حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث مبارکہ(3)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لیے جو کچھ ارشاد فرمایا اگر احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم موجود نہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن مجید کے معانی، شریعت کے مطابق متعین کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا اور اس کی تشریح و تفسیر حضور سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کر دی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم و لعلھم یتفکرون۔(النحل:44)  ترجمہ: ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف ذکر (قرآن مجید) نازل فرمایا تاکہ آپؐ (اسے) کھول کر لوگوں کو بیان کریں کہ ان کی طرف کیا احکام نازل کیے گئے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

اسلام میں حدیث کی آئینی و دستوری حیثیت اور حجیت کے بارے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے فکر انگیز ارشاد ملاحظہ کیجیے:

q          عن العرباضؓ بن ساریہ قال قام رسول اللّٰہ فقال الحسیب احدکم متکناً علیٰ اریکتہ یظن ان اللّٰہ لم یحرم شیئاً الا ما فی ھذا القرآن، الا و انی واللّٰہ قد امرت و وعظت و نہیست عن اشیاء انھما کمثل القرآن اواکثرھم۔

(مشکوٰۃ، ابی داؤد)

حضرت عرباضؓ بن ساریہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے خطبہ میں کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: کیا گمان کرتا ہے، تم میں سے ایک شخص، اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے ہوئے، کہ اللہ نے اور کوئی چیز حرام ہی نہیں کی، بجز ان چیزوں کے جو قرآن میں حرام کی گئی ہیں؟ آگاہ رہو، کہ قسم خدا کی کہ میں نے حکم دیے ہیں اور میں نے نصیحتیں کی ہیں اور میں نے روکا ہے، بہت سی چیزوں سے کہ وہ قرآن ہی کی طرح ہیں، بلکہ اس سے بھی زائد۔

سچے اللہ کے مخبر صادق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلمکی یہ پیشگوئی لفظ بہ لفظ پوری ہو رہی ہے۔ آج بنگلوں میںرہنے والے اور فراغت و خوشحالی و عیش و نشاط سے زندگی گزارنے والے لوگ منکرین حدیث قادیانی، پردیزی وغیرہ حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں اور صرف قرآن کو حجت قرار دیتے ہیں۔

شیخ المفسرین حضرت علامہ حافظ ابن کثیرؒ تحریر فرماتے ہیں:حضرت محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ آپؐ نے خبر دی کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے۔(تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 132)

معلوم ہوا کہ نزول مسیح کی احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ خالد محمود لکھتے ہیں:آنحضرتصلی اﷲ علیہ وسلم  سے جو حدیثیں تواتر کے ساتھ منقول ہیں، ان کی تکذیب بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔ سو حدیث متواتر سے ثابت ہونے والے جملہ امور پر ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دیا جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔ (آثار الحدیث جلد 2 صفحہ 128)

تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قربِ قیامت زمین پر نازل ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے 30 سے زائد صحابہ کرامؓ روایت کر رہے ہیں۔ احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اس کے بعد ان کے کارناموں اور ذمہ داریوں نشانیاں بڑے واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہیں۔ 70 سے زائد ان احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں سے چنداحادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے:

چوتھی حدیث

(4)        ابوھریرۃ یحدث عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم  قال رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم یفج الروحاء حاجًا او معتمرا اولیثنیھما۔

 (صحیح مسلم حدیث نمبر 316، جلد 1 صفحہ 408)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) روحا (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کی گھاٹی میں حج یا عمرہ یا دونوں کی لبیک (تلبیہ) پکاریں گے ایک ہی ساتھ۔

یہ حدیث مبارکہ مسلم شریف میں درج ہے۔ مسلم شریف میں احادیث مبارکہ کا صحیح ہونا مرزا قادیانی کے نزدیک بھی درست ہے۔                          (دیکھیے: ازالہ اوہام صفحہ 884 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 582)

اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم  نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور برضرور تشریف لائیں گے۔ قسم کے بارے میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ کسی مضمون کو قسم اٹھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل کی جائے نہ استثنا بلکہ اس کو ظاہر پر ہی محمول کیا جائے ورنہ قسم اٹھانے کا فائدہ کیا ہوا؟                                                                                     (حمامۃ البشریٰ صفحہ 14، مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 192 حاشیہ، از مرزا قادیانی)

پھر اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آ کر حج بیت اللہ کریں گے اور خود ادا کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد اس قدر امن قائم کر لیں گے کہ کوئی امر انھیں حج کرنے سے روک نہ سکے گا۔ پھر وہ ایسی تمام بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گے جو حج کرنے سے مانع ہو سکتی ہیں۔ اس حدیث میں مذکور لفظ فج الروحا سے مراد فج الروحا ہی ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔ مرزا قادیانی نے حج یا عمرہ تو درکنار فج الروحا کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا ہوگا۔

 

پانچویں حدیث

(5)        عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم۔ (بیہقی، جلد اوّل، صفحہ 166)

(ترجمہ) حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم علیہ التحیہ والثنا فرماتے ہیں: (اے مسلمانو!) اُس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا (خوشی کے باعث) جب عیسیٰ بن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

(نوٹ) امام بیہقی قادیانیوں کے نزدیک مسلمہ مجدد ہیں۔ ان سے مسندِ احمد کی روایت میں لفظ من السمائ کے الفاظ کی صراحت مذکور ہے۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، نہ کہ ماں کے پیٹ سے۔ بس مرزا قادیانی کا ماں کے پیٹ سے برآمد ہو کر مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا غلط ثابت ہوتا ہے۔ اس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دو الگ الگ شخصیات ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ان دونوں مقدس شخصیات کی علیحدہ علیحدہ نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نزول عیسیٰ کے سلسلہ میں من السمائ کا لفظ فرماناتمام قادیانی اعتراضات کاخاتمہ کرتا ہے۔ اس کے باوجود بدبخت مرزا قادیانی کا کہنا ہے: صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں۔ (ازالہ اوہام صفحہ 60مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 132)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہ، رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں: ینزل اخی عیسٰی بن مریم من السماء (کنزالعمال جلد 14 صفحہ 619) مرزا قادیانی نے اس روایت کو نقل کیا مگر بددیانتی کی مثال ملاحظہ کریں کہ لفظ سمائ غائب کر گیا۔ (حمامۃ البشریٰ صفحہ 146 و صفحہ 148 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 312، 314 از مرزا قادیانی) اس کے علاوہ مرزا قادیانی کی یہ تحریر بھی ملاحظہ کیجیے۔ ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے کامل علوم کے ساتھ نازل ہوں گے۔ (آئینہ کمالات صفحہ 409 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 409 از مرزا قادیانی) اس عبارت میں نزول بھی ہے اور سماء بھی۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ سمائ کا لفظ مرزا قادیانی کہاں سے لے آیا۔ اس طرح ازالہ اوہام میں بھی سمائ یعنی آسمان سے نازل ہونا موجود ہے: صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔ (ازالہ اوہام صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 142 از مرزا قادیانی) خود مرزا قادیانی کا یہ اقبالی اعتراف موجود ہے کہ براہین احمدیہ میں، میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)۔ مسیح موعود کی خصوصیات کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے: اب حدیثوں پر نظر غور کرنے سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن مریم اترنے والا ہے جس کی تعریفیں لکھی ہیں کہ وہ گندم گون ہوگا اور بال اس کے سیدھے ہوں گے اور مسلمان کہلائے گا اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات دور کرنے کے لئے آئے گا اور مغز شریعت جس کو وہ بھول گئے ہوں گے انہیں یاد دلائے گا اور ضرور ہے کہ وہ اس وقت نازل ہو جس وت انتہاء تک شرر اور فتن پہنچ جائیں اور مسلمانوں پر تنزل کا زمانہ ہو جو یہودیوں پر اُن کے آخری دنوں میں آیا تھا۔ (ازالہ اوہام صفحہ 359 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 459 از مرزا قادیانی) اس عبارت میں مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن مریم (ابن غلام مرتضیٰ نہیں) اترنے والا ہے، وہ یہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ ابن مریم نازل ہوں گے۔ اب ظاہر بات ہے کہ اوپر سے اترنا اور نازل ہونا ہوتا ہے، نہ کہ ماں کے پیٹ سے۔ اب مرزا قادیانی نہ اترا اور نہ نازل ہوا بلکہ ماں کے پیٹ سے برآمد ہوا لہٰذا وہ اپنی اس تحریر کے مطابق بھی جھوٹا ہے۔

انجیل برنباس میں جس کے معتبر ہونے پر مرزا قادیانی نے اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ کے صفحہ 239، 243 مندرجہ روحانی خزائن خزائن جلد 2 صفحہ 287، 293 پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا درج ہے:۔

q          یارب بخشش والے! اے رحمت میں غنی! تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسولؐ کی امت میں ہونا نصیب فرما۔ (انجیل برنباس باب 212 آیت 14)

اس کی روشنی میں مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اے لوگو گھبرائو نہیں تمھارے لیے خوشی اور مسرت کا مقام ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا اولوالعزم رسول بھی تمہاری طرح میرا امتی بن کر رہے گا۔ اس سے امت محمدیؐ کو اس کے عالی مرتبہ ہونے کی بشارت کا اعلان ہے اور واقعی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ میں شامل ہو کر حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم  کے دین کی خدمت کریں گے۔

امامکم منکم کے حوالہ سے مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریر نہایت قابل غور ہے۔

(3)        اور اگر یہ کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی کرکے کہاں پکارا گیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ صحیح بخاری کی وہ حدیث دیکھو جس میں امامکم منکم موجود ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ منکم کے خطاب کے مخاطب اُمتی لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ سے دنیا کے اخیر تک ہوتے رہیں گے۔ اب ظاہر ہے کہ جب مخاطب صرف اُمتی لوگ ہیں اور یہ اُمتیوں کو خوشخبری دی گئی کہ ابن مریم جو آنے والا ہے، وہ تم میں سے ہی ہوگا اور تم میں سے ہی پیدا ہوگا تو دوسرے لفظوں میں اس فقرے کے یہی معنے ہوئے کہ وہ ابن مریم جو آنے والا ہے، کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ فقط اُمتی لوگوں میں سے ایک شخص ہوگا۔        

                                                                          (ازالہ اوہام صفحہ 292 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 249 از مرزا قادیانی)

اس عبارت میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ ابن مریم جو آنے والا ہے، کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ فقط امتی لوگوں میں سے ایک شخص ہوگا۔مرزا قادیانی کامطلب یہ ہوا کہ آنے والا مسیح موعود نبی نہیں ہوگا بلکہ صرف ایک عام امتی ہوگا۔مگر یہ معنی کر کے بھی مرزا قادیانی کا مقصد پورا نہیں ہوتاکیونکہ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیح موعود خود بخود باطل ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا نہ صرف مہدی، مسیح موعود بلکہ نبی اور رسول ہونے کا بھی دعویٰ ہے،بقول مرزا قادیانی:

        ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔                                           (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی)

q          سچاخدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

                                                                           (دافع البلاء صفحہ11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ231 از مرزا قادیانی)