حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث مبارکہ(5)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لیے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کی تعبیر و تشریح حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے بغیر ممکن نہیں۔ احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم  ہمیں قرآنی احکام کی عملی تصویر مہیا کرتی ہیں۔ صلوٰۃ، زکوٰۃ، تیمم، حج، عمرہ، صوم یہ محض الفاظ ہیں لغات ہمیں ان الفاظ کے وہ معانی نہیں بتاتیں جو شریعت میں مطلوب ہیں۔ پس اگر احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم موجود نہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن مجید کے معانی، شریعت کے مطابق متعین کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا اور اس کی تشریح و تفسیر حضور سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کر دی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم و لعلھم یتفکرون۔(النحل:44)  ترجمہ: ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف ذکر (قرآن مجید) نازل فرمایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے) کھول کر لوگوں کو بیان کریں کہ ان کی طرف کیا احکام نازل کیے گئے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

اسلام میں حدیث کی آئینی و دستوری حیثیت اور حجیت کے بارے حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے فکر انگیز ارشادات ملاحظہ کیجیے:

q          عن المقدام بن معدی کرب قال قال رسول اللّٰہ الا انی ادیت القرآن و مثلہ معہ الا یوشک رجل شبعان علیٰ اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاجلوہ وما و جدتم فیہ من حرام فحرموہ و انما حرم رسول اللّٰہ کما حرم اللّٰہ۔ (مشکوٰۃ، ابوداؤد، ابنِ ماجہ)

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے، کہ رسولِ اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: خبردار رہو، یقینا مجھے قرآن بھی عطا ہوا ہے اور قرآن ہی کے مثل ایک اور چیز، خبردار رہو، عنقریب ایک شکم سیر آدمی اپنے مزین و آراستہ پلنگ یا صوفے پر بیٹھ کر کہے گا کہ بس قرآن ہی کا (اتباع) فرض ہے۔ قرآن ہی کے حلال کیے ہوئے کو حلال، اور قرآن ہی کے حرام کیے ہوئے کو حرام تسلیم کرو۔ حالانکہ اللہ کے رسول نے جو کچھ حرام کیا ہے، وہ بھی ایسا ہی ہے، جیسا کہ اللہ نے حرام کیا ہو۔

سچے اللہ کے مخبر صادق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلمکی یہ پیشگوئی لفظ بہ لفظ پوری ہو رہی ہے۔ آج بنگلوںمیں رہنے والے اور فراغت و خوشحالی و عیش و نشاط سے زندگی گزارنے والے لوگ منکرین حدیث قادیانی، پردیزی وغیرہ حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں اور صرف قرآن کو حجت قرار دیتے ہیں۔

شیخ المفسرین حضرت علامہ حافظ ابن کثیرؒ تحریر فرماتے ہیں:حضرت محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ آپؐ نے خبر دی کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے۔            (تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 132)

معلوم ہوا کہ نزول مسیح کی احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ خالد محمود لکھتے ہیں:آنحضرتصلی اﷲ علیہ وسلم  سے جو حدیثیں تواتر کے ساتھ منقول ہیں، ان کی تکذیب بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔ سو حدیث متواتر سے ثابت ہونے والے جملہ امور پر ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دیا جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔

                                                                                                                                    (آثار الحدیث جلد 2 صفحہ 128)

تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قربِ قیامت زمین پر نازل ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم  سے 30 سے زائد صحابہ کرامؓ روایت کر رہے ہیں۔ احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اس کے بعد ان کے کارناموں اور ذمہ داریوں نشانیاں بڑے واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہیں۔ 70 سے زائد ان احادیث کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں سے چنداحادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے:

دسویں حدیث

(10)      وعن جابر ان امرأۃ من الیھود بالمدینۃ ولدت غلاما ممسوحۃ عینہ طالعۃ نابہ فاشفق رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وسلم  ان یکون الدجال فوجدہ تحت قطیفۃ یھمہم فاذنتہ امہ فقالت یا عبد اللہ ھذا ابو القاسم فخرج من القطیفۃ فقال رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلممالھا قاتلھا اللہ لوترکۃ لبین فذکر مثل معنی حدیث ابن عمر فقال عمر بن الخطاب ائذن لی یارسول اللہ فاقتلہ فقال رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسی ابن مریم والایکن ھو فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد فلم یزل رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم   مشفقا انہ ھو الدجال۔ رواہ فی شرح السنۃ۔

                                                                                                                           (مشکوۃ صفحہ 479 باب قصۃ ابن صیاد)

(ترجمہ) حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک یہودی عورت کے ہاں ایک لڑکا (ابن صیاد) پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ صاف تھی اور جس کا کیلہ باہر کو نکلا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں یہ وہی دجال نہ ہو۔ پھر ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک چادر میں لپٹا ہوا دیکھا کہ اس میں پڑا کچھ گنگنا رہا تھا۔ اس کی ماں نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھ کر) اس کو خبردار کر دیا کہ اے عبداللہ! دیکھو یہ ابوالقاسم آ گئے ہیں، پس وہ اپنی چادر سے باہر نکل آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ناس کرے۔ اگر یہ اس کو اطلاع نہ دیتی تو یہ اپنا معاملہ خود ہی بیان کر دیتا۔ پھر راوی نے حضرت عمرؓ والی حدیث کا قصہ بیان کیا کہ حضرت عمرؓ نے عرض کی یارسول اللہؐ! مجھ کو اجازت دیجیے میں اس کو قتل کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس کے قاتل نہیں ہو ، اس کو تو عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام قتل کریں گے اور اگر یہ وہ نہیں تو ایسے بچہ کا قتل کرنا خیر کی بات نہیں جو ہمارے عہد میں داخل ہو (یعنی ہماری ذمی رعایا ہے)۔

صحیح بخاری میں جو حدیث مبارکہ مذکور ہے، اس کا ترجمہ ہے: حضرت عمر فاروقؓ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اگر آپصلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اس کی گردن اتار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ (اس لیے کہ دجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے) اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں تو اس کے قتل میں تمہاری بھلائی نہیں۔

مرزا قادیانی بھی یہی لکھتا ہے:آنحضرت نے عمر کو قتل کرنے سے منع کیا اور فرمایا اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اسے قتل نہیں کر سکتے۔                  (ازالہ اوہام صفحہ 225، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 213، از مرزا قادیانی)

ثابت ہوا کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں جو زمین پر اُتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ اب مرزا قادیانی نے دجال کے جو مضحکہ خیز معنی، تاویلات اور تشریحات کی ہیں، اسے پڑھ کر آدمی اپنا سر پکڑ لیتا ہے۔

 گیارہویں حدیث

(11)      حدثنی المثنی قال: ثنا اسحاق ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ (الم اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم) قال ان النصاریٰ اتو رسول اللّٰہ فخاصموہ فی عیسی ابن مریم وقالوا لہ من ابوہ و قالوا علی اللّٰہ الکذب والبھتان لا الہ الا ھو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لھم النبی الستم تعلمون انہ لا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ؟ قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربناحی لایموت وان عیسٰی یاتی علیہ الفنائ؟ قالوا بلی قال الستم تعلمون ان ربنا قیم علی کل شی یکلوہ و یحفظہ و یرزقہ؟ قالوا بلی قال فھل یملک عیسٰی من ذلک شیئا؟ قالو لا قال افلستم تعلمون ان اللّٰہ عزوجل لا یخفی علیہ شئی فی الارض ولا فی السمائ؟ قالوا بلی قال فھل یعلم عیسٰی من ذلک شیئا الا ما علم؟ قالوا لا قال فان ربنا صور عیسٰی فی الرحم کیف شاء فھل تعلمون ذلک؟ قالوا بلی قال السم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث؟ قالوا بلی قال الستم تعلمون ان عیسٰی حملتہ امراۃ کما تحمل المراۃ ثم وضعتہ کما تضع المراۃ ولدھا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یطعم الطعام و یشرب الشراب و یحدث الحدث قالوا بلی قال فکیف یکون ھذا کما زعمتم قال فعر فواثم ابوا الاجحودا فانزل اللّٰہ عزوجل الم اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ (ابن جریر جلد 3، صفحہ 163)

(نوٹ) ابن جریر قادیانیوں کے نزدیک رئیس المفسرین اور علامہ سیوطی مجدد ہیں۔ ان دونوں کی یہ بیان کردہ روایت ہے۔

(ترجمہ) ربیع سے (قرآنی آیت) الم اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نجران کے نصاریٰ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپصلی اﷲ علیہ وسلم سے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اللہ نہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے حالانکہ وہ خدا لاشریک، بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے تو حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کیوں نہیں! بے شک ایسا ہی ہوتا ہے (یعنی جب یہ تسلیم ہو گیا کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح علیہ السلام بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں حالانکہ سب کومعلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے۔ (لیس کمثلہ شیء ولم یکن لہ کفوا احد)

رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حی لا یموت ہے یعنی زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں مرے نہیں بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا، بے شک صحیح ہے۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم رکھنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کا رزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ علیہ السلام کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں آپصلی اﷲ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا۔ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ اللہ نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے اور بول و براز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک ایسا ہی ہے۔ آپصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ الم اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے سامنے اسلامی عقائد بیان فرمائے۔ آپصلی اﷲ علیہ ووسلم  نے عیسائیوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ حیی و قیوم ہے اور ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس پر موت نہیں آئے گی جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان پر فنا یعنی موت آئے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے تھے تو آپ عیسائیوں سے یہ ارشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ حیی و قیوم ہے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اس سے آپصلی اﷲ علیہ وسلمکی دلیل مزید پختہ ہو جاتی مگر آپصلی اﷲ علیہ وسلم  کا یہ فرمانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا یعنی موت آئے گی۔ اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ و حیات ہیں۔