(سید امین گیلانیؒ)

          

   شاعرِ ختم نبوت سیّد امین گیلانیؒ فرماتے ہیں:

جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے، تحریک ختم نبوت 1953ء اپنے جوبن پر تھی۔ پولیس مجھے اور میرے بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہو گئی۔ اسیرانِ ختم نبوت بس میں ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔ ایک ملٹری آفیسر نے اس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب و جلال سے گرجا، تمھیں معلوم نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے، کون نعرے لگاتا تھا؟ اس اچانک صورتحال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا۔ معاً میرا ہاشمی خون کھول اٹھا۔ میں نے تن کر کہا میں لگاتا تھا۔ اس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا، اچھا اب نعرہ لگائو۔ میں نے پرُجوش آواز میں نعرہ لگایا میرا کملی والا سب نے بآواز بلند جواب دیا زندہ باد۔ اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی، منہ پھیر کر کہا، ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے۔ اور بس سے اتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا کہ جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی۔ پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا۔ اس نے بس کا دروازہ مقفل کر دیا۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے۔

ناز کیونکر نہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت والے

لوگ کہتے ہیں ہمیں ختم نبوت والے

جن کو ہے ختم نبوت کی حفاظت کا جنون

قسم اللہ کی یہی لوگ ہیں قسمت والے

قافلہ ختم نبوت کا ہے وہ جس میں ہیں سب

معرفت والے، یقیں والے، فراست والے

یہ کھلی بات ہے مرزائی ہیں غدارِ وطن

کیوں سمجھتے نہیں یہ بات حکومت والے

یاد تو ہوگا تمہیں قصۂ فرعون و کلیم

غرق جھوٹے ہوئے اور پار صداقت والے

تیرے دشمن سے امیںؔ لڑتا ہوا مر جائے

یہ ہے خواہش مری اے تاجِ شفاعت والے