حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نشانیاں

 

(احادیث مبارکہ کی روشنی میں)

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار اور منفرد معجزات سے نوازا، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات مقدسہ اس لحاظ سے یگانہ ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت کا واقعہ معجزانہ طور پر ہوا۔ آپ کا زندہ آسماں پر جانا بھی خارقِ عادت اور حیرت انگیز معجزہ کی حیثیت میںوقوع پذیر ہوا، اور قیامت کے قریب آپ کا نزول بھی ایک زبردست معجزانہ حیثیت کا حامل ہوگا۔

حضرت مسیح موعود کا نام عیسیٰ علیہ السلام، کنیت ابن مریم، لقب مسیح، کلمتہ اللہ، روح اللہ ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام مریم علیہا السلام ہے۔ قرآن مجید کے مطابق آپ بغیر والد کے محض قدرت خداوندی سے پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا کا نام عمران علیہ السلام، ماموں کا نام ہارون (ہارون سے مراد ہارون علیہ السلام نہیں کیونکہ وہ تو حضرت مریم سے بہت پہلے گزر چکے تھے بلکہ ان کے نام پر حضرت مریم کے بھائی کا نام ہارون رکھا گیا تھا۔) نانی کا نام امرأۃ عمران (حنّہ) ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام مریم علیہا السلام ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام ہمیشہ شیطان سے محفوظ رہیں۔ ان کی نشوونما ایک کرامت ہے کہ وہ ایک دن میں ایک سال کی ہو گئیں۔ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی رزق آتا تھا۔ فرشتے ان سے ہمکلام ہوتے ۔حضرت مریم علیہا السلام، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے حد مقبول تھیں۔ وہ حیض سے پاک تھیں۔ تمام دنیا کی موجودہ عورتوں سے افضل تھیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام وجیہ الشکل، درمیانے قد و قامت اور سفید سرخی مائل رنگت کے ہوں گے۔ ان کے سر کے بالوں کی لمبائی دونوں شانوں تک ہو گی۔ ان کے بالوںکا رنگ بہت سیاہ، چمکدار جیسے نہانے کے بعد ہوتے ہیں۔ بال سیدھے یعنی پیچدار نہ ہوں گے۔ صحابہ کرامؓ میں سے حضرت عروہ بن مسعودؓ کے مشابہ ہوں گے۔ آپ کی خوراک لوبیا اور جو چیزیں آگ پر نہ پکیں، ہوں گی۔ حضرت مسیح موعود کے خصائص و معجزات میں یہ بات شامل ہے کہ وہ بحکم خداوندی مُردوں کو زندہ کرتے۔ برص کے بیمار کو تندرستی دیتے۔ بحکم خداوندی مادر زاد اندھے کو شفا بخشتے، مٹی کی چڑیوں میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان ڈالتے۔

یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی اور کفار کے نرغہ کے وقت آپ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت پھر آسمان سے واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔ نزول کے وقت آپ کے جسم پر زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی۔ جن میں سے ایک کو تہ بند بنا کر باندھا ہوا ہوگا، دوسرے چادر کے طور پر اوڑھ رکھا ہوگا جب سر جھکائیں گے تو اس سے چاندی کے موتی کی طرح پانی کے قطرے ٹپکیں گے۔ آپ کے سر پر ایک لمبی ٹوپی ہوگی۔ آپ زرہ پہنیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے وقت دونوں ہاتھ فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا جس سے دجال کو قتل کریں گے۔ اس وقت جس کسی کافر پر آپ کے سانس کی ہوا پہنچ جائے گی، وہ مر جائے گا۔ آپ کے سانس کی ہوا اتنی دور تک پہنچے گی، جہاں تک آپ کی نظر جائے گی۔ آپ کا نزول ملک دمشق میں ہوگا۔ دمشق کی مرکزی جامع مسجد کے شرقی (سفید) مینارہ کے قریب ہوگا۔ آپ کا نزول صبح کے وقت ہوگا۔ مسلمانوں کی ایک جماعت جو دجال سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے ہوں گے، ان کی تعداد آٹھ سو مرد اور چار سو عورتیں ہوں گی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے چند منٹ پہلے یہ لوگ نماز فجر کے لیے اپنی صفیں درست کر رہے ہوں گے۔ اس وقت اس جماعت کے امام حضرت مہدی ہوں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کے لیے بلائیں گے، مگر وہ انکار کریں گے۔ جب حضرت مہدیؓ پیچھے ہٹنے لگیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر انھیں امام بنائیں گے۔ پھر حضرت مہدی نماز پڑھائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پنتالیس سال تک دنیا میں قیام فرمائیں گے۔ آپ نکاح کریں گے۔ آپ کا نکاح حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں ہوگا۔ روایت ہے کہ رسول اللہصلی اﷲ علیہ وسلم نے قبیلہ جذام کے وفد سے فرمایا: تمہارا آنا مبارک ہو اور قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک مسیح علیہ السلام تمہاری قوم میں نکاح نہ کریں اور ان کے اولاد پیدا نہ ہو۔ قبیلہ جذام قوم شعیب ہی کی ایک شاخ ہے اور قوم شعیب کا حضرت موسیٰ کا سسرال ہونا قرآن حکیم (سورۃ قصص: 26 تا 28) سے ثابت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہونے کے بعد قبیلہ جذام کی کسی خاتون سے نکاح فرمائیں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔ اس طرح اس قبیلہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہونے کا شرف بھی حاصل ہو جائے گا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اولاد بھی ہوگی۔ ایک روایت کے مطابق آپ کے دو صاحبزادے ہوں گے۔ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام موسیٰ رکھیں گے۔ نزول کے بعد حضرت مسیح موعود صلیب توڑیں گے۔ یعنی صلیب پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے یعنی نصرانیت کو مٹائیں گے۔ آپ نماز سے فارغ ہو کر مسجد کا دروازہ کھلوائیں گے تو سامنے دجال نظر آئے گا۔ پھر آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دجال اور یہودیوں کے ساتھ جہاد کریں گے۔ آپ دجال کو ارض فلسطین میں مقام لُد پر قتل کریں گے۔ (باب لُدّ ایک پہاڑی ہے جو شام میں واقع ہے، بعض محققین کہتے ہیں کہ لُدّ (Lydda) ملک شام اور موجودہ اسرائیل کی سرحد پر آخری شہر ہے۔ بعض کے نزدیک یہ یروشلم کے ایک گائوں کا نام ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ فلسطین کا ایک مقام ہے۔ یہ مقام آج کل یہودیوں کے تسلط میں ہے۔ تل ابیب سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر اس مقام پر نام نہاداسرائیلی حکومت کاایک بڑا فوجی ایئر پورٹ بھی ہے اور لُدّ ہی کے نام سے مشہور ہے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس وقت لُدّ کا ذکر فرمایا تھا جب اسرائیل نامی کسی ریاست کا کوئی وجود بھی نہ تھا۔ اس کے بعد تمام دنیا مسلمان ہو جائے گی۔ جو یہودی باقی ہوں گے، چن چن کر قتل کر دیے جائیں گے۔ کسی یہودی کو کوئی چیز پناہ نہ دے سکے گی۔ یہاں تک کہ درخت اور پتھر بول اٹھیں گے کہ ہمارے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے۔ اس وقت اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔ اور جہاد موقوف ہو جائے گا کیونکہ کوئی کافر ہی نہ رہے گا اور اس لیے جزیہ اور خراج کا حکم بھی باقی نہ رہے گا۔ مال و زر لوگوں میں اتنا عام ہو جائے گا کہ کوئی (صدقہ یا زکوٰۃ کی شکل میں) قبول نہ کرے گا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ حضرت مہدی نماز کی امامت کریں گے، بعد میں تمام نمازوں اور دیگر معاملات کی امامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقام فج الروحاء میں تشریف لے جائیں گے۔ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر بھی حاضری دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو سلام کا جواب دیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن و سنت پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ہر قسم کی دینی اور دنیوی برکات نازل ہوں گی۔ سب کے دلوں سے بغض و حسد اور کینہ نکل جائے گا۔ ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ ایک جماعت کے لیے کافی ہوگا۔ ایک دودھ دینے والی اونٹنی لوگوں کی ایک جماعت کے لیے کافی ہوگی۔ ایک بکری ایک قبیلہ کے لیے کافی ہوگی۔ ہر ڈنک والے زہریلے جانور کا ڈنک وغیرہ نکال لیا جائے گا، یہاں تک کہ اگر ایک بچہ سانپ کے منہ میں ہاتھ دے گا تو وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ ایک لڑکی شیر کے دانت کھول کر دیکھے گی اور وہ اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے گا۔ بھیڑ یا، بکریوں کے ساتھ ایسا رہے گا جیسا کتا ریوڑ کی حفاظت کے لیے رہتا ہے۔ ساری زمین امن و امان سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے۔ صدقات کا وصول کرنا چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ برکات سات سال تک رہیں گی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے ایک رومی لشکر مقام اعماق یا وابق میں اترے گا۔ ان سے جہاد کے لیے مدینہ سے ایک لشکر چلے گا۔ یہ لشکر اپنے زمانہ کے بہترین لوگوں کا مجمع ہوگا۔ اس جہاد میں لوگوںکے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ ایک تہائی حصہ شکست کھائے گا۔ ایک تہائی شہید ہو جائے گا۔ اور ایک تہائی فتح پائیں گے۔ قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا۔ جس وقت وہ مال غنیمت تقسیم کرنے میں مشغول ہوں گے تو خروجِ دجال کی غلط خبر مشہور ہو جائے گی۔ لیکن جب لوگ ملک شام واپس آئیں گے تو دجال نکل آئے گا۔ عرب اس زمانہ میں بہت کم ہوں گے اور اکثر بیت المقدس میں ہوں گے۔ مسلمان دجال سے بچ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے۔ اس وقت مسلمان سخت فقر و فاقہ میں مبتلا ہوں گے۔ اس وقت اچانک ایک مناد آواز دے گا کہ تمہارا فریاد رس آ گیا۔ لوگ تعجب سے کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے کی آواز ہے۔

مسلمانوں کا ایک لشکر ہندوستان سے جہاد کرے گا اور اس کے بادشاہوں کو قید کرے گا۔ یہ لشکر اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و مغفور ہوگا۔ جس وقت یہ لشکر واپس ہوگا تو عیسیٰ علیہ السلام کو ملک شام میں پائے گا۔ شام و عراق کے درمیان دجال نکلے گا۔ فتنہ دجال اتنا سخت ہوگا کہ تاریخِ انسانی میں اس سے بڑا فتنہ نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔ اس لیے تمام انبیائے کرام اپنی اپنی امتوں کو اس سے خبردار کرتے رہے۔ مگر اس کی جتنی تفصیلات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائیں، کسی اور نبی نے نہیں بتلائیں۔ وہ پہلے نبوت کا اور اس کے بعد خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی پیشانی پر کافر اس صورت میں لکھا ہوگا ۔ک۔ف۔ر۔ جسے ہر مومن پڑھ سکے گا، خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ دجال جوان ہوگا اور عبدالعزیٰ بن قطن کے مشابہ ہوگا۔ رنگ گندمی اور بال پیچدار ہوں گے۔ دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی۔ وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔ دجال کی رفتار بادل اور ہوا کی طرح تیز ہوگی۔ تمام دنیا میں پھر جائے گا کوئی جگہ باقی نہ رہے گی جہاں وہ نہ پہنچے۔ البتہ حرمین شریفین مکہ و مدینہ اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے ہر راستے پر فرشتوں کا پہرہ ہوگا، جو دجال کو اندر نہ گھسنے دیں گے۔ جب دجال کو مکہ و مدینہ سے دفع کر دیا جائے گا تو ظریب احمر میں سبخہ (کھاری زمین) کے ختم پر جا کر ٹھہرے گا۔ اس وقت مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے جو منافقین کو مدینہ سے نکال پھینکیں گے اور تمام منافق مرد عورت دجال کے ساتھ جا ملیں گے۔ اس کے ساتھ ظاہری طور پر جنت و دوزخ ہوگی مگر حقیقت میں اس کی جنت دوزخ، دوزخ جنت ہوگی۔ اس کے زمانہ میں ایک دن سال بھر کے برابر، دوسرا مہینہ بھر کے برابر، اور تیسرا ہفتہ کے برابر ہوگا اور پھر باقی ایام اسی طرح معمول کے مطابق ہوں گے۔ دجال ایک گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا۔ اس کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو لوگوں سے کلام کریں گے۔ جب وہ بادل سے کہے گا تو فوراً بارش ہو جائے گی اور جب چاہے گا تو قحط پڑ جائے گا۔

دجال مادر زاد اندھے اور برص کے مریض کو تندرست کر دے گا۔ زمین کے پوشیدہ خزانوں کو حکم دے گا تو فوراً باہر آ کر اس کے پیچھے ہو جائیں گے۔ دجال ایک نوجوان آدمی کو بلائے گا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے درمیان سے کر دے گا اور پھر اس کو بلائے گا تو وہ صحیح سالم ہو کر ہنستا ہوا سامنے آ جائے گا۔ دجال کے ساتھ 70 ہزار یہودی ہوں گے جن کے پاس جڑائو تلواریں اور ساج ہوں گے۔ لوگوں کے تین گروہ ہو جائیں گے۔ ایک گروہ دجال کی اتباع کرے گا۔ ایک گروہ اپنی کاشتکاری میں لگا رہے گا اور ایک گروہ دریائے فرات کے کنارے پر اس کے ساتھ جہاد کرے گا۔ مسلمان ملک شام کی بستیوں میں جمع ہو جائیں گے اور دجال کے پاس ایک ابتدائی لشکر بھیجیں گے۔ اس لشکر میں ایک شخص ایک سرخ یا سیاہ و سفید گھوڑے پر سوار ہوگا اور یہ سارا لشکر شہید ہو جائے گا۔ ان میں سے ایک بھی واپس نہ آئے گا۔ دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں۔ اس وقت تمام یہودیوں کو شکست ہوگی۔ حدیث شریف کے مطابق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات کو دجال سے تحفظ کا ذریعہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نکالے گا جن کا سیلاب تمام عالم کو گھیرے گا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام مسلمانوں کو پہاڑ طور پر جمع فرما دیں گے۔ یاجوج ماجوج کی فوج کا ابتدائی حصہ جب دریائے طبریہ پر گزرے گا تو سب دریا کو پی کر صاف کر دے گا۔

اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاجوج و ماجوج کے لیے بددعا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گلوں میں ایک گلٹی نکال دے گا جس سے سب کے سب آہستہ آہستہ مر جائیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر جبل طور سے زمین پر اتریں گے مگر تمام زمین یاجوج و ماجوج کے مُردوں کی بدبو سے بھری ہوئی ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دعا کریں گے کہ بدبو نابود ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جس سے تمام زمین دھل جائے گی۔ پھر زمین اپنی اصلی حالت پر ثمرات و برکات سے بھر جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو فرمائیں گے کہ میرے بعد ایک شخص کو خلیفہ بنائیں جس کا نام مقعد ہے۔ اس کے بعد آپ کی وفات ہو جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر میں چوتھی قبر آپ کی ہوگی۔ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم ارشاد کے لیے مقعد کو خلیفہ بنائیں گے۔ پھر مقعد کا بھی انتقال ہو جائے گا۔ پھر لوگوں کے سینوں سے قرآن اٹھا لیا جائے گا۔ یہ واقعہ مقعد کی وفات سے تقریباً تیس سال بعد ہوگا۔ اس کے بعد قیامت کی بالکل قریبی علامات ظاہر ہوں گی۔