قادیانیوں سے سوالات

خاتم النبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں؟

سوال نمبر:7     مرزاغلام احمد قادیانی کی کئی عبارات سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ دعویٔ نبوت سے پہلے مرزاغلام احمد قادیانی بھی خاتم النبیین کے معنی وہی سمجھتا تھا۔ جو چودہ صدیوں سے تمام دنیا کے مسلمان سمجھتے چلے آئے ہیں۔ جسے مرزاغلام احمد قادیانی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ:

قرآن کریم بعد خاتم النببیین(صلی اللہ علیہ وسلم) کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔                     (ازالہ اوہام ص411، خزائن ج3ص511)

اور دعویٔ نبوت کے بعد مرزاقادیانی خاتم النبیین کے دوسرے معنی بیان کرتا ہے۔ جس کی بناء پر نبوت کا جاری ہونا ضروری ہوگیا اور بقول مرزاجس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ شیطانی اور لعنتی مذہب کہلانے کا مستحق ہے۔    (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص138، خزائن ج21ص306)

جو شخص یہ کہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ وہ دین، دین نہیں اور نہ وہ نبی، نبی ہے۔                                                                                                                  (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ایضاً ج21ص306)

اب سوال یہ ہے کہ خاتم النبیین کے کون سے معنی صحیح ہیں؟ پس اگر خاتم النبیین کے جدید معنی صحیح ہیں تو یہ لازم آئے گا کہ چودہ صدیوں میں جس قدر بھی مسلمان گذر چکے وہ سب کافر اور بے ایمان مرے۔ گویا کہ عہد صحابہ کرامؓ سے لے کر اس وقت تک تمام امت کفر پر گزری اور دعویٔ نبوت سے پہلے خود مرزاقادیانی بھی جب تک اسی سابقہ عقیدہ پر رہا تو وہ خود کافر رہا اور پچاس برس تک جملہ آیات واحادیث کا مطلب بھی غلط سمجھتا رہا اور تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے، کہ جو شخص تمام امت کی تکفیر وتذلیل کرتا اور احمق وجاہل قرار دیتا ہو، وہ بالاجماع کافر اور گمراہ ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی بالاجماع کافر اور گمراہ ٹھہرا! اور اگر خاتم النبیین کے پہلے معنی صحیح ہیں جو تمام امت نے سمجھے اور مرزاقادیانی بھی دعویٰ نبوت سے پہلے وہی سمجھتا تھا تو لازم آئے گا کہ پہلے لوگ تو سب مسلمان ہوئے اور مرزاقادیانی دعویٰ نبوت کے بعد سابق عقیدہ کے بدل جانے کی وجہ سے خود اپنے اقرار سے کافر اور مرتد ہوگیا۔ اب مرزائی خود بتائیں کہ وہ کون سا معنی کرنا پسند کریں گے؟

نوٹ: یہ مسئلہ فریقین میں مسلّم ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔ خود مرزاقادیانی کی تصریحات اس پر موجود ہیں کہ جو شخص تشریعی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ (مجموعہ اشتہارات ج1 ص 231,230)

اختلاف صرف نبوت مستقلہ کے بارے میں ہے، کہ آیا وہ جاری ہے یا وہ بھی ختم ہوگئی؟ اس لئے اب اس کے متعلق فریق مخالف سے چند سوالات ہیں

1       مرزاقادیانی نے اوّل اپنی کتابوں میں تشریعی نبوت کے دعویٰ کو کفر قرار دیا اور پھر خود صراحتاً تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔ چنانچہ لکھا: اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور       حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اسی آیت کا مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (اعجاز احمدی ص7، خزائن ج19ص113) کیا یہ صریح تعارض اور تناقض نہیں؟ کیا مرزاقادیانی اپنے اقرار کی بناء پر کافر نہ ہوا؟

2       جب مرزاقادیانی تشریعی نبوت اور مستقل رسالت کا مدعی ہے تو پھر اس کا خاتم النبیین میں یہ تاویل کرنے اور غیرتشریعی نبی مراد لینے سے کیا فائدہ؟

3       نصوص قرآنیہ اور صدہا احادیث نبویہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مطلقاً نبوت کا انقطاع اور اختتام ثابت ہے۔ اس کے برعکس کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ جس میں یہ بتلایا گیا       ہو کہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت غیرمستقلہ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اگر ہے تو اسے پیش کیا جائے؟

4       نبوت غیرمستقلہ کے ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟

5       کیا وہ معیار حضرات صحابہؓ میں نہ تھا؟ اور اگر تھا جیسا کہ مرزاقادیانی کا اقرار ہے تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟

6       اس چودہ سوسال کی طویل وعریض مدت میں ائمہ حدیث وائمہ مجتہدین، اولیائ، عارفین، اقطاب وابدال، مجددین میں سے کوئی ایک شخص ایسا نہ گزرا جو علم وفہم، ولایت ومعروفت میں مرزاقادیانی کے ہم پلہ ہوتا؟ اور نبوت غیرمستقلہ کا منصب پاتا۔ کیا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امت میں سوائے قادیان کے دہقان کے کوئی بھی نبوت کے قابل نہ تھا؟

7       آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کئے۔ بعض ان میں سے تشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ جیسے صالح بن ظریف اور بہاء اﷲ ایرانی اور بعض غیرتشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ جیسے ابوعیسیٰ وغیرہ تو ان سب کے جھوٹا ہونے کی کیا دلیل ہے؟