قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند کیا جائے

 

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کا جذبہ ختم کرنے کے لئے قادیان کے رہنے والے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کا دعویٰ کرنے کے لیے تیار کیا۔ مرزا قادیانی نے انگریز کی سرپرستی میں جھوٹی نبوت کا اعلان کیا اور اسلام کے مقابلہ میں جماعت احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔ مرزا قادیانی کے ماننے والے خود کو احمدی کہلواتے ہیں جبکہ انھیں مرزائی اور قادیانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ پاک و ہند کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ قادیانی عقائد و نظریات اسلام سے نہ صرف مکمل طور پر مخالف بلکہ سخت نقصان دہ ہیں۔ مرزا قادیانی کی کئی تحریریں توہین رسالتصلی اللہ علیہ وسلم  پر مبنی ہیں۔ اس سے مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوتی ہے اور ان میں اشتعال پھیلتا ہے۔ خود علامہ اقبال مرزا قادیانی کی توہین رسالتصلی اللہ علیہ وسلم  پر مبنی تحریریں پڑھنے کے بعد نہ صرف اس کے سخت خلاف ہوئے بلکہ سب سے پہلے انھوں نے اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے نہرو کے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ احمدی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔

مسلمان، مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، اس لیے قادیانی خود کو مسلمان جبکہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ قادیانی اپنی تقریروں اور تحریروں میں نہ صرف شعائر اسلامی کی توہین کرتے ہیں بلکہ اپنے اخبارات و رسائل اور لٹریچر کے ذریعے اپنے کفریہ اور ارتدادی عقائد و نظریات کی سرعام تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی ہے جس سے ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو جاتی ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی جس میں 10 ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ پھر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دور حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک چلی۔ چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے 13 دن کی طویل بحث کے بعد قادیانیوں کا موقف سننے کے بعد متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ ایک ایسا تاریخی فیصلہ تھا کہ بجائے جمہوریت کی بنیاد پر اکثریتی رائے سے کوئی فیصلہ ہوتا، یہاں مخالف فریق کو بلا کر ان کا موقف سنا گیا اور پھر اس کی روشنی میں پارلیمنٹ نے متفقہ فیصلہ کیا۔ قادیانیوں نے آئین پاکستان میں ہونے والی اس متفقہ ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی اینٹی اسلام سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ اس کے نتیجہ میں پھر 1984ء میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کی توہین سے روکنے کے لیے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ جس کی وجہ سے تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298-B اور-C 298 کا اضافہ ہوا۔ اس قانون کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا، شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے مذہب کو بطور اسلام پیش کر سکتا ہے۔

قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کی ہدایت پر نہ صرف اس پابندی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ پورے ملک میں اس آرڈیننس کا تمسخر اڑایا اور اس کی خلاف ورزی کی۔ قادیانیوں نے اس آرڈیننس کو حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا اور اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا۔ اعلیٰ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اس آرڈیننس کو درست قرار دیا اور فیصلہ دیا کہ قادیانیوں پر شعائر اسلامی استعمال کرنے کی پابندی نہ صرف آئین کے مطابق ہے بلکہ یہ ملک بھر میں امن و امان کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر جو تاریخ ساز فیصلہ دیا وہ پڑھنے کے لائق ہے ۔ استفصیلی فیصلہظہیر الدین بنام سرکار 1993  SCMR  1718 کی رو سے عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کر کے اور شعائرِ اسلام استعمال کرکے دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اسلام کی عظیم ہستیوں کی دانستہ توہین کرنا چاہتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کا دوسروں کو دھوکہ دینے کاارادہ نہیں تو وہ اپنے لئے نئے القابات کیوں وضع نہیں کرلیتے ۔ آخر دنیا میں اور بھی مذاہب ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ اس فیصلہ میں قادیانیوں کے خفیہ عقائد پر سیر حاصل بحث کی گئی اور آخر میں جج صاحبان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اگر قادیانیوں کو شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ سلمان رشدی بنانے کے مترادف ہو گا۔

قادیانی عقائد و عزائم کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیوروکریسی اور پولیس میں بہت کم افسران ایسے ہوں گے جو تعزیرات پاکستان میں موجود قادیانیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں پر پابندی کی دفعہ  298-C , 298-Bاور اس کی عدالتی تاریخ سے واقف ہوںاور نہ ہی انتظامی افسران نے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے اس تاریخی فیصلہ ظہیر الدین بنام سرکار 1993  SCMR  1718 کے مطالعہ کی زحمت گوارا کی ہوگی حالانکہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد پاکستان میں امن و امان قائم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تفصیلی فیصلہ میں قادیانیوں کے خفیہ عقائد پر سیر حاصل بحث کی گئی اور آخر میں جج صاحبان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اگر قادیانیوں کو شعائر اسلامی  کےاستعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ سلمان رشدی بنانے کے مترادف ہو گا۔

یہ فیصلہ اس وقت قانون کی کتابوں میں تو موجود ہے مگر انتظامیہ کی اسلام بے زاری کی وجہ سے آج تک اس کے کسی ایک جزو پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس سے بڑھ کر قانون کے ساتھ اور کیا شرمناک مذاق ہو سکتا ہے؟ کہ ملک کی منتخب پارلیمنٹ کی طرف سے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کردہ قانون بھی ہو۔ قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کے ارتکاب پر تعزیرات پاکستان میں دفعہ بھی موجود ہو اور اس پر عمل درآمد نہ ہو۔ مسلمانوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو آئین و قانون کے احترام کا پابند کیا جائے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے تاکہ پھیلنے والی بے چینی ختم ہو سکے۔