دجال

دجال کے معنی ہیں حقیقت کو چھپانے والا، سب سے بڑا دھوکے باز اور چالباز۔ دجال کا مادہ دجل ہے جس کے معنی ہیں خلط ملط کر دینا، تلبیس یعنی شیطانی چالوں سے دوسروں کو دھوکے اور التباس میں ڈالنا، ملمع سازی کرنا، حقیقت کو چھپانا، جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا۔ گویا دجال میں یہ تمام منفی اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں دجال سے مراد جھوٹا مسیح (المسیح الدجال) ہے جو قیامت کی اہم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا اور نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ دجال کی کئی علامات احادیث مبارکہ میں بیان ہوئی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو خطبہ دیا اور ایک لمبی تقریر فرمائی، اس میں دجال کا حال بھی بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کو پیدا کیا ہے، اس وقت سے اب تک دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی فتنہ پیدا نہیں فرمایا۔ تمام انبیا اپنی امتوں کو دجال سے خوف دلاتے رہے ہیں، چونکہ تمام انبیا علیہم السلام کے آخیر میں، میں ہوں، اور تم بھی آخری امت ہو اس لیے دجال تمھیں لوگوں میں پیدا ہوگا۔ اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہو جاتا تو میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کرتا، لیکن چونکہ وہ میرے بعد ظاہر ہو گا اس لیے ہر شخص اپنے نفس کی جانب سے اپنا بچائو کر لے گا۔ اللہ میری جانب سے اس کا محافظ ہوگا۔ سنو! دجال شام و عراق کے مابین مقام خُلّہ سے ہوگا اور اپنے دائیں بائیں ملکوں میں فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو! ایمان پر ثابت قدم رہنا۔ میں تم کو اس کی وہ حالت سناتا ہوں، جو مجھ سے پہلے کسی نے بھی بیان نہیں کی۔ پہلے تو وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا، تو پھر کہے گا، میں خدا ہوں، (نعوذ باللہ) تم مرنے سے پہلے خدا کو نہیں دیکھ سکتے۔ پھر دجال کیسے خدا ہوا؟ اس کے علاوہ وہ کانا ہوگا تمہارا رب کانا نہیں۔ اس کی پیشانی پر ک،ف،ر، لکھا ہوگا، جسے ہر مومن عالم ہو یا جاہل سب پڑھ لیں گے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس جب دجال ویرانے پر سے گزرے گا تو اسے حکم دے گا کہ اپنے خزانے نکال، تو اس کے خزانے اس کی ایسی اتباع کریں گے، جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کی اتباع کرتی ہیں۔ (مشکوٰۃ ترمذی جلد 2) اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ بھی ہوگی لیکن حقیقت میں وہ جنت، دوزخ ہوگی اور دوزخ، جنت ہوگی، تو جو شخص اس کی دوزخ میں ڈالا جائے، اسے چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے تو وہ دوزخ اس کے لیے ایسا ہی باغ ہو جائے گی۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی تھی۔ اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک دیہاتی سے کہے گا، کہ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کر دوں، تو کیا مجھے تُو خدا مانے گا؟ وہ کہے گا، ہاں، تو دو شیطان اس کے ماں باپ کی صورت بنا کر آئیں گے، اور اس سے کہیں گے، کہ بیٹا اس کی اطاعت کرو، یہ تیرا رب ہے۔ اور ایک فتنہ یہ ہے کہ ایک شخص کو مار کر اور چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا اور کہے گا دیکھو میں اس بندے کو اب ملاتا ہوں، تو کیا اس کے بعد بھی میرے علاوہ کوئی دوسرے خدا کو مانو گے؟ خدا تعالیٰ اس دجال کا فتنہ پورا کرنے کے لیے اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ دجال اس سے پوچھے گا، تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور تُو خدا کا دشمن دجال ہے۔ خدا کی قسم اب تو مجھے تیرے دجال ہونے کا پورا یقین ہو گیا۔ اور دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ فَیَأمُرُ السَّمَائَ فَتُغْمِرْ وَالْأَرْضِ فَتُنْبِتُ پس دجال آسمان کو حکم کرے گا، تو مینہ برسائے گا، اور زمین کو حکم دے گا تو وہ سبزہ اگائے گی، اور اس روز چرنے والے جانور خوب موٹے تازے ہوں گے، کوکھیں بھری ہوئی، تھن دودھ سے لبریز ہوں گے، سوائے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے کوئی خطہ زمین کا ایسا نہ ہوگا، جہاں دجال نہ پہنچا ہوگا، مکہ اورمدینہ میں داخل ہوتے وقت فرشتے اس کو ننگی تلواروں سے روکیں گے۔ دجال ایک چھوٹی سی سرخ پہاڑی کے قریب مقیم ہو جائے گا۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضرت امام مہدیؓ ملک کے بندوبست میں ہی مصروف ہوں گے کہ افواہ اڑے گی کہ دجال نے مسلمانوں پر تباہی ڈال دی ہے۔ اس خبر کو سنتے ہی حضرت امام مہدی ؓ ملک شام کی طرف تیاری فرمائیں گے، اور اس خبر کی تحقیق کے لیے پانچ یا نو سوار بھیجیں گے جن کے حق میں حضور سرور کائنات نے فرمایا: اِنِّیْ لَاَعْرِفُ اَسْمَائَ ھُمْ وَاَسْمَائَ اَبَائِھِمْ وَاَلْوَانَ خَیُوْ لِھِمْo(مسلم شریف صفحہ 459) میں ان مجاہدین کے نام جانتا ہوں، اور ان کے باپ دادوں کے بھی نام جانتا ہوں، اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں۔ وہ اس زمانے کے روئے زمین کے آدمیوں سے بہتر ہوں گے۔ وہ دجال کو کہیں نہ پائیں گے، اور واپس آ کر حضرت امام مہدی ؓکو خبر دیں گے کہ یہ افواہ غلط ہے۔ اور پھر کچھ دن بعد دجال ظاہر ہو جائے گا، دجال قوم یہود میں سے ہوگا، اس کے پیرو کاروں کی اکثریت یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ (مسند احمد) وہ نوجوان مرد ہوگا وہ بھاری بھر کم جسم سرخ رنگت کا مالک ہوگا۔ عوام میں اس کا لقب مسیح ہوگا، (صحیح بخاری و مسلم) وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ (صحیح مسلم) اس کے بال چھوٹے اور گھنگھریالے ہوں گے، سواری میں ایک بڑا گدھا ہوگا، اولاً اس کا ظہور ملک عراق و شام کے درمیان ہوگا، جہاں نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہوگا، پھر وہاں سے اصفہان چلا جائے گا (مسلم شریف) یہاں اس کے ہمراہ ستّر ہزار یہودی ہوں گے۔ یہیں سے خدائی کا دعویٰ کر کے چاروں طرف فساد برپا کرے گا، اور زمین کے اکثر مقامات پر گشت کر کے لوگوں سے اپنے آپ کو خدا منوائے گا۔ لوگوں کی آزمائش کے لیے خداوند کریم اس سے بڑے بڑے عجیب و غریب کام ظاہر کرائے گا (مسلم شریف) اس کی پیشانی پر لفظ (ک، ف، ر) لکھا ہوگا (بخاری) جس کی شناخت صرف اہل ایمان ہی کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ایک آگ ہوگی، جس کو دوزخ سے تعبیر کرے گا، اور ایک باغ ہوگا، جس کو جنت کہے گا۔ مخالفین کو آگ میں اور موافقین کو جنت میں ڈالے گا، (صحیح بخاری) اس کے پاس کھانے پینے کی چیزوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہوگا، جس کو چاہے گا، دے گا۔ جو فرقہ اس کا مخالف ہوگا، تو اس سے اشیائے مذکورہ بند کر دے گا۔ اسی قسم کی بہت سی ایذائیں مسلمانوں کو پہنچائے گا، مگر خدا کے فضل سے اللہ کا ذکر اور تسبیح و تقدیس مسلمانوں کو کھانے پینے کا کام دے گی، (ابودائود) اس کے ظاہر ہونے سے دو سال پہلے قحط رہ چکا ہوگا، اور تیسرے سال دورانِ قحط ہی اس کا ظہور ہوگا، (ابودائود) زمین کے مدفون خزانے اس کے حکم سے اس کے ہمراہ ہو جائیں گے، (صحیح مسلم) بعض آدمیوں سے کہے گا: میں تمھارے ماں باپ کو زندہ کر سکتا ہوں، اس لیے تم کو چاہیے کہ میری یہ قدرت دیکھ کر میری خدائی کا یقین کر لو۔ اور اسی حالت میں بہت سے ممالک پر اس کا گزر ہو گا، یہاں تک کہ وہ جب سرحدِ یمن میں پہنچے گا، اور بہت سے بددین لوگ اس کے ساتھ ہو جائیں گے، تو وہاں سے واپس ہو کر مکہ مکرمہ کے قریب مقیم ہو جائے گا، مگر محافظ فرشتوں کی وجہ سے مکہ شریف میں داخل نہ ہو سکے گا، (صحیح مسلم و بخاری شریف) اور پھر مدینہ منورہ کا رخ کرے گا، اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، (صحیح بخاری) ہر دروازے کی محافظت کے لیے خداوند کریم دو دو فرشتے متعین فرمائے گا، جن کے ڈر سے دجال کی فوج مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گی۔ اور مدینہ منورہ میں تین دفعہ زلزلے آئیں گے، جس کی وجہ سے بدعقیدہ منافق لوگ خوف کی وجہ سے شہر سے نکل کر دجال کے پھندے میں پھنس جائیں گے۔ اس وقت مدینہ منورہ سے ایک بزرگ دجال سے مناظرہ کرنے کے لیے نکلیں گے اور دجال سے کہیں گے کہ تو وہی دجال ملعون ہے، جس کی ہم کو اللہ کے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، تو دجال غصہ میں آ کر اس بزرگ کو آرے سے چیر کر اس کے دو ٹکڑے علیحدہ علیحدہ پھینک دے گا، اور پھر اپنے دعویٰ خدائی کا لوگوں کو یقین دلانے کے لیے اس کو یعنی اس بزرگ کے ٹکڑوں کو پھر زندہ کر دے گا، لیکن وہ بزرگ پھر زندہ ہونے کے بعد دجال کو کہیں گے کہ اب تو مجھ کو پورا یقین ہو گیا ہے کہ تو وہی مردود دجال ہے۔ دجال پھر غصہ میں آ کراس بزرگ کو پھر ذبح کرنے کا حکم دے گا، لیکن اب ناکام ہوگا۔ پھر وہ اس بزرگ کو اپنی تیار کی ہوئی دوزخ میں ڈال دے گا، لیکن وہ آ گ خداوند کریم کی قدرت سے آپ کے لیے گلزار بن جائے گی، اس کے بعد دجال کسی بھی مردہ کو زندہ کرنے کی قدرت نہ پائے گا، اور یہاں سے ملک شام کی طرف روانہ ہو جائے گا، اور اس کے وہاں جانے سے پہلے حضرت امام مہدی ؓ دمشق آ چکے ہوں گے، اور دجال کے ساتھ جنگ کرنے کی تیاری کی، یعنی ترتیبِ فوج اور جنگی سامان تقسیم کریں گے کہ ایک دن لوگ نماز کی تیاری میں ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر تکیہ کیے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینارہ پر جلوہ افروز ہوں گے اور حضرت امام مہدی سے ملاقات فرمائیں گے، (صحیح مسلم شریف) اور امام مہدی نہایت انکساری اور خوش خلقی کے ساتھ آپ سے پیش آئیں گے، (مسلم شریف) اور فرمائیں گے، یانبی اللہ! امامت کیجیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارشاد فرمائیں گے کہ امامت تمھیں کرو، کیونکہ یہ عزت اسی امت کو خدا نے دی ہے۔ پس حضرت امام مہدی نماز پڑھائیں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ نماز سے فارغ ہو کر حضرت امام مہدی ؓپھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ یانبی اللہ! اب لشکر کا انتظام آپ کے سپرد ہے جس طرح آپ چاہیں، انجام دیں۔ وہ فرمائیں گے یہ کام آپ ہی انجام دیں، میں تو صرف دجال کو قتل کرنے کے لیے آیا ہوں، جس کا مارا جانا میرے ہی ہاتھ سے مقدر ہے۔ جب رات گزر جائے گی، تو صبح کو حضرت امام مہدی ؓ فوج لے کر میدان جنگ میں تشریف لائیں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے، کہ میرے لیے گھوڑا اور نیزہ لائو، تاکہ اس ملعون کے شر سے زمین کو پاک کر دوں۔ پس حضرت عیسیٰ دجال پر اور اسلامی فوج دجال کے لشکر پر حملہ آور ہوگی، اور خوب گھمسان کی جنگ ہوگی۔ اس وقت دم عیسوی میں یہ خاصیت ہوگی کہ جہاں تک آپ کی نظر جائے گی، وہاں تک ہی دمِ عیسوی مار کرے گی (مسلم شریف) اور جس کافر تک آپ کا سانس پہنچے گا تو وہ وہیں نیست و نابود ہو جایا کرے گا۔ دجال آپ کے مقابلہ سے بھاگے گا، آپ اس کا تعاقب کریں گے، اور مقامِ لُد میں جا لیں گے، اور نیزے سے اس کا کام تمام کر کے لوگوں پر اس کی ہلاکت کا اظہار کریں گے۔ کہتے ہیں، کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس کو قتل نہ بھی کرتے، تو بھی وہ آپ کے سانس سے اس طرح پگھل جاتا، جیسے نمک پانی میں۔ (صحیح مسلم، ابن ماجہ)

اسلامی فوج دجال کے لشکر کے قتل و غارت کرنے میں مشغول ہو جائے گی، اور ان یہودیوں کو جو دجال کے لشکر میں ہوں گے ان کو اس وقت کوئی چیز پناہ نہ دے گی، یہاں تک کہ اگر شام کے وقت کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں ان میں سے کوئی چھپا ہوگا، تو وہ درخت اور پتھر بھی آواز دے گا، کہ اے خدا کے بندو! اس یہودی کو پکڑو، اور اس کو قتل کرو، مگر درخت غرقدان کو پناہ دے کر چھپائے رکھے گا۔ زمین پر دجال کے شر و فساد کا زمانہ چالیس روز تک رہے گا، (ترمذی) جن میں ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینہ کے برابر، ایک دن ایک ہفتہ کے برابر، باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ دجال کا فتنہ ختم ہونے کے بعد حضرت امام مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن شہروں میں دجال نے فساد پھیلا رکھا تھا، دورہ فرمائیں گے۔ دجال سے تکلیف اٹھائے ہوئے لوگوں کو خدا کے یہاں اجرِ عظیم ملنے کی خوشخبری دے کر دلاسا و تسلی دیں گے، اور اپنے انعام و اکرام سے ان کے دنیاوی نقصانات کی تلافی کریں گے۔

خروج دجّال کے متعلق عقیدہ رکھنا کتنا اہم اور فتنۂ دجّال کی کتنی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ حدیث کی تمام مستند کتابوں میں اس کا ذکر تواتر سے موجود ہے۔ امام بخاری نے دجّال پر ایک خصوصی باب مختص کیاہے اور صحیح بخاری میں 51 مرتبہ دجّال کا ذکر آیا ہے۔ صحیح مسلم میں بھی دجّال پر ایک باب قائم ہے اور صحیح مسلم میں لفظ دجّال 65 مرتبہ مذکور ہے۔ سنن ابی دائود اور جامع ترمذی میں بھی دجّال پر ابواب موجود ہیں اور ان دونوں مجموعہ ہائے احادیث میں لفظ دجّال بالترتیب 28اور 33مرتبہ آیا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں لفظ دجّال 18 مرتبہ، مسند احمد میں 206 مرتبہ، مؤطا امام مالک میں 5 مرتبہ آیا ہے۔ امام ابو یعلیٰ، امام بزار، امام طبری، امام ابن ماجہ، امام ہیثمی رحمہم اللہ کے اپنے اپنے مرتب کردہ مجموعہ ہائے احادیث میں دجّال کا لفظ اتنی بار مذکور ہے کہ اس کی حیثیت ایک ذخیرے کی سی ہے اور ان کا شمار کرنا تقریباً ناممکن امر ہے۔ امام حاکم، امام قرطبی، نعیم بن حماد، ابن کثیر، علامہ برزنجی اور شیخ یوسف مقدسی کے مرتب کردہ مجموعہ ہائے احادیث میں بھی دجّال سے متعلق کثرت سے روایات موجود ہیں۔