مرزا قادیانی کی تضادبیانیاں

ایک شاعر نے کہا تھا:        

بات وہ کہیے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں                   کوئی تو پہلو رہے بات بدلنے کے لیے

آنجہانی مرزا قادیانی اس شعر کی مکمل تصویر تھا۔ گویا شاعر نے یہ شعر مرزا قادیانی ہی کے لیے کہا تھا یا پھر مرزا قادیانی نے اس شعر سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ بات کچھ بھی ہو، بہر حال یہ شعر مرزا قادیانی پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ آپ مرزا قادیانی کے کسی بیان یا کسی بھی تحریر پر غور کریں تو وہ اس شعر کی مکمل تفسیر یا گرگٹ کی تصویر نظر آئے گا۔ آپ اس مضمون کو پڑھیں اور غور فرما کر خود فیصلہ کریں، ان شاء اللہ آپ میری رائے سے متفق ہوں گے۔ مزید برآں سچے نبی کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کا کلام ہر قسم کے تضاد سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔ وہ کسی بات میں متضاد رائے نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے، اذن الٰہی سے کہتا ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نبوت و رسالت کا مدعی تھا۔ وہ ہر بات میں متضاد رائے رکھتا تھا۔ اس کی تحریریں مختلف تضادات سے بھری پڑی ہیں۔ حالانکہ اس کا دعویٰ تھا:

(1)        میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے  :مرزا قادیانی کا الہام ہے:   اعلموا ان فضل اللہ معی وان روح اللہ ینطق فی نفسی ترجمہ: جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے ساتھ بول رہی ہے۔

(انجام آتھم صفحہ 176 روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 176 از مرزا قادیانی)

صفحات کی کمی کے پیش نظر مرزا قادیانی کی تحریروں سے صرف چند حوالے پیش خدمت ہیں جن میں مکمل تضاد پایا جاتا ہے۔ پہلے تضادبیانی کے متعلق مرزا قادیانی کی قیمتی آرا ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں وہ خود اپنے دام میں کس طرح گرفتار ہوا ہے۔

(2)دو متضاد اعتقاد  :کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔ 

(ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا ادیانی)

(3)جھوٹاجھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔                             

(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی)

(4)مخبوط الحواس انسانہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔

(حقیقتہ الوحی صفحہ 191 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 191 از مرزا قادیانی)

(5)دو متناقض باتیںایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔                                                                                                             (ست بچن ص 31روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 143 )

(6)پاگل، مجنوں یا منافق  کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔                                          

                                                                          (ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کے الفاظ میں مذکورہ بالا اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس انسان کے کلام (تحریر) میں تناقض (تضاد) ہوتا ہے، وہ پاگل، منافق، مخبوط الحواس اور جھوٹا ہوتا ہے۔ آئیے مرزا قادیانی کے خود اپنے قائم کردہ معیار کے مطابق اس کی تحریریں ملاحظہ فرمائیں:

 

خدا تعالیٰ کا قانون قدرت:

پہلا موقف  (7)     خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا۔          

(کرامت الصادقین صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف(8)    وہ اپنے خاص بندوں کے لیے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔                                                                 (چشمۂ معرفت صفحہ 96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 104 از مرزا قادیانی)

مسیح کی قبر:

پہلا موقف  (9)یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔              

(ازالہ اوہام صفحہ 472 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف (10)بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آ گیا اور وہیں فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔                        (کشتی نوح صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 57، 58 از مرزا قادیانی)

دو بکریاں:

(11)مرزا قادیانی کاالہام ہے شَاتَانِ تُذْبَحَانِ۔ ترجمہ: دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ 

(براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ 610  روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 610 ]حاشیہ در حاشیہ[ از مرزا قادیانی)

پہلا موقف (12)    مولوی عبداللطیف قادیانی اور عبدالرحمان قادیانی :خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگرچہ میں تجھے قتل سے بچائوں گا۔ مگر تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی اور ہر ایک جو زمین پر ہے آخر فنا ہوگا یعنی بیگناہ اور معصوم ہونے کی حالت میں قتل کی جائیں گی۔ ۔۔۔ اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبداللطیف اور ان کے شاگرد عبدالرحمن کے بارے میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تئیس برس بعد پوری ہوئی۔ اب تک لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اس پیشگوئی کو میری کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ 511 میں پڑھا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ ابھی میں نے لکھا ہے بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے اور ایک اس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا ہے۔ یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں۔              

(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف(13)مرزا احمد بیگ اور اس کا دامادایسا ہی براہین احمدیہ میں احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق کی پیشگوئی کی نسبت صفحہ 510 اور صفحہ 511 میں اور صفحہ 515 میں پہلے سے خبر موجود ہے اور وہ یہ ہے شاتان تذبحان۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے ان پیشگوئیوں میں علاوہ اور پیشگوئیوں کے جو ان کے ضمن میں بیان کی گئیں دو بکریوں کے ذبح ہونے کی پیشگوئی احمد بیگ اور اس کے داماد کی طرف اشارہ ہے جو آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے۔                  (انجام آتھم صفحہ 56، 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 340,339، 341 از مرزا قادیانی)

اندھے کو اندھا کہنا :

پہلا موقف :(14)اندھے کو اندھا کہنا بھی دل دکھانا ہے:  خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت اور نوع انسان کی حقیقی بھلائی وہی شخص بجا لا سکتا ہے جو وقت شناس ہو ورنہ نہیں۔ مثلاً ایک شخص گو راست گو ہے مگر اپنی راستی کو حکمت کے ساتھ ملا کر استعمال نہیں کرتا بلکہ لاٹھی کی طرح مارتا ہے اور بے تمیزی سے ایک شریف خصلت کو بے محل کام میں لاتا ہے تو وہ ایک حکیم منش کے نزدیک ہرگز قابل تعریف نہیں ٹھہرتا۔ ایسے کو جاہل نیک بخت کہیں گے۔ نہ دانا نیک بخت اگر کوئی اندھے کو اندھا اندھا کر کے پکارے اور پھر کسی کے منع کرنے پر یہ کہے کہ میاں کیا میں جھوٹ بولتا ہوں تو اسے یہی کہا جائے گا کہ بے شک تو راست گو ہے مگر احمق یا شریر کہ جس راستی کے اظہار کی تجھے ضرورت ہی نہیں، اس کوواجب الاظہار سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کے دل کو دکھاتا ہے۔

                                                                            (شحنہ حق صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 366 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف:(15)اندھے کو اندھا کہنا درست ہے:2 مئی 1906ء کی ڈاک میں مجھے دہلی کے اندھے عیسائی احمد مسیح کا وہ اشتہار ملا تھا جس میں عیسائی مذکور نے اسلام اور عیسائیت کے درمیان آخری فیصلہ کرنے کے واسطے مجھے مباہلہ کے واسطے طلب کیا۔                                                                                        (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 671 طبع جدید از مرزا قادیانی)

مسیح موعود کی پیش گوئی:

پہلا موقف:(16) اجماع امت ہے:یہ تمام الفاظ و اسما ظاہر پر ہی محمول ہیں بلکہ صرف صورت پیشگوئی پر ایمان لے آئے ہیں پھر اجماع کس بات پر ہے۔ ہاں تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔                                                                                                        (ازالہ اوہام صفحہ 185 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 189 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف:(17)اجماع امت نہیں :اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ امت کے اجماع کو پیشگوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں اور ہمارے حال کے مولویوں کو یہ سخت دھوکا لگا ہوا ہے کہ پیشگوئیوں کو بھی جن کی اصل حقیقت ہنوز درپردۂ غیب ہے اجماع کے شکنجہ میں کھینچنا چاہتے ہیں۔                                                                                     (ازالہ اوہام ص402 روحانی خزائن جلد 3 ص 308 از مرزا )

حضرت مسیح علیہ السلام کے پرندوں کا اڑنا :

پہلا موقف:(18)قرآن سے ثابت ہے :   حضرت مسیح علیہ السلام کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآنِ کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھے۔                            (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 68 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف:(19) قرآن سے ثابت نہیں ہے:اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایۂ ثبوت نہیں پہنچتا۔          (ازالہ اوہام صفحہ 308 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ,256 257 از مرزا قادیانی)

مسیح موعود:

پہلا موقف:(20)میں مسیح موعود نہیں ہوں:اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔                                                                     (ازالہ اوہام صفحہ 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)

دوسرا موقف(21)میں ہی تو وہ مسیح موعود ہوں:میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔

                                                          (تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 295 از مرزا قادیانی)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام :

پہلا موقف(22)حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہیں:حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آ گئے ہیں۔

                                                        (ازالہ اوہام صفحہ623 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 436 از مرزاقادیانی)

دوسرا موقف(23)حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نہیں ہیں:حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو، اور پھر آنحضرت کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے کیونکہ گو وہ اپنے درجہ میں آنحضرت سے کیسے ہی کم ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں آ کر آنحضرت کی امت میں داخل نہ ہوں تب تک نعوذ باللہ وہ گمراہ اور بے دین ہیں یا وہ ناقص ہیں اور ان کی معرفت ناتمام ہے۔ پس میں اپنے مخالفوں کو یقینا کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہرگز نہیں ہیں۔                                                                                        (براہین احمدیہ پنجم صفحہ 192 خزائن جلد 21 صفحہ 364 )