سپریم کورٹ کی نظر میں قادیانی اخلاق

 

محمد ہاشم تہامی ایڈووکیٹ

 

قادیانی حقیقی مسلمان ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ مسلمان کو جو چودہ سو سال سے دین اسلام پر چل رہے ہیں غیر مسلم اور حرامی ،رنڈیوں کی اولاد ، جہنمی اور پکا کافرکہتے ہیں اور ان کے خلاف بدترین زبان استعمال کرتے ہیں۔ Love for All, Hatred for Noneکا نعرہ بلندکرنے والے قادیانیوں کے عقائد اور تحریرات میں مسلمانوں کے ساتھ شادی بیاہ سے لیکر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میںبائیکاٹ کا حکم ہے اوربھرپور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں۔

سپریم کورٹ کے5رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلہ مندرجہ  (1993   SCMR   1718) میںامت مسلمہ کے بارے میں قادیانیوں کا عقیدہ لکھاہے کہ

امر واقعہ یہ ہے کہ احمدیوں نے باطنی طور پر اپنے بارے میں حقیقی مسلمان برادری ہونے کا اعلان کر رکھا ہے انہوں نے خود کو اصل امت مسلمہ سے اس بناء پر الگ کر لیا ہے اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں کہ مسلمان مرزا قادیانی بانی جماعت احمدیہ کو پیغمبر اور مسیح موعود کیوں نہیں مانتے۔ یہ عقیدہ خود مرزا صاحب کی ہدایات کے تحت اپنایا گیا ہے جو برملا کہتا تھا کہ

(A)  میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد جن کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی ہے وہ مجھے نہیں مانتے  (آئینہ کمالات اسلام ص 547548) (مندرجہ روحانی خزائن ص 547548 ج 5)

 ایک نبی نے جو زبان استعمال کی ہے اور مخاطبوں پر اس کا جو اثر ہو سکتا ہے وہ قابل غور ہے۔

(B)  ایسی لغو اور بے ہودہ زبان کے استعمال کی اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن ہم صرف ایک اور مثال دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔

دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔ (نجم الہدیٰ از غلام احمد قادیانی ص 10) (مندرجہ روحانی خزائن ص 53 ج 14)

(C)  مرزا قادیانی کے حوالہ سے اس کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے (جو کہ اس کا بیٹا بھی ہے) بحوالہ الفضل مورخہ 30 جولائی 1931ء طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کی مرکزی جماعت کے ساتھ علاقہ و رشتہ کے بارے میں انہیں اس طرح نصیحت کی کہمرزا قادیانی صاحب کے زمانہ سے یہ بحث چلی آ رہی ہے کہ آیا احمدیوں کے لیے دینیات کی تعلیم کے مستقل مراکز ہونے چاہئیں یا نہیں۔ ایک نقطۂ نظر اس کے خلاف تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ احمدیوں اور مسلمانوں کے مابین چند اختلافات حضرت صاحب نے دور کر دیئے تھے اور انہوں نے صرف معقولات کی تعلیم دی ہے۔ جہاں تک دوسرے علوم کا تعلق ہے ان کی تعلیم دوسرے اسکولوں میں حاصل کی جا سکتی ہے دوسرا نقطۂ نظر اس کی حمایت میں تھا۔ پھر خود مرزا صاحب نے اس کی اس طرح وضاحت کی کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ احمدیوں کا اختلاف محض حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت اور بعض دوسرے مسائل پر ہے ان کے مطابق یہ اختلافات وجود باری تعالیٰ رسول اکرم  کی ذات قرآن نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کے بارے میں بھی ہیں۔ پھر انہوں نے ہر ایک نکتہ کو تفصیل سے بیان کیا۔

(D)       اللہ کی طرف سے مجھ پر وحی آئی ہے کہجو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ اشتہار معیار الاخیار منجانب مرزا قادیانی ص 8 (مندرجہ مجموعہ اشتہارات ص 275 ج3 )

(E)        اپنے عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے مرزا صاحب نے کہا:پس یاد رکھو کہ جبکہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اربعین نمبر 3 ص 28 حاشیہ (مندرجہ روحانی خزائن ص 417 ج 17)

(F)        اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے ا س پر ایمان لائو اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (انجام آتھم از مرزا قادیانی ص 62)(مندرجہ روحانی خزائن ص62 ج 11)

(G)       جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔ (نزول المسیح قادیان 1909ء   ص 4) ( مندرجہ روحانی خزائن ص 383 حاشیہ جلد 18)

(H)  جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ (حقیقت الوحی 1906ء ص 163۔164) (مندرجہ روحانی خزائن ص 168 جلد 22)

(I)         کہا جاتا ہے کہ کسی نے مرزا صاحب سے جب یہ سوال کیا کہ ایسے لوگوں کے یپچھے نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے جو انہیں کافر نہیں سمجھتے تو انہوںنے اپنے طویل جواب کے آخر میںکہا: ایسے اماموں کی طرف سے ان لوگوں کی بابت طویل اشتہار شائع ہونا چاہیے جو مجھے کافر کہتے ہیں تب میں انہیں مسلمان سمجھوں گا تاکہ تم ان کی امامت میں نماز پڑھ سکو۔ (بدر 24 مئی 1908ء جیسا کہ اسے مجموعہ فتاویٰ احمدیہ جلداول ص 307پر نقل کیا گیا ہے)

(J)اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ         ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ (دیکھئے مرزا قادیانی کا خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی کے نام حقیقت الوحیصفحہ 163) (مندرجہ روحانی خزائن ص 167 جلد 22)

(K)        اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم اور حیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ (دیکھئے انوار الاسلام از مرزا قادیانی ص30) ( مندرجہ روحانی خزائن ص 31جلد 9)

  اسی طرح کی دیگر تحریریں ڈھیروں کی صورت میں موجود ہیں جو نہ صرف مرزا صاحب کے اپنے قلم سے ہیں بلکہ اس کے نام نہاد خلفا ء اور پیروکاروں نے بھی لکھی ہیں جو کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کرتی ہیں کہ وہ مذہبی لحاظ سے اور معاشرتی طور پر مسلمانوں سے ایک الگ اور مختلف برادری ہیں۔

 (1993 SCMR 1718)