غازی منظور حسین شہیدؒ
1941ء کی بات ہے۔ تھانہ ڈوہمن کے ڈاک بنگلہ میں ایک متعصب ہندو چودھری کھیم چند ایس ڈی او چکوال مقیم تھا۔ اس بدطینت کو مہاشہ راجپال کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔ بارگاہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی اور زبان درازی اس کا وتیرہ تھا۔ اسے توہین رسالتؐ کامزہ چکھانے کے لیے غازی منظور حسین اپنے ایک مخلص ساتھی ماسٹر عبد العزیز کے ہمراہ ڈاک بنگلہ گیا اور اس کی پیشانی پر پستول کا فائر کیا۔ ازاں بعد ماسٹر صاحب نے برچھیاں ماریں اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھیم چند اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ مقتول کے نزدیک اس کی بیوی سوئی ہوئی تھی۔ وہ بے گناہ تھی، لہٰذا اسے چھوڑ دیا اور یہ کہہ کر وہاں سے چلے گئے:
ہم نے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ لے لیا ہے۔ مسلمان ابھی اتنے بے غیرت نہیں ہوئے کہ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی پر چپ چاپ بیٹھے رہیں۔ دشمنوں سے نبٹنے کے لیے ابھی عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم واصل کرنے کے بعد یہ سر فروش جہادی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے۔ ان کے عزائم بہت بلند تھے۔ اور وہ جہادِ آزادی کشمیر کے لیے کام کرنا چاہتے تھے۔ سرفروش غازیوں کی یہ قلیل جماعت لکی مروت کے قریب ایک جگہ ٹھہری ہوئی تھی کہ پولیس کو خبر ہو گئی۔ پہاڑ کا طویل سفر طے کرنے کی وجہ سے مجاہدین پر تھکان غالب تھی۔ وہ ایک درخت کی ٹھنڈی چھائوں میں گہری نیند سو گئے تھے۔ پولیس نے ان کو بیدار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا اور بے خبری میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ یوں ان مجاہدوں کی سعید روحیں عالم بالا کو پرواز کر گئیں اور شہادت کا بلند مقام انہیں نصیب ہوا۔ یہ جولائی 1944ء کا واقعہ ہے۔