غازی میاں محمد شہیدؒ

16 مئی 1934ء کی شام ایک فوجی چھائونی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے فوجی عہدیدار خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک ہندو ڈوگرہ نے کوئی نعت بآواز بلند ترنم سے پڑھنی شروع کر دی۔ لہجے میں مٹھاس اور عقیدت کا رنگ نمایاں تھا۔ جوش مسرت سے مسلمانوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ پاس ہی ایک دوسرا ہندو بیٹھا تھا۔ وہ اپنے ڈوگرہ ساتھی کے منہ سے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی سنتے ہی جل بھن کر رہ گیا۔ اس نے غلیظ الفاظ میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا کہ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے اور تیرا پاپ ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ عاشق رسولصلی اللہ علیہ وسلم غازی میاں محمد یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ اس نے گستاخ ڈوگرے سپاہی سے کہا: وہ خوش قسمت ہے جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم  کی نعت پاک پڑھ رہا ہے۔ اگر تجھے پسند نہیں تو خاموش رہ یا باہر نکل جا۔ خبردار! آئندہ ایسی بکواس مت کرنا، وہ بولا: میں ایسا ہی کہوں گا۔ تجھے کیا، میں جو چاہوں کہتا پھروں۔

یہ جواب سن کر غازی میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور فیصلہ کن انداز میں کہا: اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبیصلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کی جرأت ہرگز نہ کرنا۔ یہ بدتمیزی تجھے اذیت ناک موت سے دوچار کر دے گی۔ بدقسمت ڈوگرے نے دوبارہ وہی جواب دیا اور یہ وہ لمحہ تھا جب میاں محمد نے اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم  کی ناموس پہ قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی بیرک میں گیا، نماز عشاء ادا کی اور بارگاہ الٰہی میں تڑپ کر التجا کی:

میرے اللہ! میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوبصلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے کا کام تمام کردوں۔ تو مجھے حوصلہ اور استقامت عطا فرما۔ حضور سید کائناتصلی اللہ علیہ وسلم  کی عزت و ناموس پہ مجھے اپنی جان نچھاور کرنے کی توفیق دے اور میری یہ قربانی منظور کر لے۔

یہ دعا مانگ کر غازی اٹھا، اپنی رائفل نکالی اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہندو سپاہی کو للکار کر کہا: ارے کم بخت! اب بتا کہ میرے نبی کی شان میں گستاخی پر میں تجھ سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟ اور اس کے ساتھ ہی ناموس رسالتصلی اللہ علیہ وسلم  کی شیدائی کی گولی ہندو ڈوگرے کو ڈھیر کر چکی تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور عشق مصطفیصلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ پیکر اپنے آقا و مولاصلی اللہ علیہ وسلم  کی ناموس اطہر پہ قربان ہو گیا۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی