قادیانی تحریفات (1 )

تحریف کا مفہوم ہے اصل الفاظ کو بدل کر کچھ اور لکھ دینا۔ اگر یہ تحریف اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید میں کی جائے تو تحریف کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل قرار پائے گا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جب کسی اسلام دشمن نے قرآن مجید کے کسی ایک حرف میں بھی تحریف کی ناپاک کوشش کی تو وہ بری طرح ناکام رہا اور ہمیشہ پوری دنیا میں ایک ہی جیسا قرآن مجید موجود رہا ہے۔ دشمنانِ اسلام مختلف ادوار میں قرآن مجید میں تین طرح کی تحریف کرنے کی کوشش کرتے رہے۔-1تحریف لفظی: آیات قرآن مجید میں الفاظ کی کمی بیشی۔-2تحریف معنوی: ترجمہ قرآن مجید کرنے میں ارادتہً اصل معنوں سے ہٹ کرکوئی دوسرا مفہوم بیان کرنا۔-3تحریف منصبی: جو آیات رسول اکرم کی شان میں نازل ہوئیں، ان کواپنے اوپر یا کسی اور پر منطبق کرنا، یا جو آیات مکہ مکرمہ یا بیت اللہ شریف کی شان میں ہوں، ان کو کسی اور جگہ پر چسپاں کرنا وغیرہ۔ قرآن مجید میں کسی بھی قسم کی تحریف جرم ہے اور اس کا مرتکب دنیا و آخرت میں عذابِ عظیم کا مستحق ہے۔

قادیانی مذہب کے بانی جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کے نام نہاد خلیفوں نے اپنی کتابوں میں قرآنی آیات کے حوالے سے ہر قسم کی تحریف روا رکھی۔خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں تحریف کرنے والا جماعت مومنین سے خارج، ملحد اور کافر ہے۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے:

(1)        ملحد اور کافر کون؟:اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتبِ سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔

                                         (ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی)

آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید میں کون سی تحریفات کیں اور کس طرح اپنے ہی مقرر کردہ معیار کے مطابق جماعت مومنین سے خارج، ملحد اور کافر ہو گیا؟

مسیلمہ کذاب کی تحریف قرآن:           مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب تک ہر جھوٹے مدعی نبوت نے اپنی خود ساختہ وحیاں قرآن مجید کی مقدس آیات میں تحریفات کر کے تیار کیں۔ یہاں صرف ایک مثال پیش خدمت ہے۔ مسیلمہ کذاب نے سورۃ الکوثر میں درج ذیل تحریف کی۔

مسیلمہ کذاب کی تحریف شدہ آیات:انا اعطینک الجواھر۔ فصل لربک وھاجر۔ ان مبغضک رجل فاجر۔ترجمہ:          ہم نے دئیے تجھ کو جواہرات۔ سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور ہجرت کر۔ بے شک جو دشمن رکھنے والا ہے تجھ کو، وہ بدکار شخص ہے۔

اسی طرح مسیلمہ پنجاب آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے گرو کی پیروی میں قرآنِ مجید کی بے شمار آیات میں تحریفات کیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں!

قرآن مجید کی لفظی تحریف:

اصل آیت قرآن:وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلاَّ اِذَا تَمَنّٰی اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْ اُمْنِیَّتِہٖ۔ (الحج : 52)

(2)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:وما ارسلنا من رسولٍ ولانبیّ الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ۔

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 از مرزا قادیانی)

یہاں مرزا قادیانی نے قرآن شریف کی آیت سے مِنْ قَبْلِکَ خارج کر دیا ہے کیونکہ اگر مِنْ قَبْلِکَ یہاں رہتا تو مرزا قادیانی کی نبوت کا ٹھکانا نہ رہتا۔

اصل آیت قرآن:اَلَمْ یَعْلَمُوْآ اَنَّہ مَنْ یُّجَادِ دِ اللّٰہ وَرَسُوْلَہ فَاَنَّ لَہ نَارَ جَھَنَّمَ خَالِداً فیھَاط ذٰلِکَ الْخزیُ الْعظِیْمُ۔ (التوبہ: 63)

(3)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:الم یعلموا انہ من یحاد داللہ ورسولہ ید خلہ نارا خالدا فیھا ذلک الخزی العظیم۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ 130 از مرزا قادیانی)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے یدخلہ اپنی طرف سے داخل کیا اور فان لہ اور جہنم کو خارج کردیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجودہ قادیانی قیادت نے کتاب کے جدید ایڈیشن میں قرآنی آیت کی تصحیح کردی ہے مگر ترجمہ اسی تحریف شدہ آیت کا دے دیا ہے۔ سچ ہے چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔

اصل آیت قرآن:     یایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ یَجْعَل لَکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیّاتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللّٰہُ ذُوالفَضْل العظِیْم۔ (الانفال:29)

(4)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:   یاایھاالذین امنوا ان تتقو اللہ یجعل لکم فرقاناً ویکفر عنکم سیاتکم ویجعل لکم نورا تمشون بہ۔                                                                           (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 177، از مرزا قادیانی)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے ویجعل لکم نورا تمشون بہ شامل کردیا اور ویغفرلکم واللہ ذوالفضل العظیم کو خارج کردیا۔

اصل آیت قرآن      :           کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍo وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِo (الرحمن : 27)

(5)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:   کُلُّ شَیْئٍ فَانٍ وَّ یبقٰے وجہ رَبّکَ ذوالجَلَالِ وَالْاکرام۔           

(ازالہ اوہام صفحہ 53 از مرزا قادیانی)

یہاںمرزا قادیانی نے من علیہا غائب کردیا اور اپنی طرف سے شیٔ کا اضافہ کردیا۔ مزید برآں دو آیتوں کو ایک آیت بنا دیا۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی کی کتاب ازالہ اوہام جس میں اس نے مذکورہ بالا قرآنی تحریف کی ہے، اس کے ٹائٹل پیج پر لکھا ہے:

(6)        دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ ازالہ اوھام، فیہ باس شدید ومنافع للناسط۔ الحمد و المنت کہ بماہ مبارک ذی الحجۃ ۱۳۰۸ھ کتاب جامع معارف قرآنی و شارح اسرار کلام ربانی از تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت جناب میرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔                                    (ازالہ اوہام، سرِ ورق، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 101 از مرزا قادیانی)

اصل آیت قرآن:وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَo(الحجر : 87)

(7)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:  اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ انا اتیناک سبعًا من المثانی والقرآن العظیم۔                                                                                  (براہین احمدیہ صفحہ 580 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 558 از مرزا قادیانی)

(8) مذکورہ کتاب براہین احمدیہ کے شروع میں دی گئی فہرست مضامین میں بھی اس آیت قرآنی کو اسی طرح تحریف شدہ لکھا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے(براہین احمدیہ صفحہ 6، مندرجہ روحانی خزائن جلد 1، صفحہ 6 از مرزا قادیانی)

اصل آیت قرآن:وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ۔ (التوبہ : 41)

(9)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:ان یجاھدوا فی سبیل اللّٰہ باموالھم وانفسھم۔  

(جنگِ مقدس، صفحہ 194 روحانی خزائن، جلد 6صفحہ 276 از مرزا )

مرزا قادیانی نے ان یجاھدو اور باموالہم وانفسھم کے الفاظ اپنی طرف سے داخل کیے اور وجاھدوا باموالکم وانفسکم کو خارج کرکے فی سبیل اللّٰہ کو آخر سے اٹھا کر درمیان میں رکھ دیا ہے۔ یہاں مسلمانوں سے خطاب اور جہاد کا حکم تھا۔ مرزا قادیانی نے یہاں جہاد کے حکم کو ختم کرنے کی ناپاک جسارت کی۔

 

 

اصل آیت قرآن:ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملٰئکۃ وقضی الامر۔ (البقرہ: 210)

(10)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:یوم یاتی ربک فی ظل من الغمام۔                                       

(حقیقت الوحی صفحہ 154، از مرزا قادیانی)

(11)      دیکھیے یہاں مرزا قادیانی نے تحریف قرآنی کرکے اس آیت کا کیا حلیہ بگاڑا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے شدید غم و غصہ کے نتیجہ میں موجودہ قادیانی قیادت نے جدید ایڈیشن میں اس آیت کی تصحیح کردی ہے۔ مشہور ہے کہ چور خواہ کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو،کوئی نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ قادیانی قیادت نے کیا کہ قرآنی آیت کی تصحیح تو کردی لیکن ترجمہ اسی تحریف شدہ آیت کا دے دیا ملاحظہ کریںحقیقت الوحی صفحہ 154، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22 صفحہ 158، از مرزا قادیانی۔

اصل آیت قرآن:عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا۔ (بنی اسرائیل : 8)

(12)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:عسٰی ربکم ان یرحم علیکم و ان عدتم عدنا و جعلنا جھنم للکافرین حصیراً۔

(براہین احمدیہ صفحہ 505 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 601 از مرزا قادیانی)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے لفظ کم ختم کرکے اپنی طرف سے علیکم کا اضافہ کردیا۔

اصل آیت قرآن:ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَo (توبہ : 33)

(13)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق و تہذیب الاخلاق۔

اس آیت میں مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے لفظ تہذیب الاخلاق کا اضافہ کیا۔

(اربعین نمبر 3 صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 425 از مرزا قادیانی)

اصل آیت قرآن: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ الرَّحِیْمٌo (آل عمران: 31)

(14)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم ویرحم علیکم وھو ارحم الراحمین۔                           (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 551 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 551 از مرزا قادیانی)

اس آیت میں مرزا قادیانی نے واللہ غفور الرحیم ختم کرکے اپنی طرف سے ویرحم علیکم وھو ارحم الراحمین کا اضافہ کردیا ہے۔

اصل آیت قرآن: یٰسٓo والقرآن الحکیمo انک لمن المرسلینo علٰی صراط مستقیمo تنزیل العزیز الرحیمo (یٰسین:1 تا 5)

(15)مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت:یٰسٓ انک لمن المرسلین۔ علی صراط مستقیم۔ تنزیل العزیز الرحیم۔ (ترجمہ مرزا قادیانی) اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے، راہ راست پر، اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ 107 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110 )

ان آیات میں مرزا قادیانی نے متعدد تحریفات کی ہیں:۔-1    ان آیات میں مرزا قادیانی نے خود کو صاحب یٰسین کہا اور بزور (خانہ ساز) الہام ان آیات کو اپنے اوپر منطبق کر لیا۔ گویا اب یہ خطاب سید المرسلین کے بجائے مرزا قادیانی کو منتقل ہو گیا۔ (نعوذ باللہ)!-2قرآن مجید میں یٰسٓ کے بعد وَالْقُرْآنِ الْحَکِیْمِ ہے جس میں قرآن حکیم کی قسم کھائی گئی ہے اور اگلی آیت اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اس قسم کا جواب ہے، مگر مرزا قادیانی نے تحریف لفظی کر کے وَالْقُرْآنِ الْحَکِیْمِ کی آیت کو حذف کر دیا، اور جوابِ قسم بغیر قسم کے ذکر کر دیا۔-3          قرآن کریم میں تَنْزِیْلُ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمِ کی آیت، قرآن حکیم سے متعلق ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن، عزیز رحیم خدا کی جانب سے نازل شدہ ہے، مگر مرزا قادیانی خود اپنے آپ کو نازل شدہ سمجھ بیٹھے، اور اس آیت کو بھی اپنی صفت قرار دے کر یہ ترجمہ کیا: اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔