ظہور امام مہدی علیہ الرضوان کی چند نشانیاں

امام مہدیؓ کی نشانیاں :

 امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ازالۃ الخفاء میں لکھتے ہیں۔

ما بیقین مے دا نیم کہ شارع علیہ  الصلوۃ والسلام نص فرمودہ است با آنکہ امام مہدی در وامان قیامت موجود خواہد شد، ودے عنداللہ و عند رسولہ امام برحق است اوپُر خواہد کرو زمین رابعدال وانصاف، چنانکہ پیش ازوے پُر شدہ باشد بجور و ظلم پسس باتیں کلمہ افادہ فرمودہ انداستخلاف امام مہدی را، واجب شد اتباع وے ور آنچہ تعلق بخلیفہ وارد، چوں وقت خلافت او ااید، لیکن ایں معنی بالفعل نیست مگر نزدیک ظہور امام مہدیؓ و بیت باوامیان رکن و مقام۔ (ازالۃ الخفاء فارسی ص ۶ ج ۱)

ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے نص فرمائی ہے کہ امام مہدیؓ قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے، اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امام برحق ہیں، اور وہ زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھردیں گے، جیسا کہ ان سے پہلے ظلم اور بے انصافی کے ساتھ بھری ہوئی ہوگی پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشاد سے امام مہدیؓ کے خلیفہ ہونے کی پیش گوئی فرمائی۔ اور امام مہدیؓ کی پیروی کرنا ان امور میں واجب ہوا جو خلیفہ سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ان کی خلافت کا وقت آئے گا لیکن یہ پیروی فی الحال نہیں، بلکہ اس وقت ہوگی جبکہ امام مہدیؓ کا ظہور ہوگا، اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوگی۔

 

حضرت شاہ صاحبؒ  کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حدیث نبویؐ کی رو سے

(1)        سچے مہدیؓ کا ظہور قرب قیامت میں ہوگا۔       

(2)        امام مہدیؓ مسلمانوں کے خلیفہ اور حاکم ہوں گے اور 

(3)        رکن و مقام کے درمیان حرم شریف میں ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوگی۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ جن لوگوں نے ہندوستان میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ان کا دعویٰ خالص جھوٹ تھا۔

                       

 حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

حضرت امام مہدی سید اور اولاد فاطمہ زہراؓ میں سے ہیں۔ آپ کا قدوقامت قدرے لانبا، بدن چست، رنگ کھلا ہوا اور چہر ہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے مشابہ ہوگا۔  نیز آپ کے اخلاق پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری مشابہت رکھتے ہوں گے۔ آپ کا اسم شریف محمد والد کا نام عبداللہ، والدہ صاحبہ کا نام آمنہ ہوگا۔ زبان میں قدرے لکنت ہوگی جس کی وجہ سے تنگدل ہوکر کبھی کبھی ران پر ہاتھ ماریں گے۔ آپ کا علم لدنی (خداداد ) ہوگا۔

آپ کے ظہور سے قبل سفیانی کا خروج ، شاہ روم اور مسلمانوں میں جنگ اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا:

            آپ کے ظہور سے قبل ملک عرب و شام میں ابوسفیان کی اولاد میں سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جو سادات کو قتل کرے گا۔ اس کا حکم ملکِ شام و مصر کے اطراف میں چلے گا۔ اس درمیان میں بادشاہِ روم کی عیسائیوں کے ایک فرقہ سے جنگ اور دوسرے فرقہ سے صلح ہوگی۔ لڑنے والا فریق قسطنطنیہ پر قبضہ کرلے گا۔ بادشاہ روم دارالخلافہ کو چھوڑ کر ملکِ شام میں پہنچ جائے گا اور عیسائیوں کے دوسرے فریق کی اعانت سے اسلامی فوج ایک خونریز جنگ کے بعد فریقِ مخالف پر فتح پائے گی۔ دشمن کی شکست کے بعد موافق فریق میں سے ایک شخص نعرہ لگائے گا کہ صلیب غالب ہو گئی اور اس کے نام سے یہ فتح ہوئی ، یہ سن کر اسلامی لشکر میں سے ایک شخص اس سے مارپیٹ کرے گا اور کہے گا نہیں دینِ اسلام غالب ہوا اور اسی کی وجہ سے یہ فتح نصیب ہوئی۔ یہ دونوں اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے پکاریں گے جس کی وجہ سے فوج میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔

            بادشاہ اسلام شہید ہوجائے گا۔ عیسائی ملکِ شام پر قبضہ کرلیں گے اور آپس میں ان دونوں عیسائی قومو ں کی صلح ہوجائے گی، باقی مسلمان مدینہ منورہ چلے آئیں گے، عیسائیوں کی حکومت خیبر تک (جو مدینہ منور سے قریب ہے) پھیل جائے گی۔ اس وقت مسلمان اس فکر میں ہوں گے کہ امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے، تاکہ ان کے ذریعہ سے یہ مصیبتیں دور ہوں۔ اور دشمن کے پنجے سے نجات ملے۔

امام مہدی کی تلاش اور ان سے بیعت کرنا:

            حضرت امام مہدی اس وقت مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوں گے مگر اس ڈر سے کہ مبادا لوگ مجھ جیسے ضعیف کو اس عظیم الشان کام کی انجام دہی کی تکلیف دیں، مکہ معظمہ چلے جائیں گے۔ اس زمانے کے اولیائے کرام اور ابدالِ عظام آپ کو تلاش کریں گے۔ بعض آدمی مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے بھی کریں گے۔ حضرت مہدی علیہ السلام رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور آپ کو مجبور کرکے آپ سے بیعت کر لے گی۔ اس واقعہ کی علامت یہ ہے کہ اس سے قبل گذشتہ ماہِ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگ چکے گا اور بیعت کے وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی۔ ھذا خلیفۃ اللہ المھدی فاستمعو الہ واطیعوا اس آواز کو اس جگہ کے تمام خاص و عام سن لیں گے۔ بیعت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال کی ہوگی۔ خلافت کے مشہور ہونے پر مدینہ کی فوجیں آپ کے پاس مکہ معظمہ چلی آئیں گی۔ شام و عراق اور یمن کے اولیائے کرام وابدالِ عظام آپ کی صحبت میں اور ملکِ عرب کے لاتعداد لوگ آپ کے لشکر میں داخل ہوجائیں گے۔