قادیانیوں سے سوالات

کیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبی تھے؟

سوال نمبر:8  مرزائیو! اگر خاتم النبیین کا معنی نبیوں پر مہر ہے اور چودہ سو برس میں مہر لگی تو صرف (بقول مرزا) ایک نبی پر جیسا کہ خود مرزاقادیانی نے اپنی کتاب حقیقت الوحی میں لکھا ہے: پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔  (حقیقت الوحی ص193، خزائن ج22 ص406،407)

اب سوال یہ ہے کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں پر مہر اور وہ مہر لگی صرف مرزاقادیانی پر، جیسا کہ مذکورہ بالا مرزا کی عبارت بتلارہی ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ ہوئے۔ بلکہ خاتم النبی ہوئے۔ یعنی ایک نبی کے لئے مہر؟   یہ عقدہ حل کرو۔

خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی مہر         کا ثبوت؟

سوال نمبر:9  خاتم النبیین کا معنی اگر نبیوں کی مہر یا نبیوں پر مہر ہے۔ جیسا کہ اے مرزائیو! تم بتلاتے ہو اور یہی معنی مرزاقادیانی کرتا ہے تو کیا مرزاقادیانی سے پہلے امت مسلمہ کے مفسرین، ائمہ لغت نے یہ ترجمہ کیا ہے؟ اور یہ تفسیر جو مرزاقادیانی نے کی یا تم کرتے ہو۔ سابقہ کتب تفاسیر، اور کتب لغت سے تم اس کا ثبوت پیش کر سکتے ہو؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ بتلاسکتے ہو؟ کہ مرزاقادیانی کا کیا ہوا۔ ترجمہ اور تفسیر غلط ہے؟ اور کیا کہہ سکتے ہو کہ مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا ہے؟

اجراء نبوت پر کوئی آیت یا حدیث؟

سوال نمبر:10  قرآن کریم کی آیات اور احادیث کثیرہ سے مطلقاً نبوت مستقلہ ہو یا غیرمستقلہ، تشریعی نبوت ہو یا غیرتشریعی وغیرہ کا انقطاع اور اختتام ثابت ہوتا ہے۔ کیا قادیانی ایسی کوئی آیت یا حدیث پیش کر سکتے ہیں؟ جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے نبوت غیر مستقلہ یا غیرتشریعی ملنے کی صراحت ہو۔ اگر ہو تو پیش کی جائے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ہمت سے کام لے کر کہہ سکتے ہو؟ کہ مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے جھوٹ بولا ہے؟

نبوت غیرمستقلہ ملنے کے لئے معیار؟

سوال نمبر:11  ادیانی کہتے ہیں کہ مرزا کو نبوت غیرمستقلہ ملی تھی، اور یہی دعویٰ مرزاقادیانی اور مرزاقادیانی کے خلفاء نے کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ نبوت غیرمستقلہ ملنے کا معیار اور ضابطہ کیا ہے؟ نیز وہ معیار چودہ صدیوں کے اکابرین، بزرگان ملت، صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم میں پایا جاتا تھا یا نہیں؟ اگر پایا جاتا تھا تو وہ نبی کیوں نہ بنے؟ اور انہوں نے دعویٰ نبوت کیوں نہ کیا؟

کیا جھوٹا مدعی ٔ نبوت زندہ نہیں رہ سکتا؟

سوال نمبر:12  مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ہر گز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت کے موافق یعنی تیئس برس تک مہلت پاسکے۔ ضرور ہلاک ہو گا۔                           (اربعین نمبر4 ص5، خزائن ج17ص434)

مرزاقادیانی نے ۱۹۰۱ء میں دعویٰ نبوت کیا اور 1908ء میں آنجہانی جہنم مکانی ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی دعویٔ نبوت کے بعد تیئس برس تک مہلت نہ پاسکا۔ اس سے پہلے آنجہانی ہوگیا تو کیا باقرار خود جھوٹا ثابت ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو تمہارے ذمہ ہے اس کے جھوٹے ہونے کا اعلان؟ ورنہ اس کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے؟

کیا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ وحضرت عمررضی اللہ عنہم منصب نبوت کے لائق نہ تھے؟

سوال نمبر:13  مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی) میں لکھا ہے: اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا۔  

                                                                                                         (حقیقت الوحی ص391، خزائن ج22 ص406،407)

مذکورہ عبارت سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ نبوت (العیاذ باﷲ) حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزاقادیانی ملعون پر ختم ہوئی۔ مرزائیو! تم بتلاؤ! جو شخص صرف نبوت کا مدعی نہ ہو بلکہ ختم نبوت کا مدعی ہو تو وہ دجال وکذاب، کافر ومرتد ملحد وزندیق نہیں؟ نیز اس مدعی ختم نبوت کے پیروکاروں کا کیا حکم ہے؟ مرتد ہیں یا مسلمان؟ اور جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے؟۔علاوہ ازیں یہ بتائیں! جس منصب نبوت کے لئے مرزاقادیانی ملعون مخصوص کیاگیا ہے۔ اس منصب کے لئے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ وحضرت عمررضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی لائق نہ تھا؟ آخر اس منصب کے لئے کیا معیار ہے؟ جو مرزا ملعون کے علاوہ میں نہیں پایا جاتا؟