"میں مہدی نہیں ہوں"

مرزا قادیانی کا اعتراف

 

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے جب اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو لکھا:

(1)        وہ آخری مہدی جو تنزلِ اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہِ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا، جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم نے دی تھی، وہ میں ہی ہوں۔

(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 3، 4 از مرزا قادیانی)

قارئین کرام !سچے مہدی کی نشانی یہ ہے کہ وہ عیسائیوں کی فوج سے جہاد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ انھیں فتح مبین عطا فرمائے گا۔ اس جہاد میں عیسائی اس قدر قتل ہوں گے کہ باقیوں کے دماغ سے حکومت کی بُو نکل جائے گی اور وہ بے سر و سامان ہو کر نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ بھاگ جائیں گے۔ مسلمان ان کا تعاقب کرتے بہتوں کو جہنم رسید کر دیں گے۔ اس کے بعد حضرت مہدی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجال کی فوج کا مقابلہ کریں گے اور اسے شکست دیں گے۔ آپ کی خلافت کی معیاد آٹھ یا نو سال ہوگی۔ سات سال عیسائیوں کے فتنے کے خلاف، آٹھواں سال دجال کے ساتھ جنگ و جدال اور نواں سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گزرے گا۔ مرزا قادیانی کو جب ان حقائق کا علم ہوا تو بے حد پریشان ہو گیا کہ کہیں اس کے دعویٰ مہدویت سے انگریز سرکار ناراض نہ ہو جائے۔ علاوہ ازیں انہی دنوں مہدی سوڈانی کے ہاتھوں انگریزوں کو سوڈان میں بڑی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مرزا قادیانی کے ایک مخالف نے انگریز حکومت کی توجہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کی طرف دلا کر یہ الزام عائد کیا کہ وہ بھی مہدی سوڈانی کی طرح جہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ اس پر مرزا قادیانی کی بوکھلاہٹ قابل دید تھی۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ انگریز بہادر مرزا قادیانی کے خلاف کوئی کارروائی کرتا، اس نے فوراً پینترا بدلا اور دعویٰ مہدویت سے تائب ہو گیا۔ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریریں ہر قادیانی کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

؎  ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے

(2)        یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظار ہے جو فاطمہؓ مادرِ حسینؓ کی اولاد میں سے ہوگا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفانِ اسلام سے لڑائیاں کرے گا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں۔ ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے جو نادانی اور دھوکا سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہؓ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں۔ اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں جو غالباً عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں۔

(کشف الغطاء صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 193 از مرزا قادیانی)

میں کسی خونی مہدی کا قائل نہیں ہوں

(3)        یہ سچ ہے کہ میں کسی ایسے مہدی ہاشمی قرشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہؓ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دے گا۔ میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرۂ موضوعات جانتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔

(کتاب البریہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 347 از مرزا قادیانی)

مہدی کے بارے میں تمام حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں

(4)        میرا اور میری جماعت کا عقیدہ مہدی کی نسبت۔ مہدی اور مسیح موعود کے بارے میں جو میرا عقیدہ اور میری جماعت کا عقیدہ ہے وہ یہ ہے کہ اس قسم کی تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں ہرگز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں۔

(حقیقت المہدی صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 429، 430 از مرزا قادیانی)

مہدی کفار سے جنگ کرے گا، یہ باتیں صحیح نہیں

(5)        اور میں اس وقت اپنی محسن گورنمنٹ کو اطلاع دیتا ہوں کہ وہ مسیح موعود خدا سے ہدایت یافتہ اور مسیح علیہ السلام کے اخلاق پر چلنے والا میں ہی ہوں اور اس امر سے قطعاً منکر ہوں کہ آسمان سے اسلامی لڑائیوں کے لیے مسیح نازل ہوگا۔ اور کوئی شخص مہدی کے نام سے جو بنی فاطمہؓ سے ہوگا بادشاہِ وقت ہوگا اور دونوں مل کر خونریزیاں شروع کر دیں گے۔ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ یہ باتیں ہرگز صحیح نہیں ہیں۔ راقم خاکسار، مرزا غلام احمد از قادیان۔

                                                            (حقیقت المہدی صفحہ 6، 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 432، 433 از مرزا قادیانی)

نہ میں جہاد کا قائل اور نہ ایسے مہدی کو ماننے والا

(6)        محمد حسین بٹالوی کا مجھے مہدی سوڈانی سے مشابہت دینا کس قدر گورنمنٹ کو دھوکا دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ نہ میں جہاد کا قائل اور نہ ایسے مہدی کو ماننے والا اور نہ ایسے کسی مسیح کے آنے کا انتظار رکھتا ہوں جس کا کام جہاد اور خونریزی ہو تو پھر سوڈانی کو مجھ سے کیا مشابہت اور مجھے اس سے کیا مناسبت گورنمنٹ عالیہ خوب دانا ہے۔ وہ کسی کا دھوکا کھا نہیں سکتی۔ لیکن چونکہ محمد حسین نے بارہا میرے پر یہ الزام لگایا ہے کہ گویا مہدی سوڈانی سے میرے حالات مشابہ بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اس لیے ضرور تھا کہ اس افترا کا میں جواب دیتا۔ خدائے تعالیٰ کا شکر ہے کہ منافقانہ کارروائیوں سے اس نے مجھے محفوظ رکھا ہے۔

(حقیقت المہدی صفحہ11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 437 از مرزا قادیانی)

میں وہ مہدی نہیں ہوں

(7)        میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمۃ و من عترتی وغیرہ ہے۔

(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 186 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356 از مرزا قادیانی)

 

پہلے بھی مہدی آئے، ممکن ہے آئندہ بھی آئیں

(8)        ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں، اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں، اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو۔

(ازالہ اوہام صفحہ 519 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 379 از مرزا قادیانی)

 

مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں

(9)        محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔

(ازالہ اوہام صفحہ 457 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 344 از مرزا قادیانی)

؎          جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر

            آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

قادیانی کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا تحریریں مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت سے پہلے کی ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ بات تو ایک ہی ہے۔ ایک شخص مہدی کے تصور کا انکاری ہے اور پھر وہ خود مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ ہمارے خیال میں مرزا قادیانی خونی مہدی تھا جیسا کہ اس کا کہنا ہے:

 

خونی مہدی

(10)      آخری زمانہ میں ایک خونی مہدی ظاہر ہوگا۔

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 137 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 223 از مرزا قادیانی)

(11)      پھر بعد اس کے مجھے 18 مارچ 1905ء کو بخار ہوا۔ پیشاب نہایت شدید درد سے آتا تھا اور پیشاب کی راہ خون آنا شروع ہوا یہاں تک کہ بہت سا خون نکلا۔

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 446 از مرزا قادیانی)

(12)      تھوڑی دیر کے بعد منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہوا۔ یریدون ان یردا طمثک۔ یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

(اربعین نمبر 4 صفحہ 110 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 452 از مرزا قادیانی)

(13)      ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ 246 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246 از مرزا قادیانی)