غازی محمد عبداللّٰہ شہیدؒ

1942ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔ چلچل سنگھ جو پہلے مسلمان تھا، ایک سکھ عورت کے عشق میں مرتد ہو گیا اور جنڈیالہ شیر خان کے قریب اس عورت کے گائوں میں جا بسا۔ یہ نامراد حق سے پھرا، انتہائی خبیث حرکتوں پر اتر آیا۔ سکھوں کے اکسانے پر جگہ جگہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور یاوہ گوئی کرنے لگا۔ مسلمانوں کی سخت دلآزاری ہوئی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا۔ چلچل سنگھ کے گائوں سے کوسوں دور رہنے والے عبداللہ انصاری کو ایک رات خواب میں حضور پرنور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! یہ مرتد مجھے دکھ پہنچا رہا ہے۔ اس کی زبان بند کرو صوفی عبد اللہ کی آنکھ کھلی تو اپنے اندر ایک عجیب ایمانی قوت اور جوش ولولہ محسوس کر رہا تھا۔ تقدیر نے اس کے لیے غازی اور شہید کے اعزاز لکھ دئیے تھے۔ وہ اٹھا اور یہ کہہ کر سکھ کے گائوں کی طرف روانہ ہو گیا:

اس مرتد نے شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، اس دنیا میں ہی سزا ملنی چاہئے او ریہ سزا میں دوں گا۔

اس عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حوصلہ اور امنگ دیکھو کہ تن تنہا سکھوں کے گائوں جا رہا تھا جو اپنی سفاکی، خونریزی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ضلع بھر میں بدنام تھے اور جن کے سامنے آس پاس کے سارے مسلمان خود کو بے بس او رمجبور پا رہے تھے۔ چلچل سنگھ کنویں پر بیٹھا تھااور پاس ہی کئی سکھ گپیں ہانک رہے تھے۔ غازی عبداللہ نے ان سے پوچھا: مجھے چلچل سنگھ سے ملنا ہے۔ ایک سکھ نے اس مردود کی طرف اشارہ کیا۔ غازی عبدا للہ نے بڑھ کر اسے دبوچ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا، اسے لٹا کر گلے پر چھری پھیر دی۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ غازی عبد اللہ نے چھری زمین پر رکھ کر بارگاہ الٰہی میں سجدئہ شکر ادا کیا پھر نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا۔ چہرے پر خوشی کی لہریں مچل رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سکھوں کا اژدھام ہو گیا مگر کسی میں غازی کے قریب آنے کی جرأت نہ تھی۔ پولیس کے سپاہی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور حیران ہو کر سکھوں سے پوچھا: یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر سارے، مگر اس کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔ گرفتاری کے وقت غازی عبداللہ اتنا خوش اور ہشاش بشاش تھا جیسے شادی کی تقریب میں آیا ہو۔ قریباً ایک برس مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر سزائے موت سنائی گئی۔ یہ دیوانہ تو بارگاہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے لیے پہلے ہی بیتاب تھا۔ شہادت سے سرفراز کیے جانے کی خوشخبری سن کر چہرہ بشاشت سے مزید چمک اٹھا۔

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را