسٹر لگانے، بینرز آویزاں کرنے، دریاں بچھانے، سٹیج آراستہ کرنے، مہمانوں کو کھانا کھلانے، اجلاسوں کی اطلاع کروانے، لٹریچر تقسیم کرنے اور سکیورٹی کے فرائض انجام دینے میں بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں سمیت خود کو تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کیا ہوا ہے۔ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی بدولت جناب محمد سرور مجاہد کو ایک دفعہ خواب میں سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آئیے یہ ایمان پرور خواب جناب محمد سرور مجاہد کی زبانی سنتے ہیں:

ایک رات عشاء کی نماز پڑھ کر میں سو یا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ جوق در جوق جامع مسجد غلہ منڈی (اونچی مسجد) ننکانہ صاحب کی طرف جا رہے ہیں۔ مسجد کے لائوڈ سپیکر سے کسی برگزیدہ شخصیت کی گھن گرج کے ساتھ تقریر ہو رہی تھی۔ میرے دریافت کرنے پر ایک شخص نے بتایا کہ یہاں تحفظ ختم نبوت کانفرنس ہو رہی ہے اور امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروقؓ صدارتی خطاب فرما رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ان کی تقریر ختم ہو گئی۔ میں نے حضرت کی زیارت کا قصدکیا تو پتہ چلا کہ آپ جامع مسجد غوثیہ سراجیہ (انڈہ تالاب) تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ مسجد کے صحن میں لیٹے ہیں۔ چہرہ مبارک نہایت نورانی اور قد دراز تھا۔ میں نے فوراً قدم بوسی کی سعادت حاصل کی ، اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے، کیا کام کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، حضور! میرا تعلق تحریک تحفظ ختم نبوت سے ہے۔ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں کام کرتے ہیں۔ میں نے مزید عرض کیا کہ یہ اتحاد بین المسلمین کا پلیٹ فارم ہے۔ پھر میں نے قرآن مجید کی ایک آیت تلاوت کی۔

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَقُوْا (آل عمران:103)

اس پر سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ نے میری تصحیح کرتے ہوئے فرمایا۔ بیٹا!ا صل آیت اس طرح ہے۔

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران:103)

مزید فرمایا: آپ بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ اس کام کو جاری و ساری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نصرتیں دنیا و آخرت میں تمہارے ساتھ ہونگی۔ ابھی یہ مبارک لمحات جاری تھے کہ موذن کی اذانِ فجر سے میری آنکھ کھل گئی۔