حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث مبارکہ(2)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لیے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کی تعبیر و تشریح حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے بغیر ممکن نہیں۔ احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم  ہمیں قرآنی احکام کی عملی تصویر مہیا کرتی ہیں۔ صلوٰۃ، زکوٰۃ، تیمم، حج، عمرہ، صوم یہ محض الفاظ ہیں لغات ہمیں ان الفاظ کے وہ معانی نہیں بتاتیں جو شریعت میں مطلوب ہیں۔ پس اگر احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم موجود نہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن مجید کے معانی، شریعت کے مطابق متعین کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا اور اس کی تشریح و تفسیر حضور سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کر دی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم و لعلھم یتفکرون۔(النحل:44)  ترجمہ: ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف ذکر (قرآن مجید) نازل فرمایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے) کھول کر لوگوں کو بیان کریں کہ ان کی طرف کیا احکام نازل کیے گئے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

اسلام میں حدیث کی آئینی و دستوری حیثیت اور حجیت کے بارے حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے فکر انگیز ارشادات ملاحظہ کیجیے:

q          عن المقدام بن معدی کرب قال قال رسول اللّٰہ الا انی ادیت القرآن و مثلہ معہ الا یوشک رجل شبعان علیٰ اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاجلوہ وما و جدتم فیہ من حرام فحرموہ و انما حرم رسول اللّٰہ کما حرم اللّٰہ۔ (مشکوٰۃ، ابوداؤد، ابنِ ماجہ)

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے، کہ رسولِ اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: خبردار رہو، یقینا مجھے قرآن بھی عطا ہوا ہے اور قرآن ہی کے مثل ایک اور چیز، خبردار رہو، عنقریب ایک شکم سیر آدمی اپنے مزین و آراستہ پلنگ یا صوفے پر بیٹھ کر کہے گا کہ بس قرآن ہی کا (اتباع) فرض ہے۔ قرآن ہی کے حلال کیے ہوئے کو حلال، اور قرآن ہی کے حرام کیے ہوئے کو حرام تسلیم کرو۔ حالانکہ اللہ کے رسول نے جو کچھ حرام کیا ہے، وہ بھی ایسا ہی ہے، جیسا کہ اللہ نے حرام کیا ہو۔

سچے اللہ کے مخبر صادق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلمکی یہ پیشگوئی لفظ بہ لفظ پوری ہو رہی ہے۔ آج بنگلوںمیں رہنے والے اور فراغت و خوشحالی و عیش و نشاط سے زندگی گزارنے والے لوگ منکرین حدیث قادیانی، پردیزی وغیرہ حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں اور صرف قرآن کو حجت قرار دیتے ہیں۔ شیخ المفسرین حضرت علامہ حافظ ابن کثیرؒ تحریر فرماتے ہیں:حضرت محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ آپؐ نے خبر دی کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے(تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 132)۔معلوم ہوا کہ نزول مسیح کی احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ خالد محمود لکھتے ہیں:آنحضرتصلی اﷲ علیہ وسلم  سے جو حدیثیں تواتر کے ساتھ منقول ہیں، ان کی تکذیب بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔ سو حدیث متواتر سے ثابت ہونے والے جملہ امور پر ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دیا جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔ (آثار الحدیث جلد 2 صفحہ 128)

تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قربِ قیامت زمین پر نازل ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم  سے 30 سے زائد صحابہ کرامؓ روایت کر رہے ہیں۔ احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اس کے بعد ان کے کارناموں اور ذمہ داریوں نشانیاں بڑے واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہیں۔ 70 سے زائد ان احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں سے چنداحادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے:

دوسری حدیث

(2)        عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الانبیاء اخوۃ العلات دینھم واحد و امھاتھم شتی وانا اولی الناس بعیسی ابن مریم لانہ لم یکن بینی و بینہ نبی وانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض سبط کان راسہ یقطروان لم یصسبہ بلل بین ممصرتین فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ ویعطل الملل حتی یھلک اللّٰہ فی زمانہ الملل کلھا غیر الاسلام ویھلک اللّٰہ فی زمانہ المسیح الدجال الکذاب وتقع الامنۃ فی الارض حتی ترتع الابل مع الاسد جمیعا والنمور مع البقر والذناب مع الغنم و یلعب الصبیان والغلمان بالحیات لایضر بعضھم بعضا فیمکث ماشاء اللّٰہ ان یمکث ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون و یدفنونہ۔ (مسند احمد جلد 2 صفحہ 437)

(ترجمہ) امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیا علاتی بھائی ہیں، مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت سب کا ایک ہے اور میں، عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب ہوں اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ یقینا وہی نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے، رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے، سر کی یہ شان ہو گی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی، صلیب کو توڑیں گے، جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہو جائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور ان کی تدفین کریں گے۔

(نوٹ) (1) مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی کتاب حقیقت النبوۃ صفحہ 192 مندرجہ انوارالعلوم جلد 2 صفحہ 508 پر اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (2) خود مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام صفحہ 594مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 420 پر اس حدیث کے بعض حصے نقل کر کے اس کی تصحیح و تصدیق کی بلکہ اس سے استدلال بھی کیا ہے۔

مرزا قادیانی کے مرید خدا بخش مرزائی نے ایک کتاب عسل مصفیٰ لکھی، اس کی جلد اوّل میں صفحہ 162 سے 165 تک تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست نقل کی ہے۔ اس فہرست میں اس روایت منقولہ بالا کو نقل کرنے والے مرزائیوں کے تسلیم شدہ مجددین سے امام احمد بن حنبلؒ، ابن کثیرؒ، علامہ ابن حجر عسقلانی  ؒ، علامہ جلال الدین سیوطیؒ، یہ چار مجدد اس روایت کو نقل کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی اور اس کا بیٹا اس روایت کو تسلیم کرتے ہیں۔ قادیانیوں سے درخواست ہے کہ وہ اس حدیث مبارکہ کو بغور پڑھیں، غور کریں اور سوچیں کہ ان نشانیوں کا کس پر اطلاق ہوتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یا مرزا قادیانی پر؟  اگر نہیں اور یقینا نہیں تو مرزا قادیانی کو مسیح موعود قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا؟

اس حدیث میں آنحضرتصلی اﷲ علیہ وسلم  نے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں جو وضاحت اور تفصیل اور ان کے نزول کے بعد زمانے کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ کچھ یوں ہے۔

-1ابن مریمنازل ہوں گے (ابن چراغ بی بی نہیں) ۔        -2وہی عیسیٰ علیہ السلام جن کے اور آنحضرتصلی اﷲ علیہ وسلم  کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔-3عیسیٰ علیہ السلام، صلیب کو پاش پاش کریں گے، خنزیر کو قتل کریں گے۔-4عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے۔-5عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایسا امن قائم ہو جائے گا کہ شیر، اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے۔-6            پھر اُن کی وفات ہو گی۔

اس حدیث کو بار بار پڑھیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا مرزا قادیانی کے زمانے میں دنیا کا یہی نقشہ تھا؟ کیا تمام مذاہب ہلاک ہو گئے؟ اور کیا صرف ایک اسلام رہ گیا؟ حدیث میں فرمایا گیا کہ جب اصلی مسیح ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو دو آدمیوں میں تو کیا دو درندوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی۔ دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے گی، جنگیں ختم ہو جائیں گی لیکن مرزا قادیانی کی سبز قدمی سے اب تک دو عالمی جنگیں ہو چکی ہیں اور تیسری کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔ اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیجیے روزانہ کتنے انسانوں کے خون سے یہ زمین رنگین ہو رہی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ہرگز وہ مسیح موعود نہیں جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم  نے دی تھی۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں کہ یقینا حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی نازل ہوں گے۔ جب تم ان کو دیکھو تو (میری بتائی ہوئی نشانیوں کے پیش نظر) انہیں پہچان لینا۔ یعنی وہاں کوئی جھگڑا یا بحث نہ ہوگی کہ یہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نہیں ہیں اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات کا اعلان کریں گے کہ میں وہی عیسیٰ ابن مریم ہوں جس کا وعدہ قرآن و حدیث میں ہے بلکہ وہ اپنی نشانیوں کے سبب فوراً پہچانے جائیں گے۔ اس کے برعکس آنجہانی مرزا قادیانی تمام عمر مختلف تاویلات کا سہارا لے کر خواہ مخواہ عیسیٰ ابن مریم بننے کی کوشش کرتا رہا ۔

تیسری حدیث

(3)        قال الحسن: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم للیھود ان عیسی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمۃ۔

(ابن کثیر جلد 2 صفحہ 40 (زیر آیت انی متوفیک)۔ ابن جریر جلد 3 صفحہ 289، درمنثور جلد 2 صفحہ 36)

(ترجمہ) امام حسن بصریؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے یہود سے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے، وہ قیامت کے قریب تمہاری طرف ضرور لوٹ کر آئیں گے۔

(نوٹ) یہ روایت حافظ ابن کثیرؒ اور علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے نقل فرمائی۔ دونوں اکابرین قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں اور ابن جریرؒ کو مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 168 پر رئیس المفسرین تسلیم کیا ہے اور دوسری جگہ اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھا ہے: ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔ (چشمہ معرفت حاشیہ صفحہ 250مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 261) غرض تینوں اکابر قادیانیوں کے نزدیک مسلّمہ ہیں۔

یہود (جو انا قتلنا المسیح سے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے، ان کو حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ ان عیسی لم یمت یقینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ اس حدیث میں راجع کا لفظ صراحتہً موجود ہے۔ جس کے معنی واپس آنے والے کے ہیں۔ محاورۃً یہ لفظ اسی وقت استعمال ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسری جگہ گیا ہو اور پھر وہاں سے واپس آئے۔

قادیانی اس حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ معتبر حدیث ہے تو اس کو صحاحِ ستہ میں ہونا چاہیے تھا۔ اس کے جواب میں قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے:

(1)        مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 میں جو حدیث یتزوج ویولدلہ درج کی اور کمال ڈھٹائی سے اُسے اپنے اوپر منطبق کیا، وہ صحاح ستہ میں کہاں ہے؟(2)            حقیقۃ الوحی صفحہ 194 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202، حاشیہ، چشمہ معرفت صفحہ 314 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 329 میں مرزا قادیانی نے جو روایت کسوف خسوف ور رمضان تحریر کی ہے، وہ صحاح ستہ میں کس جگہ ہے؟(3)         ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 325 میں مرزا قادیانی نے جو اثر خروج مہدی از کدعہ درج کیا ہے، وہ صحاح ستہ کی کس کتاب میں ہے؟(4)   کتاب مسیح ہندوستان میں صفحہ 53، 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 53، 54 میں مرزا قادیانی نے جو تین روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیاحت سے متعلق تحریر کی ہیں، وہ صحاح ستہ میں کہاں موجود ہیں؟